خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااحساس ۔ حصول سکون کا زریعہ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاویس خالد

احساس ۔ حصول سکون کا زریعہ

اویس خالد کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن اپریل 20, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 20, 2020 0 تبصرے 428 مناظر
429

احساس ۔ حصول سکون کا زریعہ

زندگی میں ہر انسان سکون کا متلاشی ہے۔ہر انسان اپنے ذہن میں سکون کا ایک معیار بناتا ہے اور اس کے حصول کی تگ و دو میں دن رات مارا مارا پھرتا ہے۔اتنی محنت شاقہ کرتا ہے کہ خود فراموش ہو جاتا ہے۔اور یہ سعی لا متناہی آپ کو معاشرے کے ہر کونے میں بلا دِقّت کھوج نظر آتی ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ جس شے کے حصول کے لئے محنت کی جائے، قانون قدرت ہے کہ بالاخر اس شے کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔لیکن اس معاملے میں ہمیشہ ہمیں الٹے نتائج ہی ملتے ہیں۔آپ کسی بھی انسان سے پوچھ لیں،وہ کہے گا کہ میں سکون چاہتا ہوں اور اسی سکون کی تلاش میں صبح سے شام تک مصروف عمل رہتا ہوں۔پھر پوچھیں۔۔کیا ملا؟جواب یقینا نفی میں ہو گا بلکہ قرین از قیاس ہے کہ یہ جواب ملے کہ اس چکر میں وہ سکون بھی کھو چکا ہوں جو پہلے دستیاب تھا۔اسی موقع کی مناسبت سے ایک بزرگ کی حکمت بھری بات یاد آگئی۔ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا حضور میں سکون چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا اس جملے کے شروع میں سے "میں ” اور آخر میں سے "چاہتا ہوں ” نکال دو۔”میں ” تکبر کی جبکہ "چاہتا ہوں "خواہش نفسانی کی علامت ہے۔پیچھے سکون باقی رہ جائے گا۔اتنی محنت کے باوجود اگر سکون میسر نہیں ہے تو یقینا اس کے درپردہ کوئی خاص سبب ہی ہو گا اور اگر اس وجہ کو تلاش کر کے اس خامی کو دور کر لیا جائے تو بلاشبہ اس محنت کا پھل حاصل کیا جا سکتا ہے۔فکر و تدبر،عقل و دانش اور ایجادات و اختراعات سے لبریز اس دور میں کون سا علم ہے جو انسان سے چھوٹ رہا ہے۔بات فقط اتنی ہے کہ بڑے بڑے عقدے کھولنے کے چکر میں ہم چھوٹی چھوٹی گرہیں کھولنا بھول گئے ہیں۔دنیا کا نظام ہے کہ ہر شے کو پانے کے لئے اس کے مقرر کردہ ٹھکانوں پر جانا پڑتا ہے جہاں وہ دستیاب ہوتی ہے۔ہر چیز ہر جگہ سے نہیں مل سکتی۔اسی طرح سکون کی ترسیل کا بھی ایک مقرر ٹھکانہ ہے اور ہم غلط پتے پرصحیح چیز کی تلاش میں غلط ہوئے پڑے ہیں۔کسی نے سمجھا سکون دولت میں ہے،وہ اسی کے پیچھے بھاگتا بھاگتادیوانہ ہو گیا مگر سکون کا نام و نشاں تک نہ ملا۔پھر اپنی عمر رواں گذار کر لگا دوسروں کو سمجھانے پر کون مانے۔کسی نے خیال کیا کہ سکون تو شہرت میں ملے گا۔اس نے اس کے پیچھے کمر کَس لی مگر وہ پہلے سے بھی کہیں ذیادہ بے سکون ہو گیا۔مشہور تو ہو گیا لیکن جینا دو بھر ہو گیا اور سادہ زندگی کو حسرت بنا کر ترسنے لگا۔غرض ہر شخص نے اپنے تئیں سکون کا مفہوم واضح کیا کسی نے یہ نہ سوچا کہ کیا منزل کی طرف سمت کا تعین درست بھی ہے کہ نہیں،بس اس کی تلاش میں بغیر سوچے سمجھے والہانہ بھاگنے لگا۔محض اس لیے کہ دوسروں کو بھی ایسے ہی اسی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا تھا۔آئیے سکون کے اصل ٹھکانے کا کھوج لگاتے ہیں۔ہم میں سے ہر شخص کے پاس دوسروں کے حصے کا سکون ہے جو ہم کسی بھی وجہ سے ان تک نہیں پہنچاتے۔اور اس وجہ سے ہر شخص کا سکون رکا ہوا ہے۔اگر ہم میں سے ہر شخص اپنے سکون کے حصول کی اندھا دھند دوڑ چھوڑ کر دوسروں کے حصے کا سکھ انہیں دینے لگے تو ہم سب کے پاس ہمارا سکون خود بخود ہی پہنچ جائے گا۔آسان سا فارمولا ہے۔
احساس دنیا کی وہ قیمتی دولت ہے جس کی بدولت حضرت انسان باقی تمام مخلوقات پر افسر ہے۔یہی دولت اسے نیابت الہی کے تخت پر براجمان رکھتی ہے۔یہ نہ رہے تو اصل خوبصورتی انسان کی از خود جاتی رہتی ہے۔اور بسا اوقات وہ دوسری مخلوقات سے بھی کم تر سطح پر آ جاتا ہے۔حکمرانوں کے پاس عوام کے حصے کا سکون ہے وہ ان تک پہنچانے کا درست بندوبست کر لیں تو سکون خود ان کے دلوں پر آکر دستک دے گا۔انھیں باڈی گارڈ رکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔نہایت آزمودہ تجربہ ہے کہ وہ سکون جو کسی حاجت مند کی حاجت روائی کر کے ملتا ہے وہ شاہی خزانوں کو تسخیر کرنے سے بھی نہیں ملتا۔آج معاشرے میں ہر لحاظ سے ترقی ہو رہی ہے۔ہر طرف علوم و فنون کی ندیاں بہہ رہی ہیں لیکن طغیانی میں احساس جیسا قیمتی شعار ڈوب کر ہمارا ناقابل تلافی نقصان بھی کر گیا ہے۔ہر شخص دوسرے کے درد سے غیر متعلقہ ہے۔دوسروں کے مصائب سے لا علم ہے۔اوروں کے کرب سے نا آشنا ہے۔اپنی منفعت و مصلحت کے بے مہار گھوڑوں کو دوڑاتا ہوا کتنے لوگوں کی آس،امید اور دعا کو قدموں تلے روند جاتا ہے،اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ہم ڈرامے میں تو کسی کا دکھ دیکھ کر رو پڑتے ہیں لیکن ساتھ والے کا دکھ ہمیں ڈرامہ لگتا ہے۔ہم اپنی سوچوں کے معیار کے زنداں میں باقی سب کو بھی قید کرنا چاہتے ہیں۔ اس روش کو بدلنا ہو گا۔ہمیں کچھ دیر اپنے سکون کے حصول کی دوڑ کو ترک کر کے دوسروں کو سکون پہنچانے کی نیت کرنا ہو گی۔حاجت روائی جو فقط اللہ پاک کی صفت ہے۔آپ اس امر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ االلہ پاک ہمیں خود اپنے فضل سے اپنی اس صفت سے مزین کرتا ہے اور دوسروں کی حاجت روائی کرتے ہوئے ان کے دکھ،سکھ میں شریک ہونے کا حکم دیتا ہے۔اس کے حکم کے مطابق اس کی دی ہوئی استطاعت کو بروئے کار لاتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو سکے،دوسروں کی چارہ جوئی کی جائے اور ان کے حصے کا سکھ ان تک پہنچنے میں رکاوٹ نہ بنا جائے۔سوچا جائے تو بنی نوع بشر کے لئے یہ کتنے اعزاز کا مقام ہے۔اور اگر اس کے الٹ چل پڑیں،جیسا کہ معاشرہ تہذیب نو کی چمکدار دلدل میں پھنس گیا ہوا ہے تو نتائج بھی ایسے ہی ہوں گے جیسے کہ اس وقت ہم بھگت رہے ہیں۔
خلوص،الفت،رواداری،بھائی چارہ،درگذر اور احساس کی دولت سے عاری ہم سب زندگی کے بوجھ تلے گھٹی گھٹی سانسیں لے رہے ہیں مگر کوئی اپنی انا اور خود غرضی کے خود ساختہ دائرے سے باہر نکل کر جینا ہی نہیں چاہ رہا۔اس سوچ نے پورے ماحول کو مایوس اور بد گمان بنا دیا ہے۔ہم کچھ لمحے اگر اپنی مصیبتوں سے فراغت پاتے بھی ہیں تو تفریح طبع کا ایک ہی زریعہ میسر آتا ہے کہ دوسروں کی عیب جوئی کر لی جائے یا کسی کی مصیبت پر خوشگوار انداز میں ماہرانہ تبصرہ فرما لیا جائے۔زندگی میں دوسروں کا احساس کرنے کے مواقع قدم قدم پر ملتے ہیں اور ہم ان کی قدر نہ کرتے ہوئے بے حسی کے قدموں تلے روندتے ہوئے آگے بڑھنے کو دانش مندی سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارا سکون بھی راستے میں کسی کے قدموں تلے روندا ہوا ملتا ہے۔سکون کسی بڑے مہنگے ہوٹل میں کھانا کھا کر نہیں ہوتا بلکہ الٹا اکثر اوقات یہ سوچ کر کہ کھانے کی اصلی قیمت سے زائد رقم دینی پڑی ہے تو اپنی بے وقوفی کا شدت سے احساس ہوتا ہے اور دل افسردہ ہو جاتا ہے۔یہی اگر راستے میں کسی بوڑھے کا بوجھ اٹھایا ہو یا کسی لاچار کی مدد کی ہو تو وہ راحت اور اطمینان محسوس ہو گا جو روح میں اترکر آپ کو اندر سے شادمان کر دے گا۔یہ سلسلہ جاری رہا تو نفس مطمئنہ والی منزل دور نہیں رہتی۔ اگرہم میں سے ہر شخص آپس میں آسانیاں بانٹنے والا بن جائے تو سارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ہر طرف سکون اور خوشحالی آ سکتی ہے۔ہر چہرہ مسکرا سکتا ہے۔پھر دیکھیں دنیاکیسی بھلی اور حسین لگے گی۔ آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارے پاس جو دوسروں کا سکون بطور امانت موجود ہے وہ اس تک پہنچانا ہے،پھر دیکھیں آپ کو اپنا سکون آپ کی اپنی دہلیز پہ مل جائے گا۔

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • حصے میں نمی ہجر کی
  • کماکے جو بھی لاتا ہے
  • حیاتِ رواں
  • بوئے خلوص ، عظمتِ انسان کھینچ کر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مجھ کو دن رات سوچنے والا
پچھلی پوسٹ
ڈپٹی نذیر احمد – وبا کے دنوں کا ادب

متعلقہ پوسٹس

”جہیز“

اپریل 4, 2021

شوہر کی ایکسپائیری عمر کیا ہے؟

اگست 28, 2022

مرے وجود کو موجودگی دکھاتی تھی

جون 8, 2020

آہ

جنوری 16, 2021

چھپکلی بے دیوار

دسمبر 17, 2019

دھوپ کمرے میں چلی

جون 12, 2024

خدانے اپنے شواہد پہ سوچنے دیا تو

جون 8, 2020

ماں

نومبر 6, 2020

میں نے ویرانے کو گلزار بنا رکھا ہے

مارچ 11, 2025

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سہ ماہی رسالہ گلوبل وادیٕ سخن

مئی 19, 2024

گاڈ سیو دا کنگ

مارچ 24, 2026

حافظ محمد نفیس

فروری 27, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں