خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامسٹر چارلس بائیکاٹ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسیمیں کرن

مسٹر چارلس بائیکاٹ

از سائیٹ ایڈمن اپریل 23, 2025
از سائیٹ ایڈمن اپریل 23, 2025 0 تبصرے 68 مناظر
69

کچھ زمانہ قبل کی بات ہے ہر برادری میں چار چوہدری ہوا کرتے تھے جو خاندان برادری کے بہت سے امور کو دیکھا کرتے تھے اور ان کے فیصلوں اور رائے کا احترام کیا جاتا تھا اور ان فیصلوں کو ساری برادری کی قوت حاصل ہوتی تھی۔ اس قوت کے زیر سایہ جہاں کچھ برائیاں پنپ جاتیں وہاں اس میں بہت سی فلاح بھی چھپی ہوئی تھی، ایک لوکل پنچایت سسٹم، روایت و تہذیب کی بقا، بہت سی قدروں کی حفاظت وغیرہ وغیرہ۔

مجھے یاد ہے امی قصہ سنایا کرتی تھیں کہ ان کے نانا اپنی برادری کے چھوٹے چوہدری تھے اور ان کی بھتیجی کو جب کم عمری میں ناحق طلاق ہوئی گو کہ کچھ قصور لڑکی والوں کا بھی تھا مگر طلاق دینے پہ کیسے لڑکے والوں کے خاندان کا بائیکاٹ کر دیا گیا، ایک طویل مدتی بائیکاٹ جس نے اس خاندان کو نہ صرف سبق پڑھایا بلکہ قدم قدم پہ یاد دلایا کہ انھوں نے کیا کیا تھا۔ اور پھر وقت کے ساتھ بدلتی رتوں روایتوں اور آتی دولت نے اس خاندان کو بالآخر معتبر بنا ہی دیا۔ بہرحال یہ ایک خاموش اور معزز طریقہ احتجاج تھا۔ احتجاج ظلم کے خلاف۔ ناروا رویے کے خلاف اور یہ ایک بہت کامیاب طریقہ کار تھا جو آج کے جدید دور میں بائیکاٹ کہلاتا ہے۔ بائیکاٹ یعنی a passive way of protest ایسا پروٹیسٹ یا احتجاج جس میں مزاحمت تو ہے مگر غیر شائستگی اور توڑ پھوڑ نہیں، تشدد کا عنصر نہیں مگر جو اپنی جگہ ظلم کے خلاف ایک بھرپور آواز رکھتا ہے۔ ایک خاموش آواز جس کی گونج دور تک سنی جاتی ہے۔

بائیکاٹ سے یاد آیا ہمارے ایک بہت ہی محترم اور معتبر دوست ڈاکٹر کاشف مصطفیٰ اپنے ایک مضمون میں تین ایسے اسماء کا تذکرہ کرتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ فعل بن گئے ایسے اسم۔ ایسی شخصیات جو تقریباً ایک ہی زمانے میں پیدا ہوئیں مگر ان کا نام فعل بن کر لغت کا حصہ بن گیا۔ یعنی ان کا کام اس قدر قابل ستائش یا قابل نفرت تھا کہ لغت میں اب ان کے نام کے کام کا ڈنکا بجتا ہے۔

ان میں سے پہلے تو لوئی پاسچرؔ ہیں جنھوں نے دودھ ابال کر اسے محفوظ کرنے کا طریقہ دریافت کیا اور اب یہ عمل پاسچرائزائشن کہلاتا ہے اور ساری دنیا کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔

دوسرے ولیم بینٹنگ ہیں ایک غریب ترکھان تابوت تراش، اپنے موٹاپے سے تنگ، گھوڑوں کے شوقین، اک دن اپنے اک فربہ گھوڑے کو دیکھا چھان بین کرنے پہ یہ پتا چلا کہ اس گھوڑے کو ان کے بچے بریڈ، مربہ جات اورCharles مٹھائیاں کھلاتے ہیں اس سے مسٹر بینٹنگ نے نشاستہ کے بغیر غذا کو متعارف کروایا اور اس پہ عمل کر کے اپنا تیس کلو وزن کم کر لیا، بغیر نشاستہ کے غذا پہ انھوں نے کتاب بھی لکھی جس کا اس وقت کے ڈاکٹرز نے خوب تمسخر اڑایا کہ مسٹر بینٹنگ کے پاس اپنے دعوے کے سائنسی ثبوت نہیں ہیں مگر آخر سائنس ان نتائج پہ پہنچ ہی گئی اور سائنس کی یہی خوبی ہے کہ وہ اپنی غلطی درست کر لیا کرتی ہے اور پھر اس غذائی طریقہ کار کو مسٹر بینٹنگ کے نام سے ہی شہرت اور جگہ ملی۔

تیسرے چارلس کننگھم بائیکاٹ (Charles Cunningham Boycott) تھے انیسویں صدی کے ایک فوجی افسر اور ایک آئرش زمیندار کے ایجنٹ جس کی ظالمانہ پالیسیز اور رائج ٹیکس میں مقامی زمینداروں کو کوئی سہولت نہ دینے پہ مقامی زمینداروں نے اس کے خلاف ایکا کر لیا اور سماجی طور پہ قطع تعلقی اختیار کر لی۔ نہ اس کے لیے گندم خریدی نہ بیچی گئی نہ اس سے کوئی تعلق واسطہ رکھا گیا۔ یہ مہم اتنی کامیاب رہی کہ اس سماجی انقطاع کو پہلی بار بائیکاٹ کا نام ملا۔ جی ہاں اس واقعے سے پہلے یہ لفظ انگلش لغت کا حصہ نہیں تھا۔ بائیکاٹ کو ایسی ہمہ گیریت نصیب ہوئی کہ یہ پھر مختلف زبانوں حتیٰ کہ افریقی زبان میں بھی احتجاج کے لیے لفظ بائیکاٹ ہی رائج ہوا۔ آپ اس کو دنیاوی کامیابی سمجھیے یا کچھ واقعات کے مابعد الطبیعاتی اثرات کو دیکھیے کہ وہ تاریخ کا، سماج کا اس کی نفسیات کا، زبان کا رخ کیسے بدلتے ہیں۔

آج اس وقت ہمارے ملک میں ہی نہیں، دنیا بھر میں ظلم کا استعارہ بنی ایسی مصنوعات کا بائیکاٹ جاری ہے اور اس کو لے کر مختلف متضاد آرا گردش کیا کرتی ہیں۔ مجھے ایک سوال پوچھنے کی اجازت دیجیے بطور ایک ذمہ دار اور حساس انسان آپ کسی مظلوم کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ کے اختیار میں کیا ہے؟ کیا آپ ہتھیار اٹھا کر بیت المقدس میں جا سکتے ہیں یقیناً جواب نفی میں ہے۔ کیا آپ ان کی مالی مدد کر سکتے ہیں جواب نفی میں ہے۔ آپ میں سے کتنے لوگ قلم کے ذریعے مدد کر سکتے ہیں؟

پھر ایک عام شخص کے پاس اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو ہونے اور a passive way of protest کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے؟ ( یہ ایک ایسا سیاسی یا سماجی طریقہ ہوتا ہے جس میں افراد یا گروہ بغیر کسی جارحانہ اقدام کے ظالم کے خلاف پرامن طریقے سے احتجاج کرتے ہیں ) ، ایک عام آدمی ظلم کےlouis pasteur خلاف آواز کیسے اٹھائے، احتجاج کیسے کرے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک گاہک کی قوت خرید نہ صرف اس کا بنیادی حق ہے بالکل ووٹ کی طرح یہ بہت بڑی قوت بھی ہے۔ ایسی قوت جس سے وہ جسے چاہے ایک بزنس ایمپائر بنا دے اور جسے چاہے خاک چٹو ادے۔

التزاما ًیہ کہا جاتا ہے کہ مذکورہ بڑے مگر مچھ خود زندہ رہتے ہیں اور چند فیصد رائلٹی پہ مقامی تاجر اور لوکل مزدور کو مروا دیتے ہیں۔

دیکھیے ڈاکٹر کاشف مصطفیٰ ساؤتھ افریقہ میں ہوتے ہیں وہاں کے دو فیصد متحد مسلمز نے ان پراڈکٹس کے مالکان کی چیخیں نکلوا دی ہیں اور اتنے موثر انداز سے تحریک چلائی ہے کہ اب ان کا ساتھ ہندو سکھ عیسائی بھی دیتے ہیں اور ان پراڈکٹس کا بائیکاٹ کرتے ہیں جس سے ان کی رائلٹی پہ گہری زک پہنچتی ہے۔

ہاں درست کہ مقامی تاجر متاثر ہوتا ہے مگر یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کی مقامی لوکل پراڈکٹس کو بھی پنپنے کا موقع ملتا ہے۔ اگر ہمارا تاجر بشمول مسلم دنیا اس کامیاب بائیکاٹ کے دوران بھی نہیں جاگتا تو پھر شاید صور اسرافیل ہی اسے جگائے۔ مارکیٹس اسی طرح کے حادثات سے اپنی رجحان سازی طے کیا کرتی ہیں اور اس کے ثمرات یہ ہیں کہ آپ کو ان پاکستانی مشروبات، کولاز کے خلاف باقاعدہ مہم نظر آئے گی یہ مہم کیوں اور کون چلا رہا ہے؟ وہی جنھیں نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ وقت ہے کہ آپ مارکیٹ میں جگہ مقامی مصنوعات کو دیں یا پھر ان غیر ملکی مصنوعات کو جو دوست ممالک سے ہیں۔

آپ یہی کر سکتے ہیں۔ آپ اتنا تو کر ہی سکتے ہیں۔ کیا آپ اتنا بھی نہیں کر سکتے؟ مگر یہ تو ایمان کا، انسانیت کا سب سے کمزور درجہ ہے کہ خاموشی سے برائی کو رد اور دور کیا جائے۔

بصد معذرت میں بہت دنیا دار اور کمزور مسلمان ہوں مگر بہرحال میں اسی شناخت کے ساتھ رہنا اور مرنا پسند کروں گی۔

یہ بائیکاٹ آپ کو بتلاتا ہے یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے ایوانوں میں ایک تھا مسٹر چارلس بائیکاٹ۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سورج کے رخ پر آ جانا پڑتا ہے
  • ڈھیر اُچیری ہو جاواں گی
  • حصار ذات
  • شاعرِ وقت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
زندگی گزارنے کا ہنر
پچھلی پوسٹ
شہزاد نیّر سے ایک مختصر مصاحبہ

متعلقہ پوسٹس

سب چراغوں کی ہدایات کا مطلب سمجھے

ستمبر 14, 2025

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب

جولائی 12, 2023

شام کی بارش

مارچ 6, 2023

لاھوربورڈ میٹرک رزلٹ 2025

دسمبر 12, 2025

عجیب احساس ہے محبت

نومبر 4, 2021

وہ لڑکی

جنوری 15, 2020

دل کے جذبات کو تُو رونقِ صحرا نہ بنا

اکتوبر 12, 2025

مرزا سودا کے قصے

دسمبر 12, 2019

کٹھن سفر جو بن تیرے گزارا تھا

مارچ 1, 2020

گاجر کا رس

جنوری 7, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کیا اتنا کافی ہے؟

دسمبر 4, 2019

پاکستان میں بے روزگاری

نومبر 27, 2025

سلِیپ ڈِس آرڈر

دسمبر 20, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں