خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسقوطِ ڈھاکہ کا مقدمہ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعلی عبد اللہ ہاشمی

سقوطِ ڈھاکہ کا مقدمہ

ایک اردو کالم از علی عبد اللہ ہاشمی

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 16, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 16, 2019 0 تبصرے 430 مناظر
431

سقوطِ ڈھاکہ کا مقدمہ

سقوطِ ڈھاکہ پر ایک سیمینار میں بات کرتے ہوئے آغا شورش کاشمیری نے کہا تھا کہ

"سقوطِ ڈھاکہ کے ذمہ دار ان گنت ہیں، لیکن ان میں انگور کا پانی اور جنرل رانی نمایاں ہیں”

چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدرِ پاکستان جنرل یحی خان ایک بدکردار اور بلانوش شخص تھا جس نے صدارتی محل کو شراب و کباب اور جنرل رانی جیسی پیشہ ور عورتوں کا اڈہ بنا رکھا تھا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان ان دنوں بالترتیب شیخ مجیب الرحمٰن (مشرقی پاکستان) اور ذوالفقار علی بھٹو (مغربی پاکستان) کیساتھ ہم آواز تھے جبکہ یحیٰ خان اور اسکے ادارے کے مفادات عوامی لیڈران کی سوچ سے متصادم تھے۔

یحیٰ خان نے بندوق کی نالی پر ایوب خان سے 1962 کا آئین معطل کرایا اور مارشل لاء لگا کر مطلق العنانی کے مزے لُوٹ رہا تھا جبکہ مجیب الرحمن اور بھٹو کے ساتھ کھڑے لوگ عوامی حکمرانی (سیاسی نظام) کیلئے جدوجہد تیز کرتے چلے جا رہے تھے۔ حالات قابو سے باہر نہ نکل جائیں لہذا بہ امرِ مجبوری یحیٰ نے 30 مارچ 1970 کو لیگل فریم ورک آرڈر ملک میں نافذ کر دیا اور بددیانتی پر مبنی اس قانون کے تحت آئین ساز اسمبلی کیلئے انتخابات کروانے کا اعلان کر دیا۔ یہ LFO حقیقت میں یحیٰ خان کے حتمی کے تسلط کا منصوبہ تھا جسکی شرمناک شرائط کی مثال دنیا بھر میں دوسری نہیں ملتی۔ دستاویز کے مطابق LFO میں تبدیلی کا حق صرف یحیٰ خان کو حاصل تھا اور جمہوری طور پر منتخب ہوئی حکومت اسکے احکامات کی نہ صرف پابند تھی بلکہ آمر کے حکم کو چیلنج بھی نہیں کر سکتی تھی۔ بددیانتی کی حد تھی کہ متصادم تہذیبوں اور باہمی نفرت پر مشتمل اکائیوں کو صرف 120 دن میں آئین بنانے کا پابند کیا گیا جس میں ناکامی پر اسمبلی خودبخود تحلیل ہو جاتی۔ بالفرض اگر یہ اسمبلی باہمی تفرقات اور من و تُو سے اوپر اٹھ کر آئین بنا بھی لیتی تو حتمی اطلاق کیلئے وہ صدر کے اپروول کی پابند تھی۔ نامنظوری کی صورت میں اسمبلی آئین کو آمر کی منشاء مطابق ترامیم (نظر ثانی) کر کے دوبارہ اسکے آگے پیش کرتی جسے دوبارہ نامنظور کر کے وہ اسمبلیاں تحلیل کر سکتا تھا۔

بھُٹو صاحب نے سوشلسٹ منشور جبکہ شیخ مجیب نے 1970 کا الیکشن (قراردادِ لاہور 1966 کے منظور کردہ) 6 نکات پر لڑا جو درج ذیل تھے۔

١۔ 1940 کی قرار دادِ لاہور کیمطابق فیڈریشن کا قیام جس میں تمام صوبوں کی شمولیت رضاکارانہ ہوگی یعنی وہ جب چاہیں وفاق سے علیحدگی اختیار کر سکتے تھے۔
٢۔ وفاقی حکومت دفاع اور امورِ خارجہ کے علاوہ تمام اختیارات صوبوں کو تفویض کرے گی۔
٣۔ دونوں صوبوں میں الگ الگ کرنسی ہوگی اور ایک کرنسی کی صورت میں ایک صوبے کی آمدن دوسرے صوبے کو منتقل نہیں ہوگی۔
۴۔ ٹیکس لگانے اور وصول کرنے کا اختیار صوبوں کے پاس رہے گا اور وہ وفاق کو امور مملکت چلانے کیلئے صرف مخصوص رقم فراہم کریں گے۔
۵۔ غیر ممالک کیساتھ تجارت کرنے میں صوبے خود مختار ہوں گے۔
٦۔ دفاع کیلئے اپنی صوبوں کو علیحدہ سے ملیشیاء اور پیرا ملٹری فورسز بنانے کا اختیار ہوگا۔

یحیٰ نے اس LFO میں 1956 کے آئین سے قائم شدہ Parity یعنی دونوں حصوں کیلئے برابر نمائیندگی کو ختم کر کے بنگالیوں کے دیرینہ مطالبے تئیں 313 کے ایوان میں متناسب نمائیندگی کا اصول یعنی حصہ بالحاظ آبادی متعارف کروایا جس کے مطابق قومی اسمبلی میں مشرقی پاکستان کو 169 جبکہ مغربی(موجودہ)

پاکستان کو 144 سیٹیں ملیں۔ مختلف وجوہات کی بناء پر صرف 300 نشستوں پر انتخابات عمل میں آئے جن میں مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی 166 نشستیں جیت کر ڈالے گئے ووٹوں کا %39.2 اپنے نام کیا اور ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری۔ مشرقی پاکستان کی 310 صوبائی نشستوں میں سے 298 سیٹوں پر کامیابی بھی عوامی لیگ کے نام رہی۔ دوسری جانب بھُٹو صاحب مغربی پاکستان میں سخت مقابلے کے بعد قومی اسمبلی کی 81 سیٹیں جیت کر دوسرے نمبر پر رہے اور کُل ووٹوں کا %18.6 فیصد حاصل کیا۔ صوبائی انتخابات میں پنجاب اور سندھ میں پیپلز پارٹی جبکہ سرحد (موجودہ کےپی) اور بلوچستان میں مارکسسٹ پارٹی ANP نے فتح حاصل کی۔

مجیب الرحمٰن نے چونکہ الیکشن ہی قراردادِ لاہور 1966 کے چھ نکات پر لڑا تھا اور ملک کی تین چوتھائی نشستوں پر کامیاب ہوا تھا لہذا وہ اس پوزیشن میں تھا کہ انہی چھ نقات کی بنیاد پر آئین ساز اسمبلی سے آئین منظور کروا لے جبکہ بھٹو صاحب کا کہنا تھا کہ مجیب کے چھ نکات کو مغربی پاکستان میں ایک بھی نشست نہیں ملی لہذا آئین بناتے ہوئے مغربی پاکستان کے لوگوں کے موقف کو بھی سنا جائے۔ دونوں لیڈران میں مذاکرات کے کئی دور ہوئے مگر شیخ مجیب چھ نکات سے ہٹنے پر آمادہ نہ ہوا۔ بھٹو صاحب چھ میں سے ساڑھے پانچ نکات پر آمادہ تھے کہ پیرا ملٹری کی حد تک صوبائی اختیار میں کوئی مذائقہ نہیں تھا مگر الگ فوج بنانے پر انکو اعتراض تھا کیونکہ انکے بقول ایک مملکت میں دو فوجیں کیسے ہو سکتی تھیں؟ مگر مجیب الرحمٰن جو بنگالی عوام کے مسلسل استحصال کی پیداوار تھا نہ مانا۔ (وجہ یہ تھی کہ (1947 سے 1970 تک دوسرے اداروں کی طرح فوج میں بھی بنگالیوں کو پروموٹ نہیں کیا جاتا تھا اور ایوب دور تک اس بات کو یقینی بنا دیا گیا تھا کہ کوئی بنگالی فوج کے اعلی عہدوں تک نہ پہنچنے پائے)۔

اس سیاسی ابتری کا مرکزی آرکیٹیک وہی LFO تھا جس نے برابر نمائندگی ختم کر کے حصہ بقدرِ جُثہ کے نظام کے تحت 1970 کے انتخابات کروائے تھے کیونکہ بنانے والے اچھی طرح جانتے تھے کہ بنگالی پاکستان بننے کے کچھ ہی مہینوں کے اندر اپنے سیاسی نمائیندوں کو ذلیل کرنے پر تلملانے لگے، اور انکے آزاد پاکستان کے خواب سے دھواں اٹھنے لگا تھا۔مثلاً 1948 میں اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا تو پورا مشرقی پاکستان انگارہ بن گیا اور مطالبہ کرنے لگا کہ اردو بنگلہ دونوں کو قومی زبان قرار دیا جائے پر ہزاروں مظاہروں کے باوجود ہمارے حکمرانوں کے کانوں پر جُوں تک نہ رینگی۔ یہاں تک کہ 21 فروری 1952 کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے طالبِ علموں کے (مادری زبان کے حق میں) ایک احتجاجی مظاہرے پر گولی چلا کر ہمارے شیر جوانوں نے عبدالسلام، رفیق الدین احمد، صوفی الرحمن، عبدالبرکت اور عبدالجبار کو قتل کیا اور سینکڑوں دیگر کو زخمی کیا۔ ایسے ہزاروں زخموں کی موجودگی میں برابر نمائیندگی کے اصول کو ختم کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ بنگالی الیکشن جیت کر ایسا آئین بنائیں کہ جسے ریجیکٹ کر کے فوجی اسمبلیاں تحلیل کر دے تا کہ راوی فوج کی مُخلص کوشش اور سیاستدانوں کی نالائقی پر تا قیامت چین کی بنسی بجاتا رہے اور یہی LFO کا درپردہ مقصد تھا۔ افسوس ملک کے دو مقبول ترین لیڈروں سے طالع آزما جرنیلوں کی بچھائی ہوئی رسیاں نہ کٹ سکیں اور وہ آئین سازی کے معاملے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

دوسری طرف بدماشیہ کو یہ گمان تھا کہ ڈھاکہ یونیورسٹی کی طرح وہ عوام کو پیروں تلے کچل کر سدا اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے رہیں گے۔ انہیں اللہ کی لاٹھی اُس وقت دکھائی دی جب وہ سر میں آن پڑی۔ مظلوموں کی آہ و بکا سنی گئی اور تاریخ کا پہیہ چل گیا اور ایسا چلا کہ دونوں اکائیوں کے درمیان ہمیشہ ہمیش کیلئے تفریق کی لکیر کھینچ گیا۔ دسمبر 3 سنہ 1971 کو بھارت نے مشرقی پاکستان میں اپنی فوجیں گھسا دیں اور بنگالی عوام کی معیت میں محض بارہ دنوں میں ڈھاکے پہنچ گئی۔ یحیٰ خان نے سرنڈر کا حکم جاری کیا اور بے شرم جرنیل امیر عبداللہ خان نیازی نے ہنستے مسکراتے پلٹن کے میدان میں 93 ہزار سپاہیوں کیساتھ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ آوارہ و بدچلن جنرل یحیٰ خان کی ڈھٹائی اور فریب کاری کا عالم یہ تھا کہ ہماری فوج 16 دسمبر 1971 کو اسکے اپنے حکم پر بھارت کے سامنے سرنڈر چکی تھی لیکن اگلے دن مغربی پاکستان کی اخبارات کی شہہ سرخی یہ تھی کہ۔۔۔

"ہم آخری سپاہی، آخری گولی تک لڑیں گے”

یہی نہیں جب بی بی سی نے ہمارے جرنیلوں کے کالے کرتوتوں کا پردہ فاش کیا اور لوگ جی ایچ کیو کے باہر ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے لگے اور قریب تھا کہ اس قتنہ گھر کو آگ لگا دیں تو کہیں سے بھٹو صاحب نکل آئے اور چار گھنٹے ایک پھٹے پر کھڑے ہو کر مشتعل مظاہرین کو ٹھنڈا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ بجائے اسکے کہ بدماشیہ تا عمر بھٹو کے پاوں دھو دھو کر پیتی الٹا احسان فراموشوں نے سقوطِ ڈھاکہ کا الزم بھٹو پر ہی دھر دیا حالانکہ یحیٰ جیسا مقتدر آمر اگر انتقالِ اقتدار کی بابت مُخلص ہوتا اور شیخ مجیب الرحمٰن کو اقتدار سونپ دیتا تو بھٹو صاحب کیا کر سکتے تھے؟

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • انسانیت کا جنازہ ذرا دھوم سے نکلے
  • پاکستان کے لیے دو خوش خبریاں
  • پنہاں سے درد سے
  • نظروں کی گفتگو کہیں تحریر تو نہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پنواڑی
پچھلی پوسٹ
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے

متعلقہ پوسٹس

ادب،ناول اور معاشرے کا باہم اتصال

جولائی 12, 2023

استعارے کی کیا ضرورت ہے

مئی 22, 2020

اپنے اندر تُو چھپی

جولائی 19, 2025

عجب کرپشن کی غضب کہانی

اکتوبر 18, 2025

تربوز سے تپتی دھوپ میں ٹھنڈک کا احساس

نومبر 14, 2021

سنو ناں بابا 

فروری 13, 2020

سلام کرنے کی فضیلت

اکتوبر 6, 2024

ایک بار الکشن میں

دسمبر 15, 2019

بے بسی اور خفت کا عالم

جنوری 4, 2022

صداقت کی دکانوں کی

دسمبر 25, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جگہیں خالی نہیں ہوتیں

دسمبر 3, 2020

پیرِ کامل کس کو کہتے ہیں

جنوری 5, 2022

سب کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں

مارچ 16, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں