491
گلابی سورج
میں سورہی تھی
گلابی سورج مری نگاہوں پہ پڑ رہا تھا
وہ کہہ رہا تھا
قریب آؤ نظر ملاؤ اور اپنے حصے کے خواب لے لو
میں بند آنکھوں سے اس کی جانب
قدم بڑھا کے کھڑی ہوئی ہوں
میں اپنے خوابوں میں ساتھ پانے پر
اس سے اس کا اڑی ہوئی ہوں
کہ پھر اچانک گلابی کرنوں نے رنگ بدلا
سنہری سبزے نے آنکھ کھولی
مری نگاہوں نے چاہا اس پل کہ بھر لوں جھولی
جھپک کے پلکیں میں اتنا بولی
ہے منظور مجھ کو جو تیری رضا ہو
اٹھے میری میت سجے میری ڈولی
کہیں سے اڑتے میرے لبوں پہ گلاب آئے
اور میرے حصے میں بہتے جھرنوں سے خواب آئے
میں ان گلابوں کی شدتوں میں پگھل گئی ہوں
میں خواب پلو سے باندھے سارےنئے سفر پہ نکل گئی ہوں
سلمیٰ سیّد
