624
بڑا خوش نما یہ مقام ہے نئی زندگی کی تلاش کر
تو نہ اپنے ذہن کی بات کر نئی دوستی کی تلاش کر
ترے آسمان کا سر کبھی کسی اور زمین پہ جھک گیا
یہ ہوا تو ایسا ہوا ہی کیوں کبھی اس کمی کی تلاش کر
کبھی خواہشوں کے ہجوم میں جو پھسل گئے ہیں مرے قدم
جسے پی کے دہر سنبھل گیا اسی مے کشی کی تلاش کر
جو بہار کو بھی عزیز تھی وہی شام لطف و سرور کی
جسے سسکیوں کی نظر لگی اسی زندگی کی تلاش کر
جہاں آدمی کی بقا رہے جہاں فکر و فن کو جلا ملے
جہاں درد نو کا پتہ ملے وہاں آگہی کی تلاش کر
نہ اداس شام کے فلسفے نہ بہار صبح کی رونقیں
نہ اصل زیست کے زیر و بم نہ تو نغمگی کی تلاش کر
جو بھی گفتگو کا اصول ہے اسی بات کا تو خیال رکھ
نئی کائنات کی جستجو نئی روشنی کی تلاش کر
افروز عالم
