332
میں سادہ دل ہوں کہ رکھتا ہوں ایک ہی چہرہ
وگرنہ روز بدلتے ہیں آدمی چہرہ
عجیب چیز ہے نیرنگی ء جمال دوست
کبھی گلاب ، کبھی آئنہ ، کبھی چہرہ
لہو میں دوڑ رہا ہے طلسم نیم شبی
وہی چراغ کی مدھم سی لو وہی چہرہ
کسی کے عارض و لب دیکھ کر یقیں آیا
نکھارتی ہے محبت کی شعلگی چہرہ
خدا کے حسن تخیل کی انتہا تم ہو
تمہارا چہرہ ہے دنیا کا آخری چہرہ
ازل ابد کے حقیقت شناس ہیں انصر
یہ حسرتی سی نگاہیں یہ حیرتی چہرہ
