343
کوئی بھی شکل مرے دل میں اتر سکتی ہے
اک رفاقت میں کہاں عمر گزر سکتی ہے
تجھ سے کچھ اور تعلق بھی ضروری ہے مرا
یہ محبت تو کسی وقت بھی مر سکتی ہے
میری خواہش ہے کہ پھولوں سے تجھے فتح کروں
ورنہ یہ کام تو تلوار بھی کر سکتی ہے
ہو اگر موج میں ہم جیسا کوئی اندھا فقیر
ایک سکے سے بھی تقدیر سنور سکتی ہے
صبح دم سرخ اجالا ہے کھلے پانی میں
چاند کی لاش کہیں سے بھی ابھر سکتی ہے
اظہر فراغ
