127
روح میں درد کی تاثیر اٹھا لائے ہیں
یعنی ہم خاکِ درِ میر اٹھا لائے ہیں
ایک منظر ہے جدھر دیکھیے ویرانی کا
آنکھ میں دشت کی تصویر اٹھا لائے ہیں
ایسے زندان کے ماحول سے مانوس ہوئے
قید کاٹی ہے تو زنجیر اٹھا لائے ہیں
بابِ تقسیم پہ عجلت تھی کچھ ایسی، شہباز
ہم کسی اور کی تقدیر اٹھا لائے ہیں
شہباز خواجہ
