297
مجھ کو دن رات سوچنے والا
کوئی ایسا ہو چاہنے والا
کچھ تو بولو کہاں گیا آخِر
مجھ سے احوال پوچھنے والا
میرے اندر بھی جھانک کر دیکھے
مجھ کو باہر سے دیکھنے والا
مجھ کو جانے نہ دے خفا ہو کر
وہ شرارت سے روٹھنے والا
اب نہیں ہے وفا کا دَور کہ جب
ساتھ دیتا تھا چاہنے والا
دُور جانے کی جستجو میں ہے
میرے قدموں کو روکنے والا
عمر بھر کے لیے محبت سے
ہے کوئی ہاتھ تھامنے والا؟
منزّہ سیّد
