خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکن فیکون
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشاہد نسیم چوہدری

کن فیکون

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 20, 2026
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 20, 2026 0 تبصرے 28 مناظر
29

shahid naseem

کن فیکون : عشقِ رسول ﷺ کے 2270 صفحات
محمد یعقوب فردوسی کا ایک تاریخی ادبی کارنامہ

پاکستان کی ادبی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ سرزمین ہمیشہ سے شعر و ادب کے ایسے نابغۂ روزگار اہلِ قلم پیدا کرتی رہی ہے جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے نہ صرف اردو ادب کے دامن کو وسعت دی بلکہ اپنے عہد کی تہذیبی، روحانی اور فکری ترجمانی بھی کی۔ بالخصوص نعتیہ ادب ہماری شعری روایت کا وہ مقدس باب ہے جس میں لفظ محض لفظ نہیں رہتا بلکہ عقیدت کا اظہار، محبت کا وسیلہ اور دل کی کیفیت کا آئینہ بن جاتا ہے۔ جب کوئی شاعر اپنی تمام تر فکری اور تخلیقی توانائی عشقِ رسولِ اکرم ﷺ کی نذر کر دیتا ہے تو اس کی کاوش محض ادبی تخلیق نہیں رہتی، بلکہ ایک روحانی سرمایہ بن جاتی ہے۔
اسی روشن روایت میں محمد یعقوب فردوسی کا نام ایک منفرد حوالہ بن کر سامنے آتا ہے۔ ان کی نعتیہ ماہیوں پر مشتمل ضخیم کتاب ’’کن فیکون‘‘ بلاشبہ ایک غیر معمولی ادبی کارنامہ ہے۔ 2270 صفحات پر مشتمل یہ کتاب نہ صرف اپنی ضخامت کے اعتبار سے حیران کن ہے بلکہ نعتیہ ماہیوں جیسی مختصر شعری صنف کو اس وسعت، تسلسل اور تسلسلِ عقیدت کے ساتھ پیش کرنا بھی اپنی نوعیت کی ایک منفرد کاوش ہے۔ دستیاب ادبی رپورٹ کے مطابق ’’کن فیکون‘‘ کو پاکستان کی سب سے زیادہ صفحات پر مشتمل ماہیوں کی کتاب قرار دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز یقیناً محمد یعقوب فردوسی کے لیے بھی باعثِ فخر ہے اور پاکستان کے نعتیہ ادب کے لیے بھی ایک قابلِ ذکر اضافہ۔
’’کن فیکون‘‘ نام ہی اپنے اندر ایک وسیع معنوی دنیا سمیٹے ہوئے ہے۔ yaqoob firdousiیہ عنوان تخلیق، قدرت، امرِ الٰہی اور وجود کے اسرار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب یہی عنوان عشقِ رسول ﷺ کے اظہار کے لیے منتخب کیا جائے تو اس میں ایک خاص روحانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ کتاب کے 2270 صفحات کو محض کاغذ کے صفحات سمجھنا اس تخلیقی سفر کی قدر و قیمت کو کم کر دینا ہوگا۔ دراصل ہر صفحہ شاعر کے ذوق، مطالعے، مشاہدے، عقیدت، فکری وابستگی اور مسلسل ریاضت کی ایک منزل ہے۔
ماہیے کی صنف اپنی ساخت کے اعتبار سے مختصر ہے۔ چند مصرعوں میں ایک کیفیت، ایک منظر، ایک جذبہ یا ایک خیال سمو دینا شاعر کے لیے آسان کام نہیں۔ مختصر شعری قالب میں بات کو مکمل کرنا، جذبے کو مؤثر بنانا اور تاثیر کو برقرار رکھنا فنِ شاعری کی باریکیوں سے واقفیت کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر یہی صنف نعتیہ اظہار کا ذریعہ بن جائے تو شاعر کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ نعت صرف شعری حسن کا نام نہیں؛ اس میں عقیدت، احترام، ادب اور محبت کے تقاضے بھی شامل ہوتے ہیں۔
محمد یعقوب فردوسی نے ماہیے کے اسی مختصر قالب کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے وسیع موضوع سے جوڑ کر ایک ایسا تخلیقی سفر اختیار کیا جس کی طوالت 2270 صفحات تک پہنچتی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ حیرت انگیز ہے کہ ایک شاعر نے ایک ہی صنف اور ایک ہی مقدس موضوع سے وابستہ رہتے ہوئے اتنی وسیع تخلیقی دنیا آباد کی۔ مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ ضخامت محض تعداد کا مظاہرہ نہ بنے بلکہ عقیدت کے تسلسل کی علامت بنے۔
نعتیہ شاعری میں اصل حسن الفاظ کی کثرت نہیں بلکہ دل کی کیفیت ہے۔ ایک سچا نعت گو جب حضور اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں اپنے جذبات پیش کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے دل کی دنیا کو الفاظ کا لباس پہناتا ہے۔ اسی لیے نعت پڑھنے والا صرف شعر نہیں پڑھتا، وہ شاعر کے دل کی دھڑکن بھی محسوس کرتا ہے۔ ’’کن فیکون‘‘ کے حوالے سے یہی پہلو اسے ایک خاص اہمیت عطا کرتا ہے کہ یہ کتاب عشقِ رسول ﷺ کو ایک مسلسل تخلیقی تجربے کے طور پر سامنے لاتی ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ کسی کتاب کے 2270 صفحات تک پہنچنے کے لیے صرف ادبی صلاحیت کافی نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے برسوں کی محنت، مطالعہ، لکھنے کا معمول، شعری ریاضت، زبان پر گرفت اور سب سے بڑھ کر ایک مستقل جذبہ درکار ہوتا ہے۔ آج کے تیز رفتار دور میں، جب قاری طویل تحریر پڑھنے سے بھی گریزاں نظر آتا ہے، ایسے وقت میں اتنا ضخیم نعتیہ شعری سرمایہ تخلیق کرنا محمد یعقوب فردوسی کی غیر معمولی استقامت کا ثبوت ہے۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک شاعر کو اتنی طویل تخلیقی مسافت طے کرنے کی قوت کہاں سے ملتی ہے؟ اس کا جواب شاید عشق میں پوشیدہ ہے۔ جس موضوع سے انسان کو قلبی وابستگی ہو، اس کے اظہار کے لیے الفاظ کبھی کم نہیں پڑتے۔ محبت کا عالم یہ ہوتا ہے کہ انسان ایک ہی محبوب کا ذکر بار بار کرتا ہے، مگر ہر بار اس کے دل پر ایک نئی کیفیت اترتی ہے۔ یہی کیفیت جب شعر کا روپ اختیار کرتی ہے تو ایک شعر دوسرے شعر سے مختلف ہونے کے باوجود اسی مرکزِ محبت سے جڑا رہتا ہے۔
محمد یعقوب فردوسی کی ’’کن فیکون‘‘ کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ محض ایک ضخیم کتاب نہیں بلکہ محبتِ رسول ﷺ کی ایک طویل ادبی دستاویز ہے۔ اس میں شاعر نے ماہیے کے ذریعے اپنی عقیدت کا اظہار کیا اور ایک ایسی صنفی روایت کو بھی وسعت دی جس پر مزید تحقیقی اور تنقیدی کام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
نعتیہ ادب کی تاریخ بہت قدیم اور وسیع ہے۔ اردو، فارسی، عربی اور برصغیر کی دیگر زبانوں میں بے شمار شعراء نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول پیش کیے۔ کسی نے غزل کے پیرائے میں نعت کہی، کسی نے قصیدہ اختیار کیا، کسی نے نظم کو ذریعہ بنایا اور کسی نے اپنی مخصوص صنف کے ذریعے عشقِ رسول ﷺ کا اظہار کیا۔ محمد یعقوب فردوسی کا ماہیے کو وسیلہ بنانا اور پھر اسی صنف میں ہزاروں صفحات پر مشتمل نعتیہ سرمایہ تخلیق کرنا اسی روایت میں ایک منفرد اضافہ ہے۔
ادب میں بعض کتابیں اپنی فنی خوبیوں کے باعث یاد رکھی جاتی ہیں، بعض اپنی فکری گہرائی کے سبب، بعض اپنے موضوع کی ندرت کی وجہ سے اور بعض اپنی غیر معمولی ضخامت یا وسعت کے باعث۔ ’’کن فیکون‘‘ ان تمام پہلوؤں میں گفتگو کا ایک دروازہ کھولتی ہے۔ اس کتاب کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا حجم ہے، مگر اس کا اصل حسن اس جذبے میں تلاش کیا جانا چاہیے جس نے شاعر کو اتنی طویل تخلیقی مسافت پر گامزن رکھا۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ محمد یعقوب فردوسی صرف ایک کتاب کے شاعر نہیں بلکہ ادبی سرگرمیوں سے وابستہ ایک صاحبِ قلم کے طور پر بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ تصویر میں شائع شدہ ادبی تحریر کے مطابق وہ تنقیدی ادب کے حوالے سے انٹرنیشنل کمالِ فن ایوارڈ 2024ء اور 2025ء بھی حاصل کر چکے ہیں۔ یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کی ادبی شناخت صرف نعتیہ شاعری تک محدود نہیں بلکہ تنقیدی اور دیگر ادبی جہات بھی ان کی تخلیقی شخصیت کا حصہ ہیں۔
تاہم ’’کن فیکون‘‘ ان کے ادبی سفر میں ایک ایسا سنگِ میل دکھائی دیتی ہے جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ کسی شاعر کی ادبی زندگی میں ایسے مواقع کم آتے ہیں جب اس کی ایک تخلیق پورے ادبی منظرنامے میں ایک الگ سوال اٹھا دے۔ 2270 صفحات پر مشتمل نعتیہ ماہیوں کی کتاب بھی ایسا ہی ایک سوال ہے: کیا مختصر شعری صنف اتنی وسعت پیدا کر سکتی ہے؟ محمد یعقوب فردوسی کا جواب ان کی کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔
یہ کتاب نئی نسل کے لیے بھی کئی حوالوں سے قابلِ مطالعہ ہے۔ آج کا نوجوان مختصر اظہار، فوری تاثر اور ڈیجیٹل مواد کے عہد میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں 2270 صفحات پر مشتمل شعری کتاب کا وجود اسے یہ پیغام دیتا ہے کہ ادب صرف چند سطروں یا چند لمحوں کی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک عمر کی ریاضت بھی ہو سکتا ہے۔ کتاب ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ تخلیق کے لیے صبر، تسلسل اور اپنے موضوع سے وفاداری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
’’کن فیکون‘‘ کو صرف ایک ریکارڈ یا اعزاز کی کتاب بنا کر دیکھنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ ادبی دنیا میں ریکارڈ اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، مگر ریکارڈ وقت کے ساتھ نئے ریکارڈ سے بدل سکتے ہیں۔ اصل چیز وہ تخلیقی سرمایہ ہے جو کتاب اپنے اندر محفوظ کرتی ہے۔ اگر کوئی ضخیم کتاب قاری کو محبت، عقیدت، فکر اور زبان کے نئے ذائقوں سے آشنا کر دے تو اس کی اہمیت محض ضخامت سے کہیں آگے نکل جاتی ہے۔
محمد یعقوب فردوسی کے اس کارنامے کی ایک اور خوبصورتی یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسی صنف کو نعتیہ اظہار کے لیے استعمال کیا جسے عام طور پر عوامی اور لوک شعری روایت سے جوڑا جاتا ہے۔ ماہیے کی سادگی، روانی اور اختصار اسے عام قاری کے قریب لے آتا ہے۔ جب یہی سادگی نعتیہ جذبات کے ساتھ ملتی ہے تو ادب اور عوامی ذوق کے درمیان ایک خوبصورت پل قائم ہوتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں نعتیہ ادب کی اہمیت محض ادبی نہیں بلکہ تہذیبی اور روحانی بھی ہے۔ نعت پڑھنے اور سننے والے کے لیے یہ محبت اور عقیدت کا وسیلہ بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نعت گو شاعر کا قلم ایک خاص ذمہ داری کا حامل ہوتا ہے۔ اسے لفظوں کے انتخاب، اسلوب، احترام اور عقیدت کے تقاضوں کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے ایک ضخیم نعتیہ کتاب تخلیق کرنا یقیناً ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے اور ایک بڑی سعادت بھی۔
محمد یعقوب فردوسی نے ’’کن فیکون‘‘ کے ذریعے اس ذمہ داری کو ایک وسیع ادبی منصوبے کی صورت دی ہے۔ 2270 صفحات ایک عدد ضرور ہے، مگر اس عدد کے پیچھے ایک شاعر کی طویل محنت، مسلسل وابستگی اور عشقِ رسول ﷺ کی وہ کیفیت موجود ہے جس نے اسے قلم اٹھانے پر آمادہ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ’’کن فیکون‘‘ کا ذکر محض ایک کتاب کے حوالے سے نہیں بلکہ ایک تخلیقی عزم کے حوالے سے بھی ہونا چاہیے۔
ایسے اہلِ قلم کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی کتابوں کو صرف تعریفی کلمات تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان پر علمی، تحقیقی اور تنقیدی گفتگو بھی کریں۔ جامعات کے اردو اور اسلامیات کے شعبوں میں ایسی کتابوں پر تحقیق ہونی چاہیے۔ ماہیے کی صنف کے حوالے سے ’’کن فیکون‘‘ ایک اہم تحقیقی موضوع بن سکتی ہے۔ اس میں موجود نعتیہ مواد، اسلوب، زبان، تشبیہات، استعارات، بحور، موضوعاتی تنوع اور فنی خصوصیات پر باقاعدہ تحقیقی مقالے لکھے جا سکتے ہیں۔ یوں یہ کتاب صرف شاعر کی ذاتی کامیابی نہیں رہے گی بلکہ نعتیہ ادب اور ماہیے کی صنف کے تحقیقی ذخیرے میں بھی اپنا مقام پیدا کرے گی۔
ہمیں یہ اعتراف بھی کرنا چاہیے کہ ادب میں کسی غیر معمولی کاوش کی پذیرائی صرف مصنف کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی بلکہ پورے ادبی معاشرے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب کوئی شاعر اپنی زندگی کا بڑا حصہ تخلیق کے لیے وقف کرتا ہے تو معاشرے کو بھی اس کے ادبی سفر کو محفوظ اور نمایاں کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ اخبارات، رسائل، ادبی فورمز، جامعات اور ثقافتی اداروں کو چاہیے کہ ’’کن فیکون‘‘ جیسی کتابوں پر مذاکرے، نشستیں اور تحقیقی پروگرام منعقد کریں تاکہ اس کتاب کے فنی اور ادبی پہلو سامنے آ سکیں۔
محمد یعقوب فردوسی کو اس غیر معمولی کاوش پر خراجِ تحسین پیش کرنا دراصل ایک ایسے جذبے کو سلام پیش کرنا ہے جس نے لفظ کو عبادتِ محبت کا وسیلہ بنا دیا۔ یہ خراجِ تحسین صرف اس لیے نہیں کہ انہوں نے 2270 صفحات لکھے، بلکہ اس لیے بھی کہ انہوں نے نعتیہ ماہیے کو ایک ایسی وسعت دی جس پر آنے والے اہلِ قلم غور کریں گے، محققین کام کریں گے اور قارئین اس میں اپنے ذوق کے مطابق محبت کے رنگ تلاش کریں گے۔
’’کن فیکون‘‘ یقیناً محمد یعقوب فردوسی کے نام سے جڑا ہوا ایک اہم ادبی حوالہ ہے۔ یہ کتاب ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ اگر جذبہ سچا ہو، مقصد بلند ہو اور قلم مسلسل چلتا رہے تو مختصر سے مختصر صنف بھی ایک وسیع ادبی کائنات میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
آخر میں محمد یعقوب فردوسی صاحب کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے نعتیہ ادب میں ایک ایسی کاوش پیش کی جو اپنے حجم، موضوع اور صنفی انفرادیت کے باعث طویل عرصے تک گفتگو کا موضوع بن سکتی ہے۔ 2270 صفحات کی ’’کن فیکون‘‘ دراصل 2270 صفحات سے کہیں بڑھ کر ہے؛ یہ محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کا ایک طویل سفر، ایک شاعر کی مسلسل ریاضت اور نعتیہ ادب کے لیے ایک قابلِ قدر تحفہ ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد یعقوب فردوسی صاحب کے قلم کو مزید قوت، وسعت اور تاثیر عطا فرمائے، ان کی اس کاوش کو شرفِ قبول بخشے اور ’’کن فیکون‘‘ کو نعتیہ ادب کی دنیا میں ہمیشہ ایک معتبر اور منفرد حوالہ بنائے۔
یہ کتاب صرف پڑھی نہیں جائے گی، اس پر گفتگو بھی ہوگی؛
یہ صرف ایک ادبی کارنامہ نہیں، عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے اظہار کی ایک طویل داستان ہے۔

شاہد نسیم چوہدری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پاکستان: چیلنجز، مواقع اور مستقبل کی راہیں
  • یہ زندگانی کسی کی یادوں سے متصل ہے
  • بائی کے ماتم دار
  • شاکرہ نندنی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سوچاں دے سنگ
پچھلی پوسٹ
اظہارِ نعت

متعلقہ پوسٹس

جلتا انسان بےحس لوگ!

ستمبر 6, 2023

وہ صبح ہم ہی سے آئے گی

جنوری 11, 2020

اے محبت تو مجھے جینے کی آشا دیتی

مئی 1, 2026

خوبصورت انعام

اگست 14, 2025

نفرت کیسے کی جائے؟

اپریل 25, 2026

پرمیشر سنگھ

نومبر 15, 2019

ٹامس ہارڈی ایک عظیم ناول نگار

فروری 4, 2020

عالمِ برزخ سے

جنوری 9, 2020

بُرقعے

ستمبر 24, 2013

ایمنسٹی کی رپورٹ: مبالغہ یا حقیقت؟

ستمبر 10, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

گناہ بے لذت اور معصوم کا...

مارچ 29, 2024

خوشامد کے جھولے

مئی 5, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں