خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریریہ سال بھی آخر بیت گیا
اردو تحاریرحیات عبداللہ

یہ سال بھی آخر بیت گیا

حیات عبد اللہ کا اردو کالم

از حیات عبد اللہ دسمبر 29, 2019
از حیات عبد اللہ دسمبر 29, 2019 0 تبصرے 431 مناظر
432

یہ سال بھی آخر بیت گیا

یہ سال بھی کچھ لوگوں کی زندگی میں رعنائی اور زیبائی تو کسی کی زیست میں تلخ اور جاں سوز سانحات گھول کر رخصت ہو چلا۔کتنے ہی لوگ جو ہماری زندگیوں کا ایسا خاصّہ اور جھومر تھے کہ جن کے بغیر خوشیوں کے تمام رنگ مدھم اور پھیکے محسوس ہوتے تھے، ہمیں سسکتا تڑپتا چھوڑ کر یوں رخصت ہو گئے کہ ہم اُنھیں ساری زندگی بھی کھوجتے رہیں تب بھی اُن کی ایک جھلک تک دکھائی نہ دے سکے گی۔
10 نومبر 2019 کی صبح اپنے دوست سیّد افتخار شاہ کی اچانک وفات کی خبر سُنی تو جسم وجاں لرز کر رہ گئے کہ اچانک آنے والی افتاد انسان کو یک دم ہی نڈھال اور ادھ موا کر ڈالتی ہے۔2 نومبر 2019 کو میرے محترم المکرّم استاذ حاجی مجیب الرحمان صاحب، جن سے میں نے قرآنِ مجید پڑھا تھا اچانک ہی اپنے اللہ سے جا ملے۔آپ بھی اپنے ماضی کے دریچوں میں جھانک کر اوراقِ پارینہ کو الٹ پلٹ کے دیکھ لیجیے۔ہم کتنے ہی پیاروں کو اپنے ہاتھوں قبروں میں دفن کر چکے۔گردشِ لیل ونہار ہمارے کتنے ہی محبت مآب لوگوں کو زیرِ خاک دفن کر چکی۔موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے کہ جو سورج کی رُوپہلی کرنوں جیسے تابناک چہروں کو چھوڑتی ہے نہ چودھویں کے چاند سا حُسن وجمال رکھنے والوں کو معاف کرتی ہے۔
لیکن ذرا ٹھہریے! چند ثانیوں کے لیے سوچ اور فکر کے اس پہلو پر بھی غور کیجیے کہ بہت جلد ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے جب ہماری اپنی سانسیں بھی اکھڑ جائیں گی، ہماری نبضیں بھی ڈوبنے لگیں گی، ہماری آنکھیں بھی پتھرا جائیں گی اور موت کا فرشتہ ہماری سانسوں کو بھی سینت لے گا…اور پھر ہمارا دل بھی آخری بار دھڑک کر ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا… پھر انھی مساجد میں ہماری نمازِ جنازہ کا اعلان کیا جائے گا۔ہمیں بھی لکڑی کے تختے پر لٹا کر غسل دیا جائے گا… ہمیں بھی کفن پہنایا جائے گا… ہمیں بھی کندھوں پر اٹھا کر قبرستان لے جا کر دفن کر دیا جائے گا۔زندگی کی اَن گنت ساعتیں ہمارے ساتھ گزارنے والے ہمارے اپنے لاڈلے اور چہیتے لوگ ہم پر منوں مٹی ڈال کر ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں گے۔پھر اندھیری قبر ہو گی، اللہ کا فرشتہ ہو گا اور ہم ہوں گے۔سوچیے پھر کیا بنے گا؟ کون ہمارے کام آئے گا؟ کون ہمارے خوف اور دہشت کو کم کرے گا؟ وہ بھی تو ہمارے ساتھ نہ ہوں گے جو دنیا میں ہمیں جان سے بڑھ کر پیارے تھے۔ بس ہم اکیلے ہوں گے۔
دنیا کی اس عارضی اور مختصر زندگی میں ہم محبتوں کی پرتوں کو کھوجتے، کھولتے اور کھنگالتے معلوم نہیں کن انجان پگڈنڈیوں پر بھٹک اور پھر لڑھک جاتے ہیں۔ہم خواہشوں کے اسیر ٹھہرے، ہم مادیت پسندی کے خوگر جو ہیں، سو ہم اپنی گراں مایہ محبتوں کی ضیا پاشیوں کے حق دار ان لوگوں کو ٹھہرا لیتے ہیں کہ جنھیں بوئے وفا چُھو کر بھی نہیں گزری۔ہم ایسے لوگوں پر سب کچھ وار دیتے ہیں کہ احسان فراموشی جن کی سرشت اور خُو میں رچی بسی ہوتی ہے۔غوطہ زنِ محبت ظاہری حُسن وجمال سے مرعوب ہو کر ایسے لوگوں پر اپنی متاعِ زیست تک نچھاور کر ڈالتے ہیں کہ جن کی رگوں میں بے حسی اور شریانوں میں بے مروتی دوڑتی پھرتی ہے۔خارزارِ حیات میں کتنی بار یوں ہوتا ہے کہ آپ کسی کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتے ہیں… آپ اُسے راہوں کے نشیب وفراز اور راستوں کے سنگ ریزوں سے بچنے کا ہنر اور سلیقہ سمجھاتے ہیں اور پھر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہی شخص آپ کو لنگڑا سمجھنے لگتا ہے۔جی ہاں! کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کسی کوحروف، پھر الفاظ، پھر جملے اور پھر فصاحت وبلاغت کے اصول وقوانین سے روشناس کراتے ہیں اور پھر وہی آپ کو گونگا کہنے لگ جاتا ہے۔آپ اس شخص کی بے مروتی پر کس قدر کُڑھ اور کٹ کر رہ جاتے ہوں گے؟ ممکن ہے آپ نے کسی کی محبت کو وقار، اعتبار اور نکھار دیا ہو اور پھر اُسی نے آپ کی چاہت کی پیٹھ پر تحقیر کے کوڑے برسا دیے ہوں۔ایسا کیوں ہے؟ اس کے اسباب اور وجوہ کیا ہیں؟ بات بڑی ہی واشگاف ہے کہ ہم نے محبتوں کے حقیقی حق دار اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ثانوی حیثیت دے دی ہے(معاذاللہ) وہ خالقِ ارض وسما کہ جس نے محبتوں کے آبگینے انسان کے دل میں جَڑ دیے، وہ اللہ ربّ العزت جس نے چاہت اور خلوص کے موتی سینوں میں پرو دیے، وہ مالک المک جس نے انسان کے لیے بے پایاں نعمتیں پیدا کیں، وہ اللہ عزّوجل جس نے انسان کو بڑا ہی خوبصورت پیدا کیا، سنو، اے دنیا کے لوگو! سنو، اے محبت کے داعیو! اے انسانوں سے وفاؤں کا صلہ مانگنے والو! اے محبت کے عوض محبت کے طلب گارو! تم کسی کی محبت میں اس قدر اندھے کیوں ہو جاتے ہو کہ اپنے اللہ اور جان سے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی بھول جاتے ہو۔سنو، اے لوگو! محبت کا صلہ اللہ سے بڑھ کر کوئی دے ہی نہیں سکتا۔خود اللہ فرماتے ہیں”جتنا میں خوش کسی بندے پر اس کے فرض ادا کرنے سے ہوتا ہوں، اتنا خوش کسی چیز پر نہیں ہوتا اور بندہ مسلسل نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ چُھوتا ہے اور پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں دوڑ کر آتا ہوں، وہ مجھے لوگوں میں یاد کرتا ہے، میں اس سے بہتر لوگوں میں اس بندے کو یاد کرتا ہوں، اگر وہ مجھ سے سوال کرے میں اس کے سوال کو سنتا ہوں اور اس کی دعا قبول کرتا ہوں“(بخاری)
سنو، اے مومنو! کیا محبت کا بدلا اس سے بڑھ کر کچھ اور ہو سکتا ہے؟ اور یاد رکھو اللہ وہ واحد ہستی ہے جو ہماری ماں سے بھی ستّر گُنا زیادہ ہم سے محبت کرتی ہے۔دنیائے ہست وبود میں کوئی اور اتنی محبت کرنے والا ہے تو پیش کرو اور اللہ کی قسم! اللہ کی یہ محبت اُس وقت تک پایہ ء تکمیل کو نہیں پہنچ سکتی جب تک اُس کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جان سے بڑھ کر پیار نہ کیا جائے۔محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ” کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھے اپنی اولاد، اپنے والدین، تمام لوگوں، حتی کہ اپنی جان سے بڑھ کر محبت نہ کرے“ اور اس محبت کا صلہ بہ روزِ قیامت کتنا شان دار ہو گا کہ نبیِ مکرّم صلی اللہ علیہ وسلم حوضِ کوثر پر اپنے ہاتھوں سے جام بھر بھر کر پلائیں گے۔سوچیے! اس سے بڑا سعید بخت اور کون ہو گا؟
اے مَحبت کے امینو! زندگی کے وہ اَن گنت لمحات جو تم نے کسی” سراب“ کے پیچھے لٹا دیے، آنکھوں سے گرنے والے وہ ارمغانِ محبت جو تم نے کسی بے مہر اور بے مروت شخص کے لیے بہا دیے… آؤ! رات کے کسی پہر اس ربّ کریم کی یاد میں ایک موہوم سی سسکی، ایک لطیف سی آہ اور خفیف سے آنسو بہا کر تو دیکھو۔دیکھنا سرُور اور سکون کے گراں مایہ جذبات رگ وپے میں کس طرح سرایت کرتے ہیں۔اگر ایسا نہ کر سکو تو کبھی خلوت نشیں ہو کر اُن ایمان آفریں لمحات کے متعلق ضرور سوچنا کہ جب ہم بیت اللہ کو پہلی بار اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو ہماری حالت کیا ہو گی؟ ہم اپنے آنسو کیسے روک پائیں گے؟ ہماری کس قدر ہچکیاں بندھ جائیں گی؟ ہم کس قدر روئیں گے؟ ہم کس قدر گِڑگِڑائیں گے؟ ہم اشکوں کی جھڑی اور دُھند میں اس خالقِ حقیقی سے کیا کچھ مانگتے چلے جائیں گے؟ اس دن تو ہمارے دل میں یہ احساس ضرور ٹھاٹھیں مارے گا کہ ہم آج تک مَحبتوں کے سرابوں اور خرابوں کا ہی تعاقب کرتے رہے۔ہم چاہتوں کی راہوں میں ہوا کے دوش کسی خزاں رسیدہ زرد پتّے کی طرح بے توقیر ہی بھٹکتے رہے۔آنسو بہتے چلے جائیں گے، دل احساسِ ندامت سے چُور سوچتا چلا جائے گا کہ اصل مَحبت تو اب ملی ہے، درست منزل تو اب دکھائی دی ہے۔اگر ایسا کچھ بھی ہم نے نہ سوچا تو پھر اِس سال کی طرح یہ آنے والا نیا سال بھی بیت جائے گا، بہت جلد یہ زندگی بھی تمام ہو جائے گی اور اگر ہم اللہ کے حضور ایسا دل لے کر حاضر ہوئے کہ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے تہی ہوا تو پھر ہم اللہ اور اس کے رسول کو کیا منہ دکھائیں گے؟ سنو، اے وفاؤں کا دم بھرنے والو! لوگوں سے محبت ضرور کرو مگر خدارا اس مَحبت کو اللہ اور اس کے رسول کی مَحبت پر مقدّم تو نہ جانو۔

حیات عبداللہ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • حضرت عثمان غنیؓ کی مظلومانہ شہادت
  • ہم کس مرحلے میں ہیں؟
  • ایک باپ بکاؤ ہے
  • ووٹ کا صحیح استعمال
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
حیات عبد اللہ

اگلی پوسٹ
پیچھے مڑ کے دیکھنا اچھا لگا
پچھلی پوسٹ
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟

متعلقہ پوسٹس

سرخ فیتے سے قبل کا دور​

دسمبر 12, 2019

کشمیر میں بھارتی استعماریت

فروری 6, 2020

انٹرویو

فروری 5, 2020

جب قربانیوں کا صلہ اجنبیت بن جائے

اکتوبر 1, 2025

ایران امریکہ جنگ بندی کے مصالحتی مطالبات

اپریل 26, 2026

پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس کا نظام

مارچ 29, 2026

عورت کی کہانی

مارچ 3, 2018

دوست کی شادی – خوشیوں کا سفر

مارچ 19, 2026

کینڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ

نومبر 12, 2019

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نمک کا داروغہ

دسمبر 10, 2019

اب بھی جلتا شہر بچایا جا...

مارچ 5, 2020

تکبر کا انجام

جولائی 24, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں