خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرکاغذی روپیہ
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرپطرس بخاری

کاغذی روپیہ

پطرس بخاری کی ایک اردو مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 25, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 25, 2020 0 تبصرے 482 مناظر
483

کاغذی روپیہ

خواجہ علی احمد شہر کے بڑے سوداگر تھے۔ لاکھوں کا کاروبار چلتا تھا۔ لوگوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ بچہ بچہ ان کی دیانت داری سے واقف تھا اور ہر شخص جانتا تھا کہ خواجہ علی احمد قول کے سچے اور بات کے پکے ہیں۔ ایک دن انہوں نے اپنے ایک آدمی کو جوتے والے کی دکان سے جوتا خریدنے بھیجا۔ جوتے کی قیمت بیس روپے تھی لیکن بجائے اس کے کہ خواجہ علی احمد اپنے نوکر کو بیس روپے دے کر بھیجتے، انہوں نے نوکر کے ہاتھ کریم خاں جوتے والے کے نام ایک رقعہ لکھا:

’’میاں کریم خاں! مہربانی کر کے ہمارے آدمی کو بیس روپے کا ایک جوتا دے دو، ہمارا یہ رقعہ اپنے پاس سنبھال کے رکھ چھوڑو۔ جب تمہارا دل چاہے۔ یہ رقعہ آ کے ہم کو یا ہمارے منشی کو دکھا دینا اور بیس روپے لے جانا۔ یہ رقعہ اگر تم کسی اور شخص کو دینا چاہو تو بےشک دے دو، جو ہمارے پاس لائے گا ہم اس کو بیس روپے دے دیں گے۔ راقم خواجہ علی احمد‘‘۔

دکان دار نے جب رقعے کے نیچے خواجہ علی احمد کا دستخط دیکھا تو اسے اطمینان ہوا۔ جانتا تھا کہ خواجہ صاحب مکرنے والے آدمی نہیں اور پھر لاکھوں کے آدمی ہیں۔ روپے نہیں بھیجے تو نہ سہی۔ یہ رقعہ کیا روپوں سے کم ہے؟ جب چاہوں گا، رقعہ جا کر دے دوں گا اور روپیہ لے لوں گا، چنانچہ اس نے بغیر تامل کے جوتا بھیج دیا۔

تھوڑی دیر بعد کریم خاں دوکان دار کے پاس عبد اللہ حلوائی آیا اور کہنے لگا۔ ’’میاں کریم خاں! میرے تمہارے طرف پچیس روپے نکلتے ہیں۔ ادا کر دو تو تمہاری مہربانی ہو گی۔ کریم خاں نے کہا۔ ’’ابھی لو۔ یہ پانچ تو نقد لے لو۔ باقی بیس روپے مجھے خواجہ علی احمد سے لینے ہیں یہ دیکھو، ان کا رقعہ ذرا ٹھہر جاؤ، تو میں جا کے ان سے بیس روپے لے آؤں۔

عبد اللہ بھی خواجہ علی احمد کو اچھی طرح جانتا تھا کیونکہ شہر بھر میں خواجہ صاحب کی ساکھ قائم تھی کہنے لگے۔ تم یہ رقعہ مجھے ہی کیوں نہ دے دو میں ان سے بیس روپے لے آؤں گا کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ جو شخص یہ رقعہ لائے گا اس کو بیس روپے دے دیئے جائیں گے‘‘۔ کریم خان نے کہا۔ ’’یونہی سہی‘‘۔ چنانچہ عبد اللہ حلوائی نے بیس روپے کے بدلے وہ رقعہ قبول کر لیا۔

کئی دنوں تک یہ رقعہ یونہی ایک دوسرے کے ہاتھ میں پہنچ کر شہر بھر میں گھومتا رہا۔ خواجہ علی احمد پر لوگوں کو اس قدر اعتبار تھا کہ ہر ایک اسی رقعے کو بیس روپے کے بجائے لینا قبول کر لیتا کیونکہ ہر شخص جانتا تھا کہ جب چاہوں گا اسے خواجہ صاحب کے منشی کے پاس لے جاؤں گا اور وہاں سے بیس روپے وصول کر لوں گا۔ ہوتے ہوتے یہ رقعہ ایک ایسے شخص کے پاس پہنچ گیا جس کا بھائی کسی دوسرے شہر میں رہتا تھا۔ یہ شخص اپنے بھائی کو منی آرڈر کے ذریعے بیس روپے بھیجنا چاہتا تھا۔ ڈاک خانے والوں نے اس رقعہ کے بیس روپے کے عوض میں لینا قبول نہ کیا۔ چنانچہ وہ شخص سیدھا خواجہ احمد علی کی کوٹھی پر پہنچا۔ رقعہ منشی کو دیا۔ منشی نے بیس روپے کھن کھن گن دیئے۔ اس نے روپے جا کر ڈاک خانے والوں کو دیئے اور انہوں نے آگے اس کے بھائی کو بھیج دیئے۔

اس مثال سے یہ ظاہر ہوا کہ محض ایک کاغذ کا پرزہ کتنی مدت تک روپے کا کام دیتا رہا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کاغذ کے نیچے ایک ایسے شخص کے دستخط تھے جس کی دیانت داری پر سب کو بھروسہ تھا۔ اور جس کی دولت کا سب کو علم تھا۔ سب جانتے تھے کہ یہ شخص جب چاہے بیس روپے ادا کر سکتا ہے۔ اور قول کا اتنا پکا کہ کبھی ادا کرنے سے انکار نہ کرے گا۔

اگر ایسے ہی ایک رقعے کے نیچے ہم یا تم دستخط کر دیتے تو کوئی بھی اسے روپے کے بدلے میں قبول نہ کرتا۔ اول تو ہمیں جانتا ہی کون ہے اور جو جانتا بھی ہے وہ کہے گا کہ ان کا کیا پتہ۔ آدمی نیک اور شریف اور دیانت دار سہی، لیکن خدا جانے ان کے پاس بیس روپے ہیں بھی یا نہیں؟ کیا معلوم یہ مانگنے جائیں اور وہاں کوڑی بھی نہ ہو۔

خواجہ احمد کا رقعہ گویا ایک قسم کا نوٹ تھا۔ سرکاری نوٹ بھی بالکل یہی چیز ہوتے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ ان کے نیچے سرکار کی طرف سے سرکاری خزانے کے ایک افسر کے دستخط ہوتے ہیں۔ اگر تم دس روپے کے نوٹ کو لے کر دیکھو تو اس پر اوپر حکومت پاکستان اور اس کے نیچے لکھا ہوتا ہے کہ ’’میں اقرار کرتا ہوں کہ عند المطالبہ حامل ہذا کو دس روپیہ سرکاری خزانہ کراچی سے ادا کروں گا‘‘۔ اس عبارت کے نیچے سرکاری افسر کے دستخط ہوتے ہیں۔

خواجہ احمد علی کو تو صرف ایک شہر کے لوگ جانتے تھے۔ حکومت پاکستان کو ملک کا ہر آدمی جانتا ہے۔ بلکہ اور ملکوں میں بھی اس کی ساکھ قائم ہے اس لئے سرکاری نوٹ کو ہر شخص بلا تامل قبول کر لیتا ہے۔ اور کوئی قبول کیوں نہ کرے۔ لوگ جانتے ہیں کہ جب چاہیں خزانے میں جا کر اس کے روپے بھنا سکتے ہیں۔

خواجہ علی احمد کے رقعے اور سرکاری نوٹ میں ایک فرق اور بھی ہے۔ خواجہ علی حسن کا رقعہ تو ڈاک خانہ والوں نے قبول نہ کیا تھا لیکن سرکاری نوٹ انہیں ضرور ہی قبول کرنا پڑتا۔ سرکاری نوٹوں کو قانونی طور پر ملک کا سکہ قرار دیا گیا ہے اور کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان کو روپے کے بدلے لینے سے انکار کرے۔ اگر تمہیں کسی شخص نے دس چاندی کے روپے قرض دیئے تھے اور اب اس کو یہ قرضہ اتارنے کے لئے دس روپے کا نوٹ دیتے ہو تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ تو چاندی کے روپے ہی لوں گا۔ اسے دس کا نوٹ ضرور لینا پڑے گا۔

روپیہ ایسا ہونا چاہیئے کہ آسانی سے پاس رکھا جا سکے۔ چاندی کے سکوں میں یہ خوبی ایک حد تک پائی جاتی ہے۔ تاہم چاندی کے سکے وزنی ہوتے ہیں۔ اسی روپے کا وزن سیر بھر ہو جاتا ہے تو جہاں پانچ چھ سو روپے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا ہوں، وہاں اچھی خاصی دقت پیش آتی ہے۔ نوٹوں سے یہ دقت رفع ہو جاتی ہے۔ ہزاروں روپے کے نوٹ ایک جیب میں آسانی سے ڈالے جا سکتے ہیں۔ نوٹوں کے جاری کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

باوجود ان سب باتوں کے جس شخص کے پاس بہت سا روپیہ ہو۔ اس کے لئے یہ مشکل ہے کہ بہت سے نوٹ، کچھ روپے چونیاں، دونیاں یہ سب کچھ اپنے پاس سنبھال رکھئے۔ ایک تو سنبھالنے کی تکلیف، دوسرے چوری کا خطرہ، اس لئے بہتر یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنا سب روپیہ بنک میں رکھوا دے۔

بنک میں روپیہ امانت کے طور پر رہتا ہے۔ روپے کا مالک جب چاہے اس کو نکلوا سکتا ہے یا جس کو چاہے اپنے حصے کا روپیہ دلوا سکتا ہے کسی اور کو اپنے حصے کا روپیہ دلوانے کی ترکیب یہ ہے کہ اس کو چک لکھ کر دے دیا جائے۔

ہم یہاں چک کے معنوں کو واضح طور پر بیان کرنا چاہتے ہیں۔ فرض کرو، عبداللہ نے بنک میں بہت سا روپیہ جمع کر رکھا ہے۔ کریم خاں اس سے دس روپے مانگنے آتا ہے۔ عبد اللہ بجائے اس کے کہ کریم خاں کو دس روپے نقد دے، وہ اسے دس روپے کا چک لکھ دیتا ہے۔ چک گویا ایک قسم کا رقعہ ہے۔ جو عبد اللہ کریم خان کی معرفت اپنے بنک کو بھیج رہا ہے۔ چک پر مفصلہ ذیل الفاظ لکھے ہوتے ہیں:

بنام فلاں بنک

کریم خاں کو دس روپے دے دو۔

راقم عبد اللہ

کریم خاں کی بجائے عبد اللہ اگر کسی اور کا نام لکھ دے تو جس کا نام لکھے گا اسی کو روپے ملیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کریم خاں دس روپوں کی بجائے یہ دس روپے کا چک کیوں قبول کر لیتا ہے؟ اس لئے کہ اسے عبد اللہ پر اعتبار ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بنک میں ضرور عبد اللہ کا روپیہ جمع ہو گا۔ میں جب یہ چک لے جاؤں گا مجھے روپیہ مل جائے گا۔

اب فرض کرو کہ کریم خاں وہ چک لے کر عبد اللہ کے بنک میں گیا۔ اور کہا کہ مجھے اس چیک کا روپیہ ادا کر دو۔ بنک والوں نے عبد اللہ کا حساب دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہاں تو کل تین روپے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ چک ادا نہیں کر سکتے۔ چنانچہ وہ انکار کر دیں گے اور کریم خاں کا عبد اللہ پر اعتبار باقی نہ رہے گا۔ لیکن اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بنک والے عبد اللہ کو جانتے ہیں۔ مدت سے اس کا حساب کھلا ہوا ہے وہ کہتے ہیں بنک میں تو عبد اللہ کے تین روپے ہیں، مگر چلو فی الحال ہم باقی کے ساتھ روپے اپنے پاس سے دے دیتے ہیں اور عبد اللہ کی لاج رکھ لیتے ہیں ہم یہ سات روپے پھر اس سے لے لیں گے لیکن عام طور پر ایسا کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ لوگوں کا جتنا روپیہ بنک میں ہوتا ہے اس کے اندر اندر ہی چک دیتے ہیں اور کم ہی ایسا موقعہ پیش آتا ہے کہ بنک چک ادا کرنے سے انکار کر دے۔

اگر کریم خاں نے خود بھی کسی بنک میں حساب کھول رکھا ہے تو یہ ضروری نہیں کہ عبد اللہ کا چک لے کر خود عبد اللہ کے بنک میں جائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس طرح وہ اپنا روپیہ بنک میں جمع ہونے کے لئے بھجوا دیتا ہے۔ اسی طرح یہ چک بھی بھجوا دے۔ اس کے بنک والے خود ہی عبد اللہ کے بنک سے اس چک کا روپیہ وصول کر لیں گے۔ یہ دس روپے کی رقم کریم خاں کے حساب میں جمع کر دی جائے گی۔ اور عبد الہچ کے حساب میں خرچ کی آمد میں چڑھا دی جائے گی۔

اسی طرح سے یہ سہولت ہوئی کہ عبد اللہ اور کریم خاں دونوں کا روپیہ اپنے اپنے بنک میں محفوظ پڑا ہے۔ نہ تو عبد اللہ کو روپیہ ادا کرتے وقت نہ کریم خاں کو وصول کرتے وقت بنک جانا پڑا۔ اور روپیہ ایک کے حساب میں سے نکل کر دوسرے کے حساب میں جمع بھی ہو گیا۔ یہ سب کچھ ایک چک کی بدولت ظہور میں آیا۔

یہاں ہم نے صرف ’’کاغذی روپے‘‘ کی دو قسموں کا ذکر کیا ہے، ایک سرکاری نوٹ اور دوسرے چک، ان کے علاوہ اور بھی کاغذات ایسے ہیں جن کے ذریعے سے بڑی بڑی رقمیں یہاں سے دور دراز ملکوں تک پہنچ جاتی ہیں۔

پطرس بخاری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جہنم سے زیادہ تکلیف دہ بستیاں!
  • تعصب
  • گوندنی
  • رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان کا تقاضہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہیبت ناک افسانے
پچھلی پوسٹ
سر محمد اقبال

متعلقہ پوسٹس

سوشل میڈیا اور گُم ہوتی سنجیدہ آوازیں

نومبر 14, 2025

بھارتی فالس فلیگ آپریشن کی سیاست

اپریل 26, 2025

ڈارلنگ

جنوری 15, 2020

تازہ گوشت یا حرام گوشت

اگست 19, 2025

چور

جنوری 28, 2020

آئینۂ جمال

دسمبر 31, 2024

کتھا سرکس

جون 15, 2020

سکون کی تلاش

جون 13, 2025

ساڑھے تین آنے

اکتوبر 22, 2019

ایک نظرِ محبت

نومبر 27, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وہ خط جو پوسٹ نہ کیے...

فروری 14, 2020

امریکی ثقافت اور روڈیو

دسمبر 6, 2024

اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ...

دسمبر 28, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں