خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرمس چڑیا کی کہانی
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرخواجہ حسن نظامی

مس چڑیا کی کہانی

حسن نظامی کی اردو مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2019 0 تبصرے 437 مناظر
438

مس چڑیا کی کہانی

ایک چڑے چڑیا نے نئی روشنی کی ایک اونچی کوٹھی میں اپنا گھونسلا بنایا تھا۔ اس کوٹھی میں ایک مسلمان رہتے تھے جو ولایت سے بیرسٹری پاس کرکے اور ایک میم کو ساتھ لے کر آئےتھے۔ ان کی بیرسٹری کچھ چلتی نہ تھی۔ مگرگھرکےامیر زمیندار تھے۔ گزارہ خوبی سے ہوا جاتا تھا۔ ولایت سےآنے کےبعد خدا نے ان کو ایک لڑکی بھی عنایت کی تھی جو ماشاء اللہ چلتی پھرتی تھی اور باپ کی طرف سے مسلمان اور ماں کی طرف سےمس بابا تھی۔

چڑے چڑیا نے کھپڑیل کے اندر ایک سوراخ میں گھر بنایا۔ تنکوں اور سوت کا فرش بچھایا۔ یہ سوت پڑوس کی ایک بڑھیا کے گھر سے چڑیا لائی تھی۔ وہ بیچاری چرخا کاتا کرتی تھی۔ الجھا ہوا سوت پھینک دیتی، تو چڑیا اٹھا لاتی اور اپنے گھر میں اس کو بچھا دیتی۔

خداکی قدرت ایک دن انڈا پھسل کرگر پڑا اورٹوٹ گیا۔ ایک ہی باقی رہا۔ چڑےچڑیاکواس انڈےکا بڑا صدمہ ہوا، جس دن انڈا گرا ہےتو چڑیا گھونسلےمیں تھی۔ چڑا باہر دانہ چگنےگیا ہوا تھا۔ وہ گھرمیں آیا تو چڑیا کو چپ چپ اورمغموم دیکھ کرسمجھا میرے دیر میں آنےکےسبب خفا ہوگئی ہے۔

لگا پھدک پھدک کر چوں چوں، چیں، چڑچوں، چڑچوں، چیں چڑچوں، چوں، چڑچوں چڑچوں، چوں کرنے۔ کبھی چونچ مار کر گدگدی کرتا، کبھی خود اپنے پروں کو پھیلاتا، مٹکتا، ناچتا اور چڑیا کی چونچ پر اپنی چونچ محبت سے رکھتا، مگر چڑیا اسی طرح پھولی اپھری خاموش بیٹھی رہی۔ اس نےمرد ذات کی خوشامد کا کچھ بھی جواب نہ دیا۔ چڑاسمجھا بہت ہی خفگی ہے۔ مزاج حد سے زیادہ بگڑ گیا ہے۔ خوشامد سے کام نہ چلے گا۔ مجھ مرد کی کتنی بڑی توہین ہے کہ اتنی دیر خوشامد درآمد کی بیگم صاحبہ نے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔ یہ خیال کرکے چڑا بھی منہ پھیر کر بیٹھ گیا اور چڑیا سے بےرخ ہو کر نیچے بیرسٹر صاحب کو جھانکنے لگا جو اپنی لیڈی کے سامنے آرام کرسی پر لیٹے تھے اور ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ چڑے نے خیال کیا یہ آدمی کیسے خوش نصیب ہیں۔ دونوں کا جوڑا خوش و بشاش زندگی کاٹ رہا ہے۔ ایک میں بدنصیب ہوں۔ سویرے کا گیا دانہ چگ کر اب گھر میں گھسا ہوں، مگرچڑیا صاحبہ کا مزاج ٹھکانے میں نہیں ہے کاش میں چڑا نہ ہوتا اورکم سےکم آدمی بنایا جاتا۔

چڑا اسی ادھیڑبن میں تھا کہ چڑیا نےغمناک آواز نکالی ’چوں‘ چڑے نےجلدی سے مڑ کر چڑیا کو دیکھا اور کہا چوں چوں چڑچوں چوں، کیا ہے؟ آج تم ایسی چپ کیوں ہو؟ چڑیا بولی انڈا گر کے ٹوٹ گیا۔

انڈے کی خبر سے پہلے تو چڑے کو ذرا رنج ہوا، مگر اس نے صدمہ کو دبا کر کہا، تم کہاں چلی گئیں تھیں۔ انڈا کیوں کرگر پڑا۔ چڑیا نےکہا، میں اڑ کر ذرا چمن کی ہوا کھانے چلی تھی جھپٹہ کے صدمہ سے انڈا پھسل گیا۔

یہ بیان سن کرچڑا آپے سے باہر ہو گیا۔ اس کے مردانہ جوش میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے کڑک دارگرجتی ہوئی چوں چوں میں کہا، پھوہڑ، بدسلیقہ، بے تمیز تو کیوں اڑی تھی۔ تجھ کو چمن کی ہوا کے بغیر کیا ہوا جاتا تھا۔ کیا تو بھی اس گوری عورت کی خصلت سیکھتی ہے جو گھر کا کام نوکروں پر چھوڑ کر ہوا خوری کرتی پھرتی ہے۔ تو ایک چڑیا ہے۔ تیراکوئی حق نہیں ہےکہ بغیر میری مرضی کے باہر نکلے۔ تجھ کو میرے ساتھ اڑنے اور ہوا خوری کرنے کا حق ہے۔آج کل تو انڈوں کی نوکر تھی۔ تجھے یہاں سے ہٹنے کا اختیار نہ تھا۔ تو نے میرے ایک انڈے کا نقصان کر کے اتنا بڑا قصور کیا ہے کہ اس کا بدلہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ تو نے میرے بچے کو جان بوجھ کر مار ڈالا۔ تو نے خدا کی امانت کی قدر نہ کی جو اس نے ہم کو نسل بڑھانے کی خاطر دی تھی۔ میں تو پہلے دن منع کرتا تھا کہ اری کمبخت اس کوٹھی میں گھونسلہ نہ بنا۔ ایسا نہ ہو ان لوگوں کا اثر ہم پربھی پڑ جائے۔ ہم بیچارے پرانے زمانے کے دیسی چڑے ہیں۔ خدا ہم کو نئے زمانے کے چڑیا چڑے سے بھی بچائے رکھے کیوں کہ پھر گھر کے رہتے ہیں نہ گھاٹ کے، مگر تو نہ مانی اور کوٹھی میں رہوں گی۔ کوٹھی میں گھر بناؤں گی۔ یہ کہہ کر میرا ناک میں دم کر دیا۔ اب لا میرا بچہ لا۔ میں تجھ سے لوں گا۔ نہیں تو تمہارے ٹھونگوں کے کچلا بنادوں گا۔ بڑی صاحب نکلیں تھیں ہوا کھانے اب بتاؤں تجھ کو ہوا کھانے کا مزہ۔

چڑیا پہلے تو اپنےغم میں چپ چاپ چڑے کی باتیں سنتی رہی، لیکن جب چڑاحد سےبڑھا۔ تواس نےزبان کھولی اورکہا، بس بس، سن لیا، بگڑ چکے، زبان کوروکو۔ انڈے بچے پالنے کا مجھی پرٹھیکہ نہیں ہے تم بھی برابر کے شریک ہو۔ سویرے کے گئے گئے یہ وقت آگیا۔ خبر نہیں اپنی کس سگی کے ساتھ گل چھرے اڑاتے پھرتے ہوں گے۔ دوپہر میں گھر کے اندر گھسے ہیں اور آئے تو مزاج دکھاتے آئے۔ انڈا گر پڑا۔ مرے پنجہ کی نوک سےمیں کیا کروں۔ میں کیا انڈوں کی خاطر اپنی جوان جمان جان کو گھن لگا لوں۔ دو گھڑی باہر کی ہوا بھی نہ کھاؤں۔ صبح سے یہ وقت آیا۔ ایک دانہ حلق سے نیچے نہیں گیا۔ تم نے پھوٹے منہ سے یہ نہ پوچھا کہ تو نے کچھ تھوڑا کچھ نگلا یا مزاج ہی دکھانا آتا ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں ہے کہ اکیلی چڑیا پہ سب بوجھ تھا۔ اب آزادی اور برابری کا وقت ہے۔ آدھا کام تم کرو آدھا میں کروں۔ دیکھتے نہیں میم صاحبہ کو وہ تو کچھ بھی کام نہیں کرتیں۔ صاحب کو سارا کام کرنا پڑتا ہے اور بچہ کو آیا کھلاتی ہے۔ تم نے ایک آیا رکھی ہوتی میں تمہارے انڈے بچوں کی آیا نہیں ہوں۔

چڑیا کی اس تقریر سےچڑا سُن ہوگیا اورکچھ جواب نہ بن پڑا۔ بےچارہ غصہ کو پی کر پھر خوشامد کرنے لگا اور اس دن سے چڑیا کے ساتھ آدھی خدمت انڈے کی بانٹ کر اس نے اپنے ذمہ لے لی۔

مس چڑیا کی پیدائش

ایک انڈا تو ٹوٹ چکا تھا۔ دوسرے انڈے سے ایک بچہ نکلا جو مادہ یعنی چڑیا تھی، جب یہ بچہ ذرابڑاہوا اوراس نےمیم صاحبہ کے بچہ کو دیکھا کہ وہ کاٹھ کے گھوڑے پر سوار ہوتا ہے۔ گھڑی گھڑی دودھ پیتا ہے۔ ٹب میں بیٹھ کر نہاتا ہے۔ نئے نئے خوبصورت کپڑے پہنتا ہے تو اس چڑیا زادی نےبھی باپ سےکہا، چیں،چیں، چیں، ابا مجھ کو بھی گھوڑا منگا دو، ابا میں بھی ٹب میں نہاؤں گی، ابا مجھ کوبھی ایسے رنگ برنگ کے کپڑے لاکر دو۔ چڑے نےچڑیا سےکہا لےُسن۔ دیکھا مزہ کوٹھی میں گھر بنانے کا۔ اب لا اپنی لاڈلی کے واسطے گھوڑا، لا ٹب منگا، کپڑے بنا۔

چڑیا نے کہا، دیکھو پھر وہی لڑائی کی باتیں نکالیں۔ ایک کی تو تمہاری اس کل کل سے جان گئی۔ یہ نگوڑی بچی ہے۔ تم اس کو بھی نہیں دیکھ سکتے۔ بچہ ہے، کہنےدو۔ یہ کیا جانے ہم غریب ہیں اور یہ چیزیں نہیں لا سکتے۔ بڑی ہوگی تو آپ سمجھ لے گی کہ چڑیوں کو آدمیوں کی ڈریس سےکیا سروکار۔

مس چڑیا نے ماں کی بات سن کرکہا، واہ بی اماں واہ۔ تم غریب تھیں، تم چڑیا تھیں تو اس امیر کی کوٹھی میں آکر کیوں رہی تھیں۔ گاؤں کے چھپر میں گھر بنایا ہوتا۔ میں توہرگز نہ مانوں گی اورمیم صاحب کے بچہ کی سی سب چیزیں منگا کر رہوں گی۔ نہ لاؤگی تو لو میں گرتی ہوں اور مرتی ہوں۔ پاپ کاٹےدیتی ہوں۔ نہ زندہ رہوں گی نہ تم پر میرا بوجھ ہوگا۔

چڑے چڑیا نے گھبرا کر کہا، ہے ہے، ایسا غضب نہ کیجیو۔ اچھا اچھا ہم سب کچھ منگا دیں گے۔ یہ کہہ کر اور مس چڑیا کو دلاسا دے کر دونوں نے چونچ سے چونچ ملائی اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کیا۔ روتے تھے اور یہ کہتے تھے، ہائے اچھوں کی صحبت اچھا بناتی ہے اور بروں کی صحبت برا کر دیتی ہے۔ یہ بیرسٹر صاحب اچھے سہی مگر ان کی صحبت سے ہمارا تو ستیاناس ہو گیا۔ ہائے ہماری لالٹری ہاتھوں سےنکل گئی۔ ہائے یہاں تو اور کوئی چڑیا بھی نہیں جو ہمارے دکھ میں شریک ہو۔ چڑےچڑیا روتےتھے اورمس چڑیا قہقہہ لگاتی تھی کہ نئے زمانے کی اولاد ایسی ہی ہوتی ہے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کبوتروں والا سائیں
  • اتفاقیہ ملاقات
  • پاکستان کی شان بڑھانے والے!
  • فلسطین اور امت مسلمہ!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خدا پرستی کا نسخہ
پچھلی پوسٹ
پیاری ڈکار

متعلقہ پوسٹس

ایک اہم بات جو کہنے جا رہا ہوں

دسمبر 27, 2025

جانشینی سرٹیفیکیٹ

نومبر 26, 2025

تسبیح فاطمہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا)

جون 4, 2024

موت، مشرف اور انصاف

دسمبر 20, 2019

آلنا

فروری 5, 2022

شوق

جنوری 8, 2025

خلیفہ سوئم امیر المومنین

اگست 9, 2024

پلیگ اور کوارنٹین

مارچ 25, 2020

موٹی چھوڑ کے لاڈو

مئی 21, 2020

خلیفہ دوئم امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ

جولائی 6, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شیر خوار

مارچ 25, 2025

پریم چند مرتے کیوں نہیں؟

جنوری 24, 2020

مسئلہ کشمیر

دسمبر 9, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں