333
ہیں کہ دل میں کوئی آرزو نہیں مرے دوست
مگر یہ سچ کہ تری جستجو نہیں مرے دوست
ہے زخم زخم ہی کار ِ جنون کا حاصل
جہان ِعشق میں رسم ِ رفو نہیں مرے دوست
بغیر رخت کڑے دشت کا مسافر ہوں
کہ اس سفر میں کوئی آب جو نہیں مرے دوست
مری نماز کسی سہو کے سپرد ہوئی
کہ اقتداء میں کوئی باوضو نہیں مرے دوست
مری زبان پہ جاری ہے تیرا ذکر ِ خیر
یہ اور بات ترے روبرو نہیں مرے دوست
میں اس خیال کا پھر کب خیال رکھتا ہوں
وہ جس خیال میں شامل ہی تو نہیں مرے دوست
بہار میں بھی سکوت ِ خزاں سلامت ہے
سرِ چمن جو کوئی ہاؤ ہو نہیں مرے دوست
صدیق صائب
