371
آنکھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کوئی جھیل سمجھ
سوکھا رومال مرے ضبط کی زنبیل سمجھ
تم نے اس ہجر کے زنداں میں قدم رکھا ہے
چاروں اطراف کے دروازوں کو اب سِیل سمجھ
ایک مدت سے جڑا ہوں کسی تصویر کے ساتھ
مجھ کو دیوار میں گاڑا ہوا اک کیل سمجھ
زلزلہ ! چیونٹی کی بِل سے بھی نکل سکتا ہے
کر نہ ایسے کسی مزدور کی تذلیل ! سمجھ
یہ مری چوٹ نے پہنا ہے کفن سا ملبوس
اِس کو مت داغِ برص جان اِسے نیل سمجھ
قیدِ مذہب نہ لگا عشق کو محدود نہ کر
عشق آیت ہے میاں ! عشق کو انجیل سمجھ
احمد آشنا
