خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممردانگی
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمیر حسن

مردانگی

از سائیٹ ایڈمن نومبر 1, 2026
از سائیٹ ایڈمن نومبر 1, 2026 0 تبصرے 8 مناظر
9

رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ وہ کام سے واپس آیا تو کھانا میز پر رکھا تھا۔ بیوی نے کھانا گرم کرتے ہوئے پوچھا، ’’آپ نے اس مسئلے پر کوئی فیصلہ کیا؟‘‘
اس نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا، ’’ابھی نہیں، دیکھتے ہیں۔‘‘
’’لیکن کب تک؟ دو ہفتے ہو گئے ہیں، آپ ہر بار یہی کہتے ہیں۔‘‘
وہ خاموش ہو گیا۔ بیوی نے دوبارہ کچھ کہنا چاہا تو اس نے موبائل اٹھایا اور دوسرے کمرے میں چلا گیا۔
مسئلہ اتنا بڑا نہیں تھا کہ حل نہ ہو سکتا، مگر اب اس میں ایک اور مسئلہ شامل ہو چکا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے بولنے کا انتظار کر رہے تھے۔
مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہمارے بہت سے رشتے کسی بڑی غلطی سے نہیں، انہی چھوٹی چھوٹی ضدوں سے کمزور ہوتے ہیں۔ ہم اپنی بات پر قائم رہنے کو خودداری سمجھ لیتے ہیں، چاہے سامنے والے کی بات میں کتنی ہی سچائی کیوں نہ ہو۔
میں نے کہیں پڑھا تھا:
’’مرد فیصلہ کرتے اچھے لگتے ہیں، مرد لڑائیاں ختم کرتے اچھے لگتے ہیں، مرد مضبوط اچھے لگتے ہیں، مرد عورتوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے اچھے لگتے ہیں، مرد مرد ہی اچھے لگتے ہیں۔‘‘

پڑھ کر خیال آیا کہ بات تو خوبصورت ہے، مگر کیا ہم واقعی ان الفاظ کا مطلب سمجھتے ہیں؟
مرد کے فیصلے کی خوبصورتی اس کے حکم میں نہیں، اس کی ذمہ داری میں ہوتی ہے۔
فرض کیجیے ایک شخص کو اچانک معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ملازمت ختم ہونے والی ہے۔ گھر کا کرایہ دینا ہے، بچوں کی فیس باقی ہے، والدین کی دوائیں بھی لانی ہیں۔ وہ پریشان ہے، مگر کسی سے کچھ نہیں کہتا۔ گھر میں سوال ہوتا ہے تو غصے میں جواب دیتا ہے۔ پھر ایک دن اپنی ساری پریشانی گھر والوں پر نکال دیتا ہے۔
دوسری طرف ایک شخص انہی حالات میں اپنی بیوی کو اعتماد میں لیتا ہے۔ اسے بتاتا ہے کہ حالات مشکل ہیں، کچھ اخراجات کم کرنے ہوں گے اور شاید چند مہینے زیادہ محنت کرنی پڑے۔
دونوں کے مسائل ایک جیسے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک اپنی پریشانی کو دیوار بنا لیتا ہے اور دوسرا اسے مل کر حل کرنے والا مسئلہ سمجھتا ہے۔
یہاں مجھے مرد کی اصل ذمہ داری نظر آتی ہے۔ اسے ہر مسئلے کا حل معلوم ہونا ضروری نہیں، مگر مسئلے سے بھاگنے کے بجائے اس کا سامنا کرنا آنا چاہیے۔ کبھی اسے فیصلہ کرنا ہوگا، کبھی کسی سمجھ دار شخص سے مشورہ لینا ہوگا اور کبھی اپنی غلطی تسلیم کر کے دوبارہ آغاز کرنا ہوگا۔
ہماری معاشرت میں اکثر مرد سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ کبھی کمزور نہ پڑے۔ وہ کمانے والا ہو، حفاظت کرنے والا ہو، ہر مشکل میں راستہ نکالے اور اپنی پریشانی کسی پر ظاہر نہ کرے۔
مگر مرد بھی انسان ہے۔ اسے بھی خوف آتا ہے۔ وہ بھی کبھی تھک جاتا ہے۔ بعض دن ایسے ہوتے ہیں جب اسے خود سمجھ نہیں آتی کہ آگے کیا کرنا چاہیے۔
ایسے وقت میں اپنی کیفیت بتا دینا بے بسی نہیں۔ اصل مشکل تو یہ ہے کہ آدمی اندر سے پریشان ہو اور باہر سے اتنا سخت ہو جائے کہ اس کے اپنے بھی اس کے قریب آنے سے گھبرانے لگیں۔
مضبوطی کا مطلب پتھر ہو جانا نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:
’’اصل طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔‘‘

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث: 6114 | راوی: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
اس فرمان میں میرے لیے ایک بہت اہم سبق ہے۔ غصہ تو ہر کسی کو آ سکتا ہے، مگر اس لمحے انسان کیا کرتا ہے، اس سے اس کے کردار کا اندازہ ہوتا ہے۔ اختلاف کے دوران کسی کی عزت رکھ لینا، تلخ جواب دینے کی طاقت ہوتے ہوئے بھی اپنے الفاظ کا خیال کرنا، یہ سب آسان نہیں ہوتا۔
لیکن بات صرف غصے کی نہیں۔
کچھ لوگ غصہ نہیں کرتے، بس بولنا بند کر دیتے ہیں۔ دنوں ناراض رہتے ہیں، دل میں شکوے جمع کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرا خود ان کے دل کی بات سمجھ لے۔
کسی سے بات نہ کرنا کبھی وقتی ضرورت ہو سکتی ہے۔ انسان کو اپنے جذبات سنبھالنے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے۔ مگر جان بوجھ کر کسی کو بے چین رکھنا، معافی منگوانے کے لیے انتظار کروانا اور پھر اس انتظار سے اپنی اہمیت محسوس کرنا، رشتے کو کمزور کر سکتا ہے۔
کبھی سوچا ہے، ہم اپنے کسی دوست سے ناراض ہوں تو اسے منانے کے لیے کتنی کوشش کرتے ہیں، لیکن گھر میں اپنے ہی عزیز سے بات شروع کرنا مشکل کیوں لگتا ہے؟
شاید اس لیے کہ وہاں ہمیں محبت سے زیادہ اپنی انا کے ہار جانے کا ڈر ہوتا ہے۔
حالانکہ پہل کرنے کا مطلب ہمیشہ قصوروار ہونا نہیں۔ کبھی صرف اتنا کہنا کافی ہوتا ہے، ’’ہم دونوں ناراض ہیں، مگر اس طرح کب تک رہیں گے؟‘‘
ہاں، ہر اختلاف میں ایک ہی شخص کو جھکنا پڑے تو یہ بھی انصاف نہیں۔ رشتہ دونوں طرف سے سنبھالا جاتا ہے۔ صلح کے لیے احترام ضروری ہے، اپنی عزت اور جائز حق قربان کرنا نہیں۔ جہاں ظلم یا تشدد ہو، وہاں خاموشی سے برداشت کرنے کے بجائے اپنی حفاظت اور مدد کو اہمیت دینی چاہیے۔
ایک اور بات ہے جس پر ہم کم غور کرتے ہیں۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ مرد عورتوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے اچھے لگتے ہیں۔ مگر آسانی کا مطلب کیا ہے؟
کیا صرف گھر کا خرچ دے دینا کافی ہے؟
رزق کمانا اور گھر کی ضروریات پوری کرنا یقیناً بڑی ذمہ داری ہے۔ بعض مرد اسی کوشش میں اپنی جوانی کے بہترین سال گزار دیتے ہیں۔ ان کی محنت کی قدر ہونی چاہیے۔ مگر گھر میں موجود عورت کی محنت، پریشانی اور تھکن بھی اتنی ہی حقیقی ہوتی ہے، چاہے اس کی کوئی تنخواہ نہ ہو۔
کبھی عورت کو کسی بڑے تحفے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے صرف اتنا چاہیے ہوتا ہے کہ اس کی بات غور سے سنی جائے، اس کی کوشش کی قدر ہو اور کسی مشکل وقت میں وہ خود کو اکیلا محسوس نہ کرے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اہلِ خانہ کی خدمت میں مشغول رہتے تھے، اور نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث: 676 | روایت: حضرت الاسود، بحوالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
اس روایت میں کتنی سادہ اور اہم بات ہے۔ گھر والوں کا ہاتھ بٹانے سے مرد کی عزت کم نہیں ہوتی۔ کسی کی مشکل آسان کرنا احسان جتانے کا موقع نہیں، محبت اور ذمہ داری نبھانے کا ایک طریقہ بھی ہے۔
عورت کو اپنے فیصلوں میں شریک کرنا، اس کی رائے سننا، اس پر بے بنیاد شک نہ کرنا اور اسے احترام دینا بھی اسی اچھے برتاؤ کا حصہ ہے۔ اسی طرح مرد بھی اپنے گھر والوں سے محبت، قدر اور احترام کا حق رکھتا ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ ہم کبھی کبھی مردانگی کو دوسروں پر اختیار رکھنے سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ اپنی ذات پر اختیار رکھنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
ایک آدمی باہر سو لوگوں کے سامنے پُراعتماد ہو سکتا ہے، بڑے بڑے کاروباری فیصلے کر سکتا ہے، مگر اپنے بیٹے سے یہ کہنے کی ہمت نہ رکھتا ہو کہ کل اس نے اسے بلاوجہ ڈانٹا تھا۔
ایک شوہر اپنی بیوی کے لیے بہت کچھ خرید سکتا ہے، مگر اسے یہ تسلیم کرنا مشکل لگتا ہو کہ کسی معاملے میں اس کی بیوی کی رائے درست تھی۔
ایک بھائی اپنی بہن کی حفاظت کا دعویٰ کرتا ہو، مگر اس کی بات سنے بغیر اس کی زندگی کے فیصلے بھی خود کرنا چاہتا ہو۔
یہ تضاد عجیب نہیں لگتا؟
ہم اپنے پیاروں کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں، مگر کبھی انہیں اپنی ہی ناراضی، سختی اور فیصلوں سے پریشان کر دیتے ہیں۔
مرد کے کردار میں ہمت ہونی چاہیے، مگر ہمت کے ساتھ انصاف بھی۔ خودداری ہونی چاہیے، مگر خودداری اتنی سخت نہ ہو کہ انسان سچ تسلیم ہی نہ کر سکے۔ ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے، مگر اس احساس کے نام پر دوسروں کی آواز دبانا درست نہیں۔
اس رات جب وہ شخص دوسرے کمرے میں جا کر بیٹھ گیا تھا، تو کچھ دیر بعد اس کی بیوی بھی خاموشی سے سو گئی۔
صبح اس نے دیکھا کہ میز پر بجلی کا بل، بچوں کی فیس کی پرچی اور چند ضروری اخراجات لکھے ہوئے ہیں۔ ساتھ ایک چھوٹا سا جملہ تھا:
’’میں اکیلے فیصلہ نہیں کرنا چاہتی، آپ کے ساتھ بیٹھ کر حل نکالنا چاہتی ہوں۔‘‘

وہ کافی دیر کاغذ کو دیکھتا رہا۔
اسے پہلی بار خیال آیا کہ شاید بیوی اس سے کسی معجزے کی توقع نہیں کر رہی تھی۔ وہ صرف یہ چاہتی تھی کہ جس زندگی کی ذمہ داری دونوں پر ہے، اس کی پریشانی بھی دونوں مل کر اٹھائیں۔
شام کو وہ گھر آیا تو کھانا کھانے سے پہلے اس نے وہی کاغذ میز پر رکھ دیا۔
’’آج اس پر بات کرتے ہیں۔‘‘
مسئلہ اس دن بھی مکمل حل نہیں ہوا۔ پیسوں کی کمی اپنی جگہ تھی، پریشانیاں بھی باقی تھیں۔ لیکن اس بار دونوں ایک دوسرے کے سامنے نہیں، ایک مسئلے کے سامنے بیٹھے تھے۔
اور شاید مردانگی کے بارے میں میری سوچ بھی اسی ایک منظر پر آ کر ٹھہرتی ہے۔
مرد اچھے فیصلے کرتے اچھے لگتے ہیں، مگر انہیں ہر فیصلہ اکیلے کرنا ضروری نہیں۔ مرد مضبوط اچھے لگتے ہیں، مگر انہیں ہر وقت مضبوط نظر آنا ضروری نہیں۔
بس ان کے کردار میں اتنی سچائی ضرور ہونی چاہیے کہ ان کے اپنے لوگ ان سے ڈرنے کے بجائے ان پر بھروسا کر سکیں۔
کیونکہ زندگی میں انسان کے بہت سے فیصلوں کو دنیا سراہتی ہے، مگر ایک فیصلہ ایسا بھی ہوتا ہے جس کا گواہ شاید کوئی نہیں بنتا:
جب آدمی اپنی انا کو بچانے اور اپنے رشتے کو سنبھالنے میں سے کسی ایک کو چنتا ہے۔
علامہ اقبالؒ نے ایک رہنما کی خوبیوں کو کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

علامہ محمد اقبالؒ، بالِ جبریل
اور شاید یہی ایک مرد کے کردار کا سب سے خوبصورت معیار بھی ہے کہ اس کی سوچ بلند ہو، اس کے الفاظ دل نہ توڑیں اور اس کے دل میں دوسروں کا درد محسوس کرنے کی صلاحیت زندہ رہے۔
کیونکہ مرد کی اصل پہچان یہ نہیں کہ اس کے سامنے کتنے لوگ جھکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ کھڑے ہو کر کتنے لوگ خود کو باعزت اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

میر حسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کیلا کھائیے ، صحت بنایئے
  • پشتو ڈیجیٹل شعر و ادب اور شیرانداز خان کا شعری وقار
  • خواب آنکھوں میں سجاتے رہ گئے
  • ایک دن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

متعلقہ پوسٹس

کوکھ جلی

مارچ 29, 2020

بی زمانی بیگم

جنوری 24, 2020

بیرسے ذائقہ بھی فائدہ بھی

نومبر 28, 2021

مجرم کون

اکتوبر 3, 2024

احساس

جنوری 12, 2026

قادرا قصائی

جنوری 19, 2020

ایک زاہدہ، ایک فاحشہ

جنوری 24, 2020

آن لائن گیمز ۔ نسلوں کی تباہی

مئی 4, 2020

معاصر اُردو غزل میں شاہد ذکی کی تازہ کاری

ستمبر 29, 2021

سب سے بہترین گفتگو

جولائی 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

محبت الٰہی

اکتوبر 29, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”

اکتوبر 18, 2026

امیر کون غریب کون

اکتوبر 13, 2026

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

اردو شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام...

نومبر 1, 2026

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

اکتوبر 29, 2026

میں نے سوچا ہے تمہیں

اکتوبر 29, 2026

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

اکتوبر 26, 2026

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اکتوبر 26, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مردانگی

نومبر 1, 2026

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

نومبر 1, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

اکتوبر 23, 2026

"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

اکتوبر 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    اکتوبر 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

عالمی فلوٹیلا

اکتوبر 2, 2025

عظمت صحابہ

نومبر 20, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں