552
ہنسنے رونے والے اچھے لگتے ہیں
چھوٹے چھوٹے جذبے اچھے لگتے ہیں
چاندی جیسی دھوپ میں تار پہ ٹنگے ہوئے
رنگ برنگے کپڑے اچھے لگتے ہیں
جس برگد کے نیچے گوتم بیٹھا ہو
اس برگد کے سائے اچھے لگتے ہیں
شہر سے دور اک چھوٹی سی بستی والے
وہ جن کو گل بوٹے اچھے لگتے ہیں
شیش محل میں رہنے والی لڑکی کو
کھلے ہوئے دروازے اچھے لگتے ہیں
کافی شاپ کی باہر والی ٹیبل پر
دونوں ساتھ میں بیٹھے اچھے لگتے ہیں
گھوم گھما کر ساری دنیا میں تجدید
واپس آتے رستے اچھے لگتے ہیں
تجدید قیصر
