516
اکیسویں صدی کا عشق
مجھے اور تمہیں کوئی ڈر نہیں
نہ کوئی وعدہ وفا کرنا ہے
نہ کوئی امید چراغ جلانا ہے
ایک شادی تھی فرسودہ رسم زمانے کی
وہ مرحلہ بھی طے کر چکے ہم
اپنی اپنی جگہ ہم کتنے مطمئن ہیں
اب ملنے بچھڑنے کا عذاب ہے کب
اب جستجو وصال کیسا
اب لذت لمس کی کسے تمنا
نہ زمانے کی فکر
نہ لوگوں کا خوف
ہم ان تمام جذبوں سے کتنے آگے نکل گئے ہیں نا
ہاتھوں کی پوروں میں سمٹ آئے ہیں
تم لمحہ لمحہ میرا انگ انگ چھوتے ہو
میں بھی اپنے سرہانے تمہارے لفظ پیتی ہوں
انگلی کے ایک اشارے پر دنیا کتنی سمٹ آئی ہے
ہم کو کتنا قریب لے آئی ہے
اور مجھے اور تمہیں کسی کا ڈر نہیں ہے
کیوں کہ میں نے بھی اپنے موبائل کا پاس ورڈ کسی کو نہیں بتایا
مریم تسلیم کیانی
