544
چلو گمان کی حد سے گذر کے دیکھتے ہیں
کنویں میں کیا ہے کنویں میں اتر کے دیکھتے ہیں
وہ کہہ رہے ہیں اچھوتا سا کام کر دیکھو
سو چھے کو پانچ سے تفریق کر کے دیکھتے ہیں
اب ایسی فلم بھی شاید ہی کوئی ہو کہ جسے
اکٹھے بیٹھ کے افراد گھر کے دیکھتے ہیں
اب اس کے خال سے چلتے ہیں گیسوؤں کی طرف
سِمٹ کے دیکھ لیا ہے بکھر کے دیکھتے ہیں
فلک پر جتنے مَلک ہیں وہ اپنے چینل پر
شبانہ روز تماشے بشر کے دیکھتے ہیں
اب اور کیا سرِ بازار دیکھنا انور
کسی دُکان پہ چشمے نظر کے دیکھتے ہیں
انور مسعود
