622
ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے
مہتاب بڑی دیر سے گہنایا ہوا ہے
ہے کوئ سخی اس کی طرف دیکھنے والا
یہ ہاتھ بڑی دیر سے پھیلایا ہوا ہے
حصہ ہے کسی اور کا اس کارِ زیاں میں
سرمایہ کسی اور کا لگوایا ہوا ہے
سانپوں میں عصا پھینک کے اب محوِ دعا ہوں
معلوم ہے دیمک نے اسے کھایا ہوا ہے
دنیا کے بجھا نے سے بجھی ہے نہ بجھے گی
اس آگ کو تقدیر نے دہکایا ہوا ہے
کیا دھوپ ہے جو ابر کے سینے سے لگی ہے
صحرا بھی اسے دیکھ کے شرمایا ہوا ہے
اصرار نہ کر میرے خرابے سے چلا جا
مجھ پر کسی آسیب کا دل آیا ہوا ہے
تو خوابِ دگر ہے تری تدفین کہاں ہو
دل میں تو کسی اور کو دفنایا ہوا ہے
فیصل عجمی
