خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرگلوبل وارمنگ اور آج کی ماں
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

گلوبل وارمنگ اور آج کی ماں

ایک اردو کالم از روبینہ فیصل

از سائیٹ ایڈمن مئی 19, 2019
از سائیٹ ایڈمن مئی 19, 2019 0 تبصرے 306 مناظر
307

گلوبل وارمنگ اور آج کی ماں

“مجھے مرنے سے صرف اس لئے ڈر لگتا ہے کہ میرے بچے میری موت سے گھبرا جائیں گے، وہ تکلیف میں آجائیں گے،وہ خود کو بغیر چھت کے محسوس کریں گے، انہیں لگے گا دنیا میں اب کوئی ہاتھ ان کے لئے دعا کرنے کو نہیں اٹھے گا، وہ دنیا کے اس خود غرض شور میں خود کو بے بس محسوس کریں گے، ان کا دل بھر آئے گا تو ان کے لئے دنیا میں کوئی سینہ نہیں ہو گا جس میں چھپ کر وہ جی بھر کر رو سکیں گے، ان کی سب خامیوں کوتاہیوں کو جذب کرنے والا کوئی نہیں ہو گا، اپنا غصہ اتارنے کو ان کے پاس کوئی ماں نہیں ہو گی بس اس خوف سے میں اپنی موت سے ڈرتی ہوں کہ یہ میرے بچوں کی آنکھوں میں آنسو لے آئے گی۔۔۔ ”

مندرجہ بالا خیالات ہر ماں کے ہو تے “تھے”،”ہیں ” اس لئے نہیں لکھ رہی کہ گلوبل وارمنگ نے جہاں ہر جگہ کے موسم کو تبدیل کر دیا وہاں جدید دور کی ماں کو بھی بہت بدل دیا ہے۔ اب جہاں کبھی بارشیں نہیں ہو ا کرتی تھیں وہاں ہوتی ہیں، جہاں برف باریاں ہو تی تھیں وہاں موسم بہار آکر ٹھہر گیا ہے اور جہاں گرمی ہو تی تھی وہاں کن من کن من بارش کی پھواریں پڑتی رہتی ہیں، تو ماؤں کے قدموں تلے والی جنت بھی جہنم ہونے لگی ہیں۔ہم پاکستانیوں میں جدیدیت کہیں اور نظر آئے نہ آئے ماں کے قدموں تلے صدیوں سے بچھی جنت میں ضرور نظر آرہی ہے۔
جب گلیشئر پگھلتے ہیں تو تبدیلی متوقع ہو تی ہے اس میں کو ئی نئی بات نہیں۔ عورت کے حقوق کی لمبی جنگ جب لڑی جا چکی اور اس کی ہستی میں ٹھہرے جمود کا گلیشئر پگھلنے لگا تو تبدیلی متوقع تھی۔۔ہر تبدیلی شروع میں بے سمت ہی ہو تی ہے، سمت کا تعین وقت کرتا ہے اسی لئے آج کی عورت خود سے آزادی اور خود شناسی کی اس لہر کو ایک سمت دے گی، جو درست فیصلوں کے نتیجے میں درست بھی ہو سکتی ہے اور بالکل غلط بھی، جو نسلوں کو آبادی نہیں بلکہ تباہی کی طرف لے جائے گی۔۔

عورت ایک فرد صرف اس وقت تک ہے جب تک وہ ماں نہیں بنتی، جیسے ہی وہ ماں بن جاتی ہے، اس کے خواب، اس کے ارادے اور اس کی خوشی غمی غرض کہ اس کی پو ری کی پو ری ذات اپنے پیٹ سے جنم دئیے یا اپنائے ہوئے بچوں کی ذات میں مدغم ہو جاتی ہے مگر اب بدقسمتی سے ایسا بہت کم ہو رہا ہے اور جو عورتیں ایسا کر رہی ہیں انہیں دقیانوسی یا نالائق اور پینڈو کہہ دیا جاتا ہے۔ آج کی گلوبل وارمنگ نے مغربی تہذیب کی عورت کی آزادی کی جنگ کو مشرق میں کچھ اس طرح لا کھڑا کیا ہے کہ مشرق میں چھپے طلسم کا بیڑا غرق ہوچکا ہے۔ مشرق کی پراسرایت، وہاں کا تمدن اور حسن، جسے اندر ہی اندر مغرب حسد اور رشک کی نگاہ سے دیکھا کرتا تھا، اب بالکل اپنے جیسا کر لیا ہے۔
جیسے یونانی مائتھلوجی کے تحت جو مخلوق پوری کائنات کو اپنے سینگوں پر اٹھائے ہو ئے ہے بالکل ویسے ہی مشرق کی عورت کا تحمل اور صبر ایسے ہی سینگ تھے جو پو رے گھر کو اپنے اوپر اٹھائے ہوتے تھے اگر وہ نہ ہوں تو گھر دھڑام سے نیچے آگریں۔

میں جانتی ہوں انفرادی آزادی کا نعرہ لگانے والے تہذیب کے فرزندوں کو میری یہ باتیں بہت ناگوار گذرتی ہیں مگر کیا کروں میرا سچ ان کے سچ سے مختلف ہے تو سننا تو ہو گا مجھے ان کا اور ان کو میرا۔۔ درست اور غلط کا فیصلہ وقت کرتا ہے۔ سارتر کا فلسفہ آزادی تھا کہ فرد پر اس دنیا کو معنی پہنانے کی ذمہ داری ہو تی ہے اور ایک انسان صرف اپنے لئے نہیں پو رے سماج کے لئے فیصلے کرتا ہے۔ اس لئے آج جس شتر بے مہار آزادی کی بات عورت کے لئے کی جا رہی ہے ویسی آزادی کا اگر مرد بھی دعوی کرنے لگ جائے تو یہ جنت صرف عورت کے پیروں کے نیچے سے نہیں پو ری زمین بلکہ آسمانوں سے بھی یکسر غائب ہو جائے گی ایسے کہ بس ڈھونڈتے ہی رہ جا و گے۔۔ روز ِ قیامت بھی خدا سے جنت کا پو چھو گے تو جواب ملے گا ظالمو ساری کی ساری جنتیں تو اپنی سوچوں کے ڈائنامائیٹ سے اڑا دی ہیں اب ان ویرانوں میں آگ کے سوا کیا لینے آئے ہو؟

تو جس سماج کو لاوارث چھوڑ کر سب اپنی اپنی زندگیوں کے فیصلے کر نے لگ جائیں تو ایسی خود غرضیوں سے صرف گھر وں میں سے ہی جنت نہیں نکلتی بلکہ پورے کے پورے سماج ویرانوں میں بدل جاتے ہیں۔۔ کیا ایسا نہیں ہو رہا؟ جدید انسان کے اندر پھیلی لامتناہی ویرانی اور تنہائی کس فعل کا بیج ہے؟ عالمی جنگوں کے بعد جب معیشت کو سہارے کے لئے مغرب نے عورت کام کاج کی غرض سے باہر نکالا تو وہ اس بوتل کے جن کی طرح باہر نکلیں کہ اس آزادی کی سمت کا تعین اور حد مقرر کئے بغیر بس ہر طرف پھیل گئیں۔ عورت کو اس کے جائز حقوق دینا،یا کسی کوبھی جنہیں رنگ یانسل کی بنیاد پر بنیادی حقوق نہ دئیے جائیں، ایک قابل ِ تعریف عمل ہے مگرجائز حقو ق دینے اور ناجائز حدیں پار کرنے میں فرق ہے۔ نہ جانے کس مصلحت کے تحت کچھ عوامل عورت کی اس مادر پدر آزادی کو جو کہ عدل پر مشتمل معاشروں میں مرد کو بھی نصیب نہیں دینے کی بات کرتے ہیں۔ مگر ایسے میں ہر وہ عورت جو ماں کے درجے پر پہنچ جائے اسے خود سے رک کر اپنے لئے وہ حدود متعین کر نی ہیں، اپنے خوابوں اور خواہشوں کو ایسے دائرے میں رکھنا ہے کہ اس کے بچے، آگے چل کر اس سماج کو اپنے وجود سے معطر کریں نا کہ تعفن میں اضافے کا باعث ہوں۔۔

مدرز ڈے پر مجھ سمیت ان ماؤں کے لئے ایک یاد دہانی نوٹ ہے جو آپا دھاپی اور میں میں کے شور میں بھول جاتی ہیں کہ ماں سے بڑا اس دنیا میں اور کوئی درجہ نہیں اور یہ بغیر حقوق کی جنگ لڑے ہمارے رب نے ہمیں دے کر ماؤں کو اپنے جیسی صفت کا حامل قرار دے دیا ہے۔
میری علینہ کو ڈاکٹر نے ایک دو ایسے ٹیسٹ کروانے کو کہا کہ بیٹی کی صحت کے حوالے سے نت نئے و اہموں نے مجھے گھیرلیا اور تب مجھے لگا میں تو ہوں ہی نہیں۔۔ جن خواہشوں کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے میں پہروں اداسی اور خودترسی کا شکا ر رہتی تھی کہ شادی کے بعد، بچوں کو پالنے پوسنے او ر ان کے مستقبل کے لئے اپنے بنے بنائے کیرئیر کو چھوڑ کر کینیڈامیں آ بسنا سونے پر سہاگا۔۔خیربیٹی کی صحت کے حوالے سے وہم تو بے بنیاد نکلے مگر مجھے ایسی آگاہی دے گئے جو مجھے ویسے شاید کبھی نہ ملتی۔۔” میں تو میری بیٹی میں زندہ ہوں۔ وہ نہیں ہنسے گی تو میں کیسے ہنس سکتی ہوں، وہ وکیل یا ڈاکٹر بنے گی تو کینیڈا ہجرت کرنے والی پہلی نسل کی مائیں مامتا کا خون کئے بغیر بھی اپنی ذات میں مکمل رہیں گی اوراگر اس کے پاس صحت نہیں، خوشی نہیں۔۔ تو میں کیا ہوں؟ کچھ بھی نہیں۔۔ اس دن زمین پر پڑی مٹی، راستے میں آنے والے پتھر سب مجھے اپنے سے زیادہ معتبر لگنے لگے۔۔ میرا وجود پل بھر میں ایک وہم نے خاک کر دیا۔۔ میرے گھر میں میرے بچوں کے قہقہے نہ گونجے، وہ کھل کر آزادی سے کھیل کو د نہ سکیں، وہ اپنے خوابوں کو پو ری لگن سے پورا نہ کر سکیں، وہ سماج میں کوئی اچھا کردار ادا نہ کر سکیں تو میری آزادی، میری زندگی، میرے خواب، میرے ارادے حتی کہ میری صحت بھی سب بے وقعت لگنے لگے، میں ایکدم سے آسمان سے زمین پر آگری۔۔ سارتر کی بات کو کچھ یوں کہوں گی ایک ماں صرف اپنے لئے نہیں اپنے پو رے گھر کے لئے فیصلے کرتی ہے۔۔ میں نے بچوں کے ساتھ ایک چھت کے نیچے رہنے اور ان کی پرورش کر نے کے لئے جن جن مادی اور اپنی ذات کی خوشی کی آفرز کو ٹھکرایا مجھے ان پر رتی بھر ملال نہیں رہا۔۔ ایک ماں کو یہ حق ہی نہیں کہ وہ اپنے بچوں کی ذات پر اپنی ذات کو ترجیح دے۔

آج کی جدید ماؤں سے اپیل ہے کہ وہ معیشت اور وجود کی لڑائی میں کسی سانڈ کی طرح اندھا دھند نہ بھاگیں کیونکہ جو گائے اپنے سینگوں پر کائنات کو اٹھاتی ہے اس کی ذات سے انسانیت کو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ ورنہ اس گلوبل وارمنگ نے اگرسب جنتوں کو جہنموں میں تبدیل کردیا تو ہر طرف آگ ہی آگ بچے گی۔۔شہد اور دودھ کی بہتی نہروں کا تصور اس دنیا کے لئے ڈائناسورز کی طرح متروک ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔بچوں کی خاطر قربانی دینے والی سب ماؤں کو مدرز ڈے پر ایک زور دار سلیوٹ۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • منہ پھیکا کرا دیں گے
  • سڑک کے کنارے
  • کیا جنگ ہی حل ہے؟
  • وقت گزرتا جا رہا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جاوداں اشک فشانی لکھ کر
پچھلی پوسٹ
کوکن کا نسائی ادب

متعلقہ پوسٹس

تمنا وصل حسرت بن کہ رہ گئی

دسمبر 17, 2024

چور

جنوری 28, 2020

زخم

جنوری 24, 2020

سفر نامہ بھارت – تیسری قسط

نومبر 2, 2019

میں اللہ کا شکر ادا کرتی ھوں

اکتوبر 16, 2025

واہ! محمد علی سدپارہ

فروری 10, 2021

امامِ زمانہؑ کی مقام و منزلت !

فروری 6, 2026

شیخ رشیدسے گزارش ہے

اپریل 23, 2020

ایک دن میں قید۔۔۔حضرت اقبالؒ

نومبر 12, 2021

پچیس سال کی لیز

جنوری 3, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کبڑا داؤد

نومبر 23, 2019

ذوق کی قصیدہ نگاری

اپریل 2, 2012

ڈیم ہے یہ حمام نہیں

ستمبر 3, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں