393
یہ ہم کو کون سی دنیا کی دھن آوارہ رکھتی ہے
کہ خود ثابت قدم رہ کر ہمیں سیارہ رکھتی ہے
اگر بجھنے لگیں ہم تو ہوائے شام تنہائی
کسی محراب میں جا کر ہمیں دوبارہ رکھتی ہے
چلو ہم دھوپ جیسے لوگ ہی اس کو نکال آئیں
سنا ہے وہ ندی تہہ میں کوئی مہ پارہ رکھتی ہے
ہمیں کس کام پر مامور کرتی ہے یہ دنیا بھی
کہ ترسیل غم دل کے لیے ہرکارہ رکھتی ہے
کبھی سر پھوڑنے دیتی نہیں دیوار سے تابشؔ
یہ کیا دیوانگی ہے جو ہمیں ناکارہ رکھتی ہے
عباس تابش
