104
بزدلوں کے نیچے کبھی افلاک نہیں ہوتا
ہیرا گر ٹوٹ بھی جاۓ تو خاک نہیں ہوتا
میری موت پے روتے ہیں مجھ پےہنسنے والے
اور ایک ستمگر ہے جو نمناک نہیں ہوتا
اب تھم تھم کر کہتی ہے وحشتے تنہائی
نفس کے تقاضوں پے چاک نہیں ہوتا
بہت مشکل ہے دل شکستہ کی معافی
معافی مانگنے سے غم کا ادراک نہیں ہوتا
لوگ کہتے ہیں کہ رایگاں جاۓ گا یہ سفر
دل کہتا راہ عشق میں خاشاک نہیں ہوتا
نگار فاطمہ انصاری
