413
ہزاروں راز پنہاں ہیں شعور خاک کے اندر
زمانے دفن ہیں رمز تہہ بےباک کے اندر
ڈھکے چہروں سے حرمت کے لبادے ہٹ گئے لیکن
ابھی باقی ہیں گنجینے کف ادراک کے اندر
نہیں یہ فکر پستی میں کہاں تک گر گیا ہے خود
جسے دیکھو ہے دوجے کی وہ کھوج و تاک کے اندر
کہیں پر جسم بے بس ہے تلاشی ستر پوشی میں
کہیں انسان نہیں ہوتے حسیں پوشاک کے اندر
پڑے آغوش خاکی میں گوہر دھیرے سے چمکے ہے
غرور بے بہا ہے تو خس و خاشاک کے اندر
اویس خالد
