102
بن مانگے مل رہا ہو تو خواہش فضول ہے
سورج سے روشنی کی گزارش فضول ہے
کسی نے کہا تھا ٹوٹی ہوئی ناؤ میں چلو
دریا کے ساتھ آپ کی رنجش فضول ہے
نابود کے سراغ کی صورت نکالئے
موجود کی نمود و نمائش فضول ہے
میں آپ اپنی موت کی تیاریوں میں ہوں
میرے خلاف آپ کی سازش فضول ہے
اے آسمان تیری عنایت بجا مگر
فصلیں پکی ہوئی ہوں تو بارش فضول ہے
جی چاہتا ہے کہہ دوں زمین و زماں سے میں
منزل اگر نہیں ہے تو گردش فضول ہے
انعام ننگ و نام مرے کام کے نہیں
مجذوب ہوں سو میری ستائش فضول ہے
شاہد ذکی
