413
خوش تھا وہ مجھ کو دربدر کر کے
مطمئن میں بھی ہوں سفر کر کے
یاد بن کر لہو سے گزرے ہو
رکھ گئے ہو مجھے کھنڈر کر کے
پیار کر کے مجھے تباہ کیا
یعنی کاٹا مجھے شجر کر کے
میں سمجھتا تھا تیری منزل ہوں
تُو بھی گزرا ہے رہگزر کر کے
اپنا حاصل ہے صرف محرومی
انتظار اُس کا عمر بھر کر کے
شاذ توڑا طلسمِ شب کس نے
بُجھ گیا کون یہ سحر کر کے
شجاع شاذ
