خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےاُترن
اردو افسانےاردو تحاریرواجدہ تبسم

اُترن

ایک اردو افسانہ از واجدہ تبسم

از سائیٹ ایڈمن اگست 30, 2019
از سائیٹ ایڈمن اگست 30, 2019 0 تبصرے 379 مناظر
380

اُترن
واجدہ تبسم

’’نکو اللہ، میرے کو بہوت شرم لگتی۔‘‘

’’ایو اس میں شرم کی کیا بات ہے؟ میں نئیں اتاری کیا اپنے کپڑے؟‘‘

’’اوں۔۔ چمکی شرمائی۔‘‘

’’اب اتارتی کی بولوں انا بی کو؟‘‘ شہزادی پاشا جن کی رگ رگ میں حکم چلانے کی عادت رچی ہوئی تھی، چلا کر بولیں۔

چمکی نے کچھ ڈرتے ڈرتے، کچھ شرماتے شرماتے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے پہلے تو اپنا کرتا اتارا، پھر پاجامہ ۔۔۔پھر شہزادی پاشا کے حکم پر جھاگوں بھرے ٹب میں ان کے ساتھ کود پڑی۔

دونوں نہا چکیں تو شہزادی پاشا ایسی محبت سے جس میں غرور اور مالکن پن کی گہری چھاپ تھی، مسکرا کر بولیں ، ’’ہور یہ تو بتا کہ اب تو کپڑے کون سے پین رئی؟‘‘

’’کپڑے۔؟‘‘ چمکی بے حد متانت سے بولی، ’’یہی اچ میرا نیلا کرتا پاجامہ۔‘‘

’’یہی اچ‘‘ شہزادی پاشا حیرت سے ناک سکوڑتے ہوئے بولیں۔

’’اتے گندے، بدبو والے کپڑے؟ پھر پانی سے نہانے کا فائدہ؟‘‘

چمکی نے جواب دینے کی بجائے الٹا ایک سوال جڑ دیا۔ ’’ہور آپ کیا پین رئے پاشا؟‘‘

’’میں ؟‘‘ شہزادی پاشا بڑے اطمینان اور فخر سے بولیں۔

’’وہ میری بسم اللہ کے دخت چمک چمک کا جوڑا دادی ماں نے بنائے تھے، وئی اچ۔مگر تو نے کائے کو پوچھی؟‘‘

چمکی ایک لمحے کو تو سوچ میں پڑ گئی، پھر ہنس کر بولی، ’’میں سوچ رئی تھی۔۔۔‘‘ وہ کہتے کہتے رک گئی۔

ایک دم ادھر سے انا بی کی چنگھاڑ سنائی دی۔

’’ہو پاشا، یہ میرے کو حمام میں بھگا لے کو تم اس اجاڑ مار چوٹّی کے ساتھ کیا مٹاخے مار لیتے بیٹھیں ؟ جلدی نکلو نئیں تو بی پاشا کو جاکو بولتیوں‘‘

اپنی سوچی ہوئی بات چمکی نے جلدی سے کہہ سنائی۔

’’پاشا میں سوچ رئی تھی کہ کبھی آپ ہور میں ’’اوڑھنی بدل‘‘ بہناں بن گئے تو آپ کے کپڑے میں بھی پہن لے سکتی نا؟‘‘

’’میرے کپڑے؟ تیرا مطلب ہے کہ وہ سارے کپڑے جو میرے صندوخاں بھر بھر کو رکھے پڑے ہیں ؟‘‘

جواب میں چمکی نے ذرا ڈر کر سر ہلایا۔

شہزادی پاشا ہنستے ہنستے دہری ہو گئی— ’’ایو کتی بے خوف چھوکری ہے! اگے تو تو نوکرانی ہے۔ تو تو میری اترن پہنتی ہے، ہور عمر بھر اترن ہی پہنیں گی۔‘‘ پھر شہزادی نے بے حد محبت سے جس میں غرور اور فخر زیادہ اور خلوص کم تھا، اپنا ابھی ابھی کا، نہانے کے لئے اتارا ہوا جوڑا اٹھا کر چمکی کی طرف اچھال دیا۔

’’یہ لے اترن پہن لے۔ میرے پاس تو بہوت سے کپڑے ہئیں۔‘‘

چمکی کو غصہ آ گیا۔ ’’میں کائے پہنوں ، آپ پہنو نا میرا یہ جوڑا۔‘‘ اس نے اپنے میلے جوڑے کی طرف اشارہ کیا۔

شہزادی پاشا غصے سے ہنکاری۔ ’’انا بی! انابی۔۔۔

انا بی نے زور سے دروازے کو بھڑ بھڑایا اور دروازہ جو صرف ہلکا سا بھڑا ہوا تھا، پاٹوں پاٹ کھل گیا۔

’’اچھا تو آپ صاحبان ابھی تک ننگے اچ کھڑے وے ہیں!‘‘ انا بی ناک پر انگلی رکھ کر بناوٹی غصے سے بولیں۔

شہزادی پاشا نے جھٹ اسٹینڈ پر ٹنگا ہوا نرم نرم گلابی تولیہ اٹھا کر اپنے جسم کے گرد لپیٹ لیا، چمکی یوں ہی کھڑی رہی۔

انا بی نے اپنی بیٹی کی طرف ذرا غور سے دیکھا، ’’ہور تو پاشا لوگاں کے حمام میں کائے کو پانی نہانے کو آن مری؟‘‘

’’یہ انوں شہزادی پاشا نے بولے کی تو بھی میرے ساتھ پانی نہا۔‘‘

انا بی ڈرتے ڈرتے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی دیکھ نہ رہا ہو۔ پھر جلدی سے اسے حمام سے باہر کھینچ کر بولیں۔ چل، جلدی سے جاکر نوکر خانے میں کپڑے پین ۔نئیں تو سردی وردی لگ گئی تو مرے گی۔

’’اب یہ چکٹ گوند کپڑے نکوپین، وہ لال پیٹی میں شہزادی پاشا پرسوں اپنا کرتا پاجامہ دیئے تھے، وہ جاکو پین لے۔‘‘

وہیں ننگی کھڑی کھڑی وہ سات برس کی ننھی سی جان بڑی گہری سوچ کے ساتھ رک رک کر بولی،’’امنی جب میں ہور شہزادی پاشی ایک برابر کے ہیں تو انوں میری اترن کیوں نئیں پہنتے؟‘‘

’’ٹھیر ذرا، میں مما کو جا کے بولتیوں کی چمکی میرے کو ایسا بولی۔‘‘

لیکن انا بی نے ڈر کر اسے گود میں اٹھا لیا۔ آگے پاشا انے تو چھنال پاگل ہولی ہو گئی ہے ایسے دیوانی کے باتاں کائے کو اپنے مما سے بولتے آپ؟ اس کے سنگات کھیلنا، نہ بات کرنا، چپ اس کے نام پوجو تو مار دیو آپ۔‘‘

شہزادی پاشا کو کپڑے پہنا کر، کنگھی چوٹی کر کے، کھانا وانا کھلا کر جب سارے کاموں سے نچنت ہو کر انا بی اپنے کمرے میں پہنچیں تو دیکھا کہ چمکی ابھی تک ننگا جھاڑ بنی کھڑی ہے۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ دیکھا آتے ہی انہوں نے اپنی بیٹی کو دھنکنا شروع کر دیا۔

’’جس کا کھاتی اسی سے لڑائیاں مول لیتی۔ چھنال گھوڑی۔ ابھی کبھی بڑے سرکار نکال باہر کر دیئے تو کدھر جائیں گے اتے نخرے؟‘‘

انا بی کے حسابوں تو یہ بڑی خوش نصیبی تھی کہ وہ شہزادی پاشا کو دودھ پلانے کے واسطے رکھی گئی تھیں۔ ان کے کھانے پینے کا معیار تو لازماً وہی تھا، جو بیگمات کا تھا کہ بھئی آخر وہ نواب صاحب کی اکلوتی بچی کو اپنا دودھ پلاتی تھیں۔ کپڑا لتا بھی بے حساب تھا کہ دودھ پلانے والی کے لئے صاف ستھرا رہنا لازمی تھا اور سب سے زیادہ مزے تو یہ تھے کہ ان کی اپنی بچی کو شہزادی پاشا کی بے حساب اترن ملتی تھی۔ کپڑے لتے ملنا تو ایک طے شدہ بات تھی، حد یہ کہ اکثر چاندی کے زیور اور کھلونے تک بھی اترن میں دے دیئے جاتے تھے۔

ادھر وہ حرافہ تھی کہ جب سے ذرا ہوش سنبھال رہی تھی، یہی ضد کئے جاتی تھی کہ میں بی پاشا کے اترن کیوں پہنوں ؟ کبھی کبھار تو آئینہ دیکھ کر بڑی سوجھ بوجھ کے ساتھ کہتی’’امنی میں تو بی پاشا سے بھی زیادہ خوبصورت ہوں نا؟ پھر تو انوں میری اترن پہنا نا؟‘‘

انا بی ہر گھڑی ہولتی تھیں۔ بڑے لوگ تو بڑے لوگ ہی ٹرہ ے۔ اگر کسی نے سن گن پالی کہ موئی انا نا اصل کی بیٹی ایسے ایسے بول بولتی ہے تو ناک چوٹی کاٹ کر نکال باہر نہ کر دیں گے؟ ویسے بھی دودھ پلانے کا زمانہ تو مدت ہوئی بیت گیا تھا۔ وہ تو ڈیوڑھی کی روایت کہئے کہ انا لوگوں کو مرے بعد ہی چھٹی کی جاتی تھی۔ لیکن قصور بھی معاف کئے جانے کے قابل ہو تو ہی معافی ملتی ہے ایسا بھی کیا؟ انا بی نے چمکی کے کان مروڑ کر اسے سمجھایا۔

’’آگے سے کچھ بولی تو یاد رکھ۔ تیرے کو عمر بھر بی پاشا کی اترن پہننا ہے سمجھی کی نئیں ، گدھے کی اولیاد!‘‘

گدھے کی اولیاد نے اس وقت زبان سی لی لیکن ذہن میں لاوا پکتا ہی رہا۔

تیرہ برس کی ہوئیں تو شہزادی کی پہلی بار نماز قضا ہوئی۔آٹھویں دن گل پوشی ہوئی تو ایسا زرتار، جھم جھماتا جوڑا مما نے سلوایا کہ آنکھ ٹھہرتی نہ تھی جگہ جگہ سونے کے گھنگھروؤں کی جوڑیاں ٹنکوائیں کہ جب بی پاشا چلتیں تو چھن چھن پازیبیں سی بجتیں۔ ڈیوڑھی کے دستور کے مطابق وہ حد سے سوا قیمتی جوڑا بھی اترن میں صدقہ دے دیا گیا۔ انا بی خوشی خوشی وہ سوغات لے کر پہنچیں تو چمکی جو اپنی عمر سے کہیں زیادہ سمجھ دار اور حساس ہو چکی تھی، دکھ سے بولی، ’’امنی مجبوری ناطے لینا ہور بات ہے مگر آپ ایسے چیزاں کو لے کو خوش مت ہوا کرو۔‘‘

’’اگے بیٹا۔‘‘ وہ راز داری سے بولیں۔’’یہ جوڑا اگر بکانے کو بھی بیٹھے تو دو سو کل دار روپے تو کہیں نئیں گئے۔ اپن لوگاں نصیبے والے ہیں کہ ایسی ڈیوڑھی میں پڑے۔‘‘

’’امنی۔‘‘ چمکی نے بڑی حسرت سے کہا۔ ’’میرا کیا جی بولتا کی میں بھی کبھی بی پاشا کو اپنی اترن دیوں؟‘‘

انا بی نے سر پیٹ لیا۔ "اگے تو بھی اب جوان ہو گئی گے ذرا علی پکڑ، ایسی ویسی باتاں کوئی سن لیا تو میں کیا کروں گی ماں۔ ذرا میرے بڈھے چونڈے پر رحم کر۔”

چمکی ماں کو روتا دیکھ کر خاموش ہو گئی۔

مولوی صاحب نے دونوں کو ساتھ ساتھ ہی قرآن شریف اور اردو قاعدہ شروع کرایا تھا۔ بی پاشا نے کم اور چمکی نے زیادہ تیزی دکھائی۔ دونوں نے جب پہلی بار قرآن شریف کا دور ختم کیا تو بڑی پاشا نے از راہ عنایت چمکی کو بھی ایک ہلکے کپڑے کا نیا جوڑا سلوا دیا تھا۔ ہر چند کہ بعد میں اسے بی پاشا کا بھاری جوڑا بھی اترن میں مل گیا تھا لیکن اسے اپنا وہ جوڑا جان سے زیادہ عزیز تھا۔ اس جوڑے سے اسے کسی قسم کی ذلت محسوس نہ ہوتی تھی۔ ہلکے زعفرانی رنگ کا سوتی جوڑا۔جو کتنے ہی سارے جگمگاتے، لس لس کرتے جوڑوں سے سوا تھا۔

اب جبکہ خیر سے شہزادی پاشا ضرورت بھر پڑھ لکھ بھی چکی تھیں ، جوان بھی ہو چکی تھیں، ان کا گھر بسانے کی فکریں کی جا رہی تھیں۔ ڈیوڑھی، سناروں، درزیوں، بیوپاریوں کا مسکن بن چکی تھی۔ چمکی یہی سوچے جاتی کہ وہ تو شادی کے اتنے بڑے ہنگامے کے دن بھی اپنا وہی جوڑا پہنے گی جو کسی کی اترن نہیں تھا۔

بڑی پاشا، جو واقعی بڑی مہربان خاتون تھیں، ہمیشہ اپنے نوکروں کا اپنی اولاد کی طرح خیال رکھتی تھیں۔اس لئے شہزادی کے ساتھ وہ چمکی کی شادی کے لئے بھی اتنی ہی فکرمند تھیں۔ آخر نواب صاحب سے کہہ کر انہوں نے ایک مناسب لڑکا چمکی کے لئے تلاش کر ہی لیا۔ سوچا کہ شہزادی پاشا کی شادی کے بعد اسی جھوڑ جھمکے میں چمکی کا بھی عقد پڑھا دیا جائے۔

اس دن جب شہزادی پاشا کے عقد کو صرف ایک دن رہ گیا تھااور ڈیوڑھی مہمانوں سے ٹھسا ٹھس بھری پڑی تھی اور لڑکیوں کا ٹڈی دل ڈیوڑھی کو سر پر اٹھائے ہوئے تھا، اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں بیٹھی ہوئی شہزادی پاشا پیروں میں مہندی لگواتے ہوئے چمکی سے کہنے لگی، ’’تو سسرال جائے گی تو تیرے پیروں کو میں مہندی لگاؤں گی۔‘‘

’’ایو خدا نہ کرے!‘‘ انابی نے پیار سے کہا۔ ’’اس کے پانواں آپ کے دشمناں چھوئیں ۔آپ ایسا بولے سو بس ہے۔ بس اتی دعا کرنا پاشا کہ آپ کے دولہے میاں ویسا شریف دولہا اس کا نکل جائے۔‘‘

’’مگر اس کی شادی کب ہو رئی جی؟‘‘ کوئی چلبلی لڑکی پوچھ بیٹھی۔

شہزادی پاشا وہی بچپن والی غرور بھری ہنسی ہنس کر بولیں، "میری اتی ساری اترن نکلے گی تو اس کا جہیز تیار سمجھو”۔۔۔

اترن۔ اترن۔ اترن۔۔۔ کئی ہزار سوئیوں کی باریک باریک نوکیں جیسے اس کے دل کو چھید گئیں ۔ وہ آنسو پیتے ہوئے اپنے کمرے میں آ کر چپ چاپ پڑ گئی۔

سر شام ہی لڑکیوں نے پھر ڈھولک سنبھال لی۔ ایک سے ایک واہیات گانا گایا جا رہا تھا۔ پچھلی رات ،رات جگا ہوا تھا۔ آج پھر ہونے والا تھا۔ پرلی طرف صحن میں ڈھیروں چولہے جلائے، باورچی لوگ انواع و اقسام کے کھانے تیار کرنے میں مشغول تھے۔ ڈیوڑھی پر رات ہی سے دن کا گمان ہو رہا تھا۔

چمکی کا روتا ہوا حسن نارنجی جوڑے میں اور کھل اٹھا۔ یہ جوڑا وہ جوڑا تھا، جو اسے احساس کمتری کے پاتال سے اٹھا کر عرش کی بلندیوں پر بٹھا دیتا تھا۔ یہ جوڑا کسی کی اترن نہیں تھا۔ نئے کپڑوں سے سلا ہوا جوڑا، جو اسے زندگی بھر ایک ہی بار نصیب ہوا تھا، ورنہ ساری عمر تو شہزادی پاشا کی اترن پہنتے ہی گزری تھی۔ اور اب چونکہ جہیز بھی تمام تر ان کی اترن ہی پر مشتمل تھا اس لئے باقی کی ساری عمر بھی اسے اترن ہی استعمال کرنی ہو گی۔

"لیکن بی پاشا! ایک سید زادی کہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ وہ تم بھی دیکھ لینا۔ تمے ایک سے ایک پرانی چیز مجھے استعمال کرنے کو دیئے نا؟ اب تم دیکھنا”۔۔۔

ملیدے کا تھال اٹھائے وہ دولہا والوں کی کوٹھی میں داخل ہوئی۔ ہر طرف چراغاں ہو رہا تھا۔ یہاں بھی وہی چہل پہل تھی، جو دلہن والوں کے محل میں تھیں، صبح ہی عقد خوانی جو تھی۔

اتنے ہنگامے اور اتنی بڑی کوٹھی میں کسی نے اس کا نوٹس بھی نہ لیا ۔پوچھتی پاچھتی وہ سیدھی دولہا میاں کے کمرے میں جا پہنچی۔ ہلدی مہندی کی ریتوں رسموں سے تھکے تھکائے دولہا میاں اپنی مسہری پر دراز تھے۔ پردہ ہلا تو وہ مڑے۔اور دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔

گھٹنوں تک لمبا زعفرانی کرتا۔ کسی کسی پنڈلیوں پر منڈھا ہوا تنگ پاجامہ، ہلکی ہلکی کامدانی کا کڑھا ہوا زعفرانی دوپٹہ۔ روئی روئی، بھیگی بھیگی گلابی آنکھیں۔ چھوٹی آستینوں والے کرتے میں سے جھانکتی گداز بانہیں، بالوں میں موتیا کے گجرے پروئے ہوئے۔ ہونٹوں پر ایک قاتل سی مسکراہٹ۔ یہ سب نیا نہیں تھا، لیکن ایک مرد جس کی پچھلی کئی راتیں کسی عورت کے تصور میں بیتی ہوں۔ شادی سے ایک رات پہلے بہت خطرناک ہو جاتاہے۔چاہے وہ کیسا ہی شریف ہو۔

رات جو دعوت گناہ ہوتی ہے۔

تنہائی جو گناہوں کی ہمت بڑھاتی ہے۔

چمکی نے انہیں یوں دیکھا کہ وہ جگہ جگہ سے ’’ٹوٹ‘‘ گئے۔ چمکی جان بوجھ کر مونہہ موڑ کر کھڑی ہو گئی۔ وہ تلملائے سے اپنی جگہ سے اٹھے اور ٹھیک اس کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔ آنکھوں کے گوشوں سے چمکی نے انہیں یوں دیکھا کہ وہ ڈھیر ہو گئے۔

’’تمہارا نام؟‘‘ انہوں نے تھوک نگل کر کہا۔

’’چمکی!‘‘ اور ایک چمکیلی ہنسی نے اس کے پیارے پیارے چہرے کو چاند کر دیا۔

’’واقعی تم میں جو چمک ہے اس کا تخاضا یہی تھا کہ تمہارا نام چمکی ہوتا۔۔۔‘‘

انہوں نے ڈرتے ڈرتے اپنا ہاتھ اس کے شانے پر رکھا۔ خالص مردوں والے لہجے میں، جو کسی لڑکی کو پٹانے سے پہلے خواہ مخواہ کی ادھر ادھر کی ہانکتے ہیں لرزتے ہوئے اپنا ہاتھ شانے سے ہٹا کر اس کے ہاتھ کو پکڑتے ہوئے بولے’’یہ تھال میں کیا ہے؟‘‘

چمکی نے قصداً ان کی ہمت بڑھائی۔’’آپ کے واسطے ملیدہ لائی ہوں، رت جگا تھانہ رات کو!‘‘ اور اس نے تلوار کے بغیر انہیں گھائل کر دیا۔ ’’مونہہ میٹھا کرنے کو۔‘‘ وہ مسکرائی۔

’’ہم ملیدے ولیدے سے منہ میٹھا کرنے کے خائل نہیں ہیں۔ ہم تو۔۔۔ ہاں۔۔۔‘‘ اور انہوں نے ہونٹوں کے شہد سے اپنا منہ میٹھا کرنے کو اپنے ہونٹ بڑھا دیئے۔ اور چمکی ان کے بانہوں میں ڈھیر ہو گئی۔ ان کی پاکیزگی لوٹنے۔ خود لٹنے۔ اور انہیں لوٹنے کے لئے۔

وداع کے دوسرے دن ڈیوڑھی کے دستور کے مطابق جب شہزادی پاشا ان کی اترن اپنا سہاگ کا جوڑا اپنی انا اپنی کھلائی کی بٹیا کو دینے گئیں ، تو چمکی نے مسکرا کر کہا:

"پاشا! میں ،میں۔۔۔ میں زندگی بھر آپ کی اترن استعمال کرتی آئی۔ مگر اب آپ بھی۔۔۔

اور وہ یوں دیوانوں کی طرح ہنسنے لگی۔ ’’میری استعمال کری ہوئی چیز اب زندگی بھر آپ بھی۔۔۔‘‘ اس کی ہنسی تھمتی ہی نہ تھی۔

سب لوگ یہی سمجھے کہ بچپن سے ساتھ کھیلی سہیلی کی جدائی کے غم نے عارضی طور سے چمکی کو پاگل کر دیا ہے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سودا کی قصیدہ نگاری
  • جدید ٹیکنالوجی اور معصوم طلباء
  • وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب!
  • جدید غزل کا درخشندہ ستارہ شہزاد نیّرؔ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شور سا ایک ہر اک سمت بپا لگتا ہے
پچھلی پوسٹ
پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے

متعلقہ پوسٹس

اک ترے آنے کے بعد

مئی 25, 2024

حرفِ تسلی

جنوری 24, 2020

میری شادی کرادو

جولائی 16, 2022

جوازِ عیدِ میلاد النبیؐ

اکتوبر 19, 2021

ماہِ صفر کے متعلق ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ

ستمبر 25, 2020

طلاق کے اہم شرعی مسائل

نومبر 26, 2020

میری کہانی

جون 5, 2024

اسلامی اِنقلاب اور ادب

دسمبر 15, 2019

جنوبی پنجاب میں سیلاب

ستمبر 15, 2025

دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم

جون 9, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

روح اور بدن

نومبر 3, 2025

بھارتی توپیں

اکتوبر 28, 2023

دیکھ کبیرا رویا

فروری 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں