406
لو ہوں مگر چراغ کے اندر نہیں ہوں میں
اتھلی سیاہیوں کو بھی ازبر نہیں ہوں میں
دیوار ہوں اور ایک جبیں کا سوال ہوں
سمٹے ہوئے قدم کے لیے در نہیں ہوں میں
آنکھوں کے پار آخری ندی ہے نیند کی
ندی کی تہہ میں رینگتا پتھر نہیں ہوں میں
شیشے کے اس طرف بھی دکھائی نہیں دیا
پانی کے انجماد سے بہتر نہیں ہوں میں
کچھ پیڑ آ رہے ہیں مری دھوپ چھانٹنے
سورج کے اختیار سے باہر نہیں ہوں میں
ارشاد نیازی
