111
چاندنی کے ہالے میں کس کو کھوجتی ہو تم
چاندنی کے ہالے میں کس کو کھوجتی ہو تم
چھپ کے یوں اداسی میں کس کو سوچتی ہو تم
بار بار چوڑی کے سُر کسے سناتی ہو
شور سے صدا کس کی توڑ توڑ لاتی ہو
بزم میں بہاروں کی، کھوئی کھوئی لگتی ہو
دوستوں کے مجمع میں ، کیوں اکیلی رہتی ہو
موج موج بہتی ہو، آنسوؤں میں رہتی ہو
جھالروں سے پلکوں کی، ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہو
بلبلے کی صورت میں پھوٹ پھوٹ جاتی ہو
دھند سے لپٹ کر کیوں، سونی راہ تکتی ہو
کھڑکیوں سے برکھا کو، دیکھ کر بلکتی ہو
سارے سپنے آنکھوں سے ، ایک بار بہنے دو
رات کی ابھاگن کو تارہ تارہ گہنے دو
فرزانہ نیناں
