خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےمیرا بچہ
اردو افسانےاردو تحاریرکرشن چندر

میرا بچہ

کرشن چندر کا ایک افسانہ

از سائیٹ ایڈمن مارچ 22, 2020
از سائیٹ ایڈمن مارچ 22, 2020 0 تبصرے 581 مناظر
582

میرا بچہ

یہ میرا بچہ ہے۔ آج سے ڈیڑھ سال پہلے اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ آج سے ڈیڑھ سال پہلے یہ اپنی ماں کے سپنوں میں تھا۔ میری تند و تیز جنسی خواہش میں سو رہا تھا۔ جیسے درخت بیج میں سویا رہتا ہے۔ مگر آج سے ڈیڑھ برس پہلے اس کا کہیں وجود نہ تھا۔

حیرت ہےاب اسے دیکھ کر، اسے گلے سے لگا کر، اسے اپنے کندھے پر سلا کرمجھے اتنی راحت کیوں ہوتی ہے۔ بڑی عجیب راحت ہے یہ۔ یہ راحت اس راحت سے کہیں مختلف ہے جو محبوب کو اپنی بانہوں میں لٹا لینے سے ہوتی ہے، جو اپنی من مرضی کا کام سر انجام دینے سے ہوتی ہے، جو ماں کی آغوش میں پگھل جانے سے ہوتی ہے، یہ راحت بڑی عجیب سی راحت ہے۔ جیسے آدمی یکایک کسی نئے جزیرے میں آنکلے، کسی نئے سمندر کو دیکھ لے، کسی نئے افق کو پہچان لے۔ میرا بچہ بھی ایک ایسا ہی نیا افق ہے۔ حیرت ہے کہ ہر پرانی چیز میں ایک نئی چیز سوئی رہتی ہے اور جب تک وہ جاگ کر سر بلند نہ ہولے کوئی اس کے وجود سے آگاہ نہیں ہو سکتا۔ یہی تسلسل مادے کی بنیاد ہے اس کی ابدیت کا مرکز ہے۔ اس سے پہلے میں نے اس نئے افق کو نہیں دیکھاتھا لیکن اس کی محبت میرے دل میں موجود تھی۔ میں اس سے آگاہ نہ تھا مگر یہ میری ذات میں تھی۔ جیسے یہ بچہ میری ذات میں تھا محبت اور بچہ اور میں۔ تخلیق کے جزبے کی تین تصویریں ہیں۔

بچے سبھی کو پیارے معلوم ہوتے ہیں مجھے بھی اپنا بچہ پیارا ہے، شاید دوسرے لوگوں کے بچوں سے زیادہ پیارا ہے۔ اپنے آپ سے پیارا نہیں مگر اپنے آپ کے بعد اور بھی کئی چیزیں ہیں، کئی جزبے ہیں، انا کی کتنی ہی تفسیریں ہیں جن کے بعد یہ بچہ مجھے پیارا ہے۔ یہ تو کوئی بڑی عجیب اور انوکھی بات نہیں ہے میں دن میں اپنا کام کرتا ہوں اور یہ بچہ مجھے بہت کم یاد آتا ہے اور جب یہ سامنے ہوتا ہے اس وقت بہت کم کام مجھے یاد آتے ہیں۔ یہ سب ایک نہایت ہی عام بات سی ہے۔ ہر ماں او رہر باپ اس فطری جزبے سے آگاہ ہے اس میں تو کوئی نئی بات نہیں لیکن دنیا میں ہر بار کسی بچے کا مرض وجود میں آنا ایک نئی بات ہے۔ چاہے وہ بادشاہ کا بچہ ہو یا کسی غریب لکڑہارے کا۔ ہر بچہ اک نئی حیرت ہے انسانیت کے لئے، تہذیب کے لئے، حال کے لئے، مستقبل کے لئے، وہ ایک خاکہ جس میں رنگ بھرا جائے گا ، جس میں نقوش ابھارے جائیں، جس کے گرد سماج کا چوکھٹا لگایا جائے گا۔ اس خاکے کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے، دل میں تجسس اور تخیل میں اڑان پیدا ہوتی ہے۔ بڈھے کو دیکھ کر تخیل پیچھے کو دوڑتا ہے، بچے کو دیکھ کر آگے بڑھتا ہے بڈھا پرانا ہے، تو بچہ پرنیا ہے، ایک ماضی ہے تو دوسرا مستقبل ہے، لیکن تسلسل لئے ہوئے۔ تخیل کی ریل گاڑی انہی دو اسٹیشنوں کے درمیان آگے پیچھے چلتی رہتی ہے۔

کس قدرتحیر، عجیب وغریب نیا حادثہ ہےیہ بچہ۔ ایک تو اس کی اپنی شخصیت ہے پھر اس کے اندر دو اور شخصیتیں ہیں۔ ایک اس کی ماں کی دوسری اس کے باپ کی۔ اور پھر دو شخصیتوں کے اندر نہ جانے اور کتنی شخصیتیں چھپی ہوئی ہونگی۔ اور ان سب نے مل کر ایک نیا خمیر اٹھایا ہوگا یہ خمیر کیسا ہوگا، ابھی سے کوئی کیا کہہ سکتا ہے اس بچہ کو دیکھ کے جو اس وقت ’جا!جا!جا! ‘ کہتا ہے اور پھر ہنس کر انگوٹھا چوسنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اس چہرے میں میرا تبسم ہے، میری ٹھوڑی ہے، وہی ہونٹ ہیں وہی ماتھا، بھویں اور آنکھیں ماں کی ہیں اور کان بھی لیکن کوئی چیز پوری نہیں، ساری نہیں، مکمل نہیں، بس ملتی ہوئی۔ ان سب کے پس پردہ ایک نیا پن ہے، ایک نیا انداز ہے، ایک نئی تصویر ہے۔ یہ تصویر ہمیں اور ہم اسے حیرت سے تک رہے ہیں ۔ شاید اس کے اندر ہندو کلچر اور تہذیب کا مزاج موجود ہوگا۔ باپ کا غرور اور ماں کا بھولاپن موجود ہوگا لیکن ابھی سے میں کیا کوئی بھی کیا کہہ سکتا ہے اس کے بارے میں۔ یہ ایک نئی چیز ہے جیسے ایٹم کے وہی ذرے مختلف انداز سے مل کر مختلف دھاتیں بن جاتے ہیں۔ کوئی اس بچے کے متعلق بھی کہہ سکتا ہے۔

جہاں انسان ہر نئی چیز کو حیرت سے دیکھتا ہے وہاں وہ ہر نئی چیزیں اپنی جانی پہچانی چیزیں ڈھونڈ کر اسے پرانا بناتا رہتا ہے۔ یہ عمل ہر وقت جاری رہتاہے۔ شاید میں بھی اپنے بچے میں اپنے مطلب کی تصویریں دیکھتا ہوں۔ اور ان میں رنگ بھرنے کی کو شش کرتا رہتا ہوں۔ دنیا میں بہت سے خاکے اسی طرح بھرے جاتے ہیں اور ماضی اور حال اور مستقبل کی اسی طرح تعمیر ہوتی رہتی ہے۔ بوقلموں رنگوں سے اس بچے کی دنیا آباد ہوتی ہے کچھ رنگ آمیزی کرتا ہے، کچھ ماں باپ کرتے ہیں، کچھ اس کی اپنی شخصیت بروئے کار آتی ہے اور اس طرح یہ تصویر مکمل ہوتی جاتی ہے۔ مگر کبھی پوری طرح مکمل نہیں ہوتی کیونکہ موت کی سیاہی بھی تو ایک رنگ ہی ہے۔ انسان کی تقدیریں اور اس ساری کائنات کی تقدیریں آخری برش آج تک کسی نے نہیں لگایا۔ ارتقاء کی آخری کڑی کوئی نہیں ہے۔ حیرت بڑھتی جاتی ہے۔

لیکن رنگ آمیزی کہیں نہ کہیں سے تو شروع ہوگی ۔ اس خاکے میں رنگ بھرا جائے گا۔ اب جب یہ رویا تھا اور آیا نے اسے شہد چٹایا تھا، تو برش کی پہلی حنیش معرض عمل میں آئی تھی۔ پھر اس نے کپڑے پہنے ، اور اس کے کانوں میں وید منتر پھونکے گئے، اور ماں نے پنجابی زبان میں لوری سنائی اور باپ نے ہنس کر انگریزی زبان میں اس سے بات کی ۔ اور باپ کے مسلمان دوست اسے اپنے سینے سے لگائے لگائےگھومے۔ یہ تصویر کہیں گڈ مڈ تو نہ ہو جائیگی۔ ماضی پرانا ہے، لیکن حال ناآسودہ ہے، مستقبل کیا ہوگا، یہ بچہ کدھر جا رہا ہے۔

سوال کوئی نیا نہیں۔ ہر صدی میں، ہر برس میں، ہر ماہ میں، ہر روز ہر لمحہ یہی سوال انسانیت کے سامنے پیش آتا ہے۔ یہ نیا لمحہ جو افق کے پھلانگ کے سامنے موجود ہوا ہے، کیا ہے؟ کس کی غمازی کر رہا ہے، تاریخ کے کس دھارے کا مظہر ہے، اس آگ کو ہم کیسے باندھ سکتے ہیں، اس شعلے کی تربیت کیوں کر ممکن ہے۔ عام لوگوں کے لئے امام دین اور گنگا رام کے لئے شاید یہ سوال اہم نہیں ہے۔ امام دین کا بیٹا فتح دین ہوگا اور گنگا رام کا سپوت جمنا رام ہوگا ۔ سیدھا سادا دستور یہ ہے کہ ہر نئی چیزکو ماضی کے ساتھ جکڑ دیا جائے نہایت آسان بات ہے۔ کیونکہ ماضی جانی بوجھی سوچی سمجھی ہوئی کہانی ہے۔ وہ آنے والا تجربہ نہیں۔ گزرنے والا تجربہ ہے۔ ایک ایسا مشاہدہ جو تکمیل کو پہنچ گیا جس کی نیکی بدی کی حدود انسانی اوراک کے جغرافیئے میں درج کردی گئی ہیں۔ یہ کام سب سے آسان ہے اور دنیا یہی کرتی ہے اور حیرت اور سچائی اور نیکی اور ترقی کا شب و روز خون کرتی ہے۔

شاید مجھے بھی یہی کرنا چاہئے مگر ابھی تلک تو یہ بچہ میرے لئے اتنا بنا ہے کہ میں اس خاکے کو چھوتے ہوئے ڈرتا ہوں۔ اس کے نام ہی کو لے لیں۔ ہر روز اصرار ہوتا ہے، بیوی بھی کہتی ہے، احباب بھی پھوچھتے ہیں، اس کا نام کیا ہے؟ اس کا نام تو کچھ رکھو، میں سوچتا ہوں اس کا نام، اس کا نام میں کیا رکھوں؟ پہلے تو یہی سوچنا ہے کہ مجھے اس کا نام رکھنے کا بھی کوئی حق ہے؟ کسی دوسرے کی شخصیت پر میں اپنی پسند کیسے جڑدوں، بڑی مشکل بات ہے، بالفرض محال میں اس غاصبانہ بے انصافی پر راضی بھی کر دیا جاؤں۔ تو اس کا نام کیا رکھوں؟ اس کی دادی کو شرون کمار نام پسند ہے۔ اور اس کی ماں کو دلیپ سنگھ۔ میرے ذہن میں تین اچھے نام آتے ہیں۔رنجن، اسلم، ہنری،صوتی اعتبار سے یہ نام بڑے پیارے ہیں۔ کم ازکم مجھے اچھے معلوم ہوتے ہیں لیکن صوتی اعتبار کے علاوہ سیاسی اور مذہبی الجھنیں بھی ان ناموں کے ساتھ لپٹی ہوئی ہیں۔ کاش کوئی ایسا نام ہو جو ان الجھنوں سے الگ رہ کر اپنی شخصیت رکھتا ہو۔رنجن ہندو ہے، اسلم مسلمان ہے، ہنری عیسائی ہے۔ یہ لوگ ناموں کو اس قدر محدود کیوں کر دیتے ہیں۔ اس قدر کمینہ کیوں بنادیتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے یہ نام نہیں ہے پھانسی ہے، پھانسی کی رسی ہے جو زندگی سےموت تک بچے کے گلے میں لٹکتی رہتی ہے جو آزادی دے سکے۔ ایسا نہیں جو کسی قسم کی سیاسی مذہبی سماجی غلامی عطا کرتا ہو پھر وہ نام کیا ہو، یہاں آکر ہمیشہ گھر میں اور دوست احباب میں جگھڑا شروع ہوجاتا ہے اور میں سوچتا ہوں ابھی میں اس کا نام کیوں رکھوں، کیوں نہ اسے خود موقعہ دوں کہ بڑے ہو کر یہ اپنا نام خود تجویز کر لے۔ پھر چاہے یہ اپنا نام ٹرارام، کو مل گندھار یا عبدالشکور رکھتا پھرے مجھے اس سے کیا واسطہ۔

برش تذبذب میں ہے کہ کون رنگ بھرے۔ نام کو چھوڑئیے مذہب کو لیجئے، ہندو کلچر میں ڈوبا ہوا گھر بیٹے کو اسی رنگ میں رنگے گا اسلامی کلچر کا فرزندضرور مسلمان ہوگا یعنی ماں باپ کی یہی خواہش ہوتی ہے۔ مگر یہ تو بڑی عجیب سی بات ہوئی کہ آپ نے پچیس برس تک اپنے فرزند کو ایک اپنے ہی پرانے ڈھرے پر چلانے کی کوشش کی۔ اور اس کے بعد یکایک خیالات نے جو پلٹا کھایا تو ہندو مسلمان، مسلمان عیسائی، اور عیسائی کمیونسٹ ہو گیا۔ اعتقادات زندگی کے دیکھنے سے بنتے ہیں نہ کہ دماغ پر ٹھونسنے سے۔ یعنی کون سا طریقہ بہتر ہے اب تک تو دوسرا طریقہ رائج ہے یعنی زبردستی ٹھونسم ٹھانس اور اس کے بعد عادت ثانیہ، دادا ہندو، باپ ہندو، بیٹا ہندو۔ خمیر پہلے ایک قدم اٹھاتی ہے پھر دوسرا، پھر تیسرا، اور پھر اسی راستے پر اسی طرح انہیں قدموں پر چلتی جاتی ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتی کہ راستے میں دائیں طرف گھاس ہے، مکھن پیالوں کے پھول ہیں، بائیں طرف چیل کے درخت ہیں، راستے میں چٹانوں پر خوش الحان طیور اپنے رنگین پروں کو سنوارے بیٹھے ہیں۔ فضا میں نشے کی بارش ہے، آسمان پربادلوں کے پریزاد ہیں، نہیں یہ سب کچھ نہیں ہے بس خچر کے لئے تو قدموں کی مسلسل زنجیر ہے اور مالک کا چابک۔ ہر بیٹا اپنے باپ کا چابک کھاتا ہےاور خچر کی طرح پرانے راستے پر چلتا ہے تو پھر نئے راستے کیسے دریافت ہوگے اور ہر پرانی منزل پر کیسے گامزن ہو سکیں گے، شاید مجھے اس چابک کو بھی چھوڑنا پڑےگا۔

اچھا نام اور مذہب کو بھی گولی ماریئے آیئے ذرا سوچیں کہ اس کا ملک اور اس کی قوم کیا ہے۔ ماضی پر جائیں تو کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ یہ بچہ ہندوستان میں پیدا ہوا اس لئے ہندوستانی ہے۔ شمالی ہند کے ماں باپ کا بیٹا ہے اس لئے آریائی قوم سے منسوب کیا جانا چاہئے۔ ٹھیک ہے دنیا میں ہر جگہ یہی ہوتا ہے، ہوتا آیا ہے، دیر تک ہوتا رہےگا، مگر میں سوچتا ہوں کہ ہر لمحہ جو نیا بچہ ہمارے سامنے لاتا ہے۔ اس تحیر زدہ امر پر اس سے گہرے غوروخوض کی ضرورت ہے ۔ ہندوستانی کیا قوم ہے، کون سا ملک ہے، آریہ لوگ شاید وسط ایشیا سے آئے تھے۔ رگوں میں سامی خون بھی موجزن ہو گیا اور اب یہ کیا قوم ہے؟ کون سا ملک ہے؟ یہ ہندوستان، اس میں ترکستان بھی ہے، روس بھی ہے، چین بھی ہے، ایران بھی ہے، ترکی بھی ہے، عرب بھی ہے، یورپ بھی ہے، اور اب پاکستان بھی ہے، یہ خون ، یہ قوم، یہ ملک، کس قدر جھوٹی اصطلاحیں ہیں۔ انسان نے خود اپنے آپ کو جان بوجھ کر ان زنجیروں سے باندھ رکھا ہےلیکن مجھے تو اپنا بیٹا بہت پیاراہے۔ میں اسے دیدہ و دانستہ ان زنجیروں میں کیسے جکڑ سکتا ہے۔

برش اسی طرح جامد ہے۔ ابھی اس خاکے میں ایک رنگ بھی نہیں بھر سکا۔ تخیل کوئی دوسری راہ اختیار کرے اور یہ سوچے کہ اس کی تعلیم و تربیت کیا ہو، تو یہاں بھی عجیب پیچدگیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں جو تعلیم ہے وہ بھی ماضی سے اس قدر بندھی ہوئی ہے کہ کسی نئے تجربے کی، کسی نئی حیرت کی گنجائش نہیں۔ کیا میں اسے وہ تاریخ پڑھاؤں جو انسانوں کے درمیان نسلی منافقت اور مذہبی بد اعتمادی پھیلاتی ہے۔ یہ تاریخ جس میں بادشاہوں کی زناکاریوں کے قصے ہیں اور بے وقوف وزیروں کے قصیدے ہیں۔ یہ جغرافیہ میں اوباش امیروں اور شرابی شاعروں کی عشقیہ داستانیں ہیں۔ یہ اقتصادیات جسے سرمائے کی ماہیت کا علم نہیں یہ ریاضیات جس میں ایک گھوڑاایک گھنٹہ میں دو میل چلتا ہے تو چوبیس گھنٹے میں کتنا چلے گا، یہ جاہل بے خبر علم و فن جو ہمارے اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔ زمانہ حال سے کتنے دور ہیں، یہ مبلغ علم ایک سو سال پرانا ہے۔ لیکن میرا بچہ تو نیا ہے کیا اسے پڑھانے کے لئے ایک پوری قوم کو درس حیات دینا پڑے گا۔

شاید ممکن نہیں لیکن یہ تو ممکن ہےکہ میں اس کا کوئی نام رکھوں۔ مذہب نہ رکھوں، اسے کسی قوم سے، کسی ملک سے منسوب نہ کروں اس سے صرف اتنا کہہ دوں کہ، بیٹا تو انسان ہے، انسان اپنے خمیر کا، اپنی تقدیر کا ، اپنی زمین کا خود خالق ہے۔ انسان ، قوم سے، ملک سے، مذہب سے بڑا ہے وہ اپنی روح تعمیر کر رہا ہے، تو ہم سے نیا ہے، اپنی جدت سے اس روح کو نئی سربلندی عطا کر، تیرے اور میرے درمیان باپ بیٹے کا رشتہ نہیں ہے۔ تیرے اور میرے درمیان صرف محبت کا رشتہ ہے، جیسے سمندر لہرے، اور آگ شعلے سے اور ہوا جھونکے سے ملتی ہے اسی طرح میں اور تو اس دنیا میں آکے مل گئے ہیں۔ اور ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں۔

بچہ انگوٹھا چوس رہا ہے۔ اور میری طرف حیرت سے دیکھ رہا ہے۔

کرشن چندر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دیوتا
  • مختصر مگر اہم بات
  • ضمیر واحد متبسم
  • ذہنی سکون
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جامن کا پیڑ
پچھلی پوسٹ
ایک احساس مرے دامنِ ادراک میں ہے

متعلقہ پوسٹس

سیلاب اور ہماری سماجی ذمہ داریاں

ستمبر 1, 2025

تنقید کیا ہے

اپریل 11, 2026

پر امن افغانستان !

ستمبر 7, 2021

محمودہ

جنوری 17, 2020

مہنگائی کا طوفان اور عام آدمی کی زندگی

اپریل 2, 2026

غبارے

دسمبر 23, 2021

سعودی عرب کا قومی دن اور پاکستان کا جذبۂ اخوت

ستمبر 23, 2025

افسر کا فن

مئی 17, 2025

فیڈ آؤٹ فیڈاِن

جنوری 2, 2022

شیخ خالد زاہد

جولائی 18, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ٹیکنالوجی کا داخلہ: کلاس روم کا...

اکتوبر 16, 2025

مقدس ناتا

دسمبر 29, 2019

خاموش مگر پُراثر رہنما

دسمبر 10, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں