563
لوگ چپ چاپ رواں ہیں ہر سمت
جس طرح نیند میں چلنے والے
سانس لینے کو ابھرتی ہے زمیں
کچھ جزیرے ہیں نکلنے والے
دیکھ سیال شفق کی جگمگ
جس طرح رنگ پگھلنے والے
کھوٹ کی طرح الگ ہو گئے لوگ
ہم تھے اک آگ میں جلنے والے
رنگ پوشاک سے اڑ جاتے ہیں
یہ پرندے نہیں پلنے والے
اے ہتھیلی پہ دھرے انگارے
ہم نہیں ہاتھ بدلنے والے
سعود عثمانی
