خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامشائرم انور شاہی
آپ کا سلامتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

شائرم انور شاہی

از مدثر عباس فروری 28, 2026
از مدثر عباس فروری 28, 2026 0 تبصرے 42 مناظر
43

"شائرم انور شاہی کی نظم نگاری میں تصور وقت”

"شائرم انور شاہی کی نظم نگاری میں تصورِ وقت” کے تناظر میں اگر ہم اردو شاعری کی روایت کو دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ وقت محض ایک پیمانہ نہیں بلکہ ایک فکری، وجودی اور تہذیبی مسئلہ ہے۔ ادب چوں کہ زندگی کا ترجمان ہے، اس لیے سماجی تغیر، سیاسی بے یقینی اور تہذیبی بحران کے ادوار میں "وقت” ایک علامتی اور فلسفیانہ استعارے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

بیسویں صدی میں خصوصاً علامہ محمد اقبال اور مجید امجد نے وقت کو محض گردشِ لیل و نہار کے طور پر نہیں بلکہ ایک تخلیقی اور کائناتی قوت کے طور پر پیش کیا۔ اقبال کے ہاں "سلسلۂ روز و شب” کائنات کا صَیرفی ہے—یعنی وقت انسان کے باطن کو پرکھتا اور اس کے وجود کی اصل قیمت متعین کرتا ہے۔ اقبال کے تصورِ وقت میں حرکت، ارتقا اور خودی کی تکمیل کا پہلو غالب ہے۔ وقت جامد نہیں بلکہ تخلیقی توانائی ہے جو انسان کو آزمائش کے عمل سے گزارتی ہے۔ اس لیے اقبال فرماتے ہیں

سِلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات
سِلسلۂ روز و شب، اصلِ حیات و ممات

سِلسلۂ روز و شب، تارِ حریرِ دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات

سِلسلۂ روز و شب، سازِ ازل کی فغاں
جس سے دِکھاتی ہے ذات زِیروبمِ ممکنات

تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سِلسلۂ روز و شب، صَیرفیِ کائنات

تُو ہو اگر کم عیار، مَیں ہُوں اگر کم عیار
موت ہے تیری برات، موت ہے میری برات

تیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیا
ایک زمانے کی رَو جس میں نہ دن ہے نہ رات

اسی روایت کا تسلسل ہمیں اکیسویں صدی کی شاعری میں بھی دکھائی دیتا ہے، جہاں وجودی اضطراب، سماجی انتشار اور عورت کے استحصال جیسے موضوعات وقت کے وسیع تر تناظر میں سامنے آتے ہیں۔ ان شعرا میں ایک اہم نام شائرم انور شاہی کا ہے، جو اردو اور پشتو دونوں زبانوں میں اظہار کرتی ہیں۔ ان کی نظم نگاری میں وقت ایک فعال اور جبر آمیز قوت کے طور پر ابھرتا ہے۔

شائرم انور شاہی کے ہاں وقت کا تصور اقبال کے ارتقائی اور تحریکی تصور سے مختلف ہے۔ وہ وقت کو ایک ایسی لوح قرار دیتی ہیں جس پر ہر لمحہ مٹتی ہوئی لکیر کی مانند ثبت ہوتا ہے وہ لکھتی ہیں:

کائنات کا بے کراں در
جہاں وقت اپنی لوح پر
ہر جیتے لمحے کو
ایک مٹی ہوئی لکیر کی طرح لکھتا ہے

یہاں وقت تخلیق سے زیادہ فنا کا استعارہ ہے۔ لمحہ جیتے ہی مٹ جاتا ہے۔ وجود کا تسلسل دراصل عدم کے تسلسل میں بدل جاتا ہے۔ وقت کا یہ تصور جدید وجودی فکر سے قریب تر معلوم ہوتا ہے جہاں انسان اپنی ہستی کے عدم تحفظ کا شدید احساس رکھتا ہے۔

اسی طرح نظم "وقت کے صلیب پر” میں انسان وقت کی گرفت میں مصلوب ہے—وہ اس سے فرار حاصل نہیں کر سکتا۔ یہاں وقت ایک جابر قوت ہے جو انسان کو مسلسل تحلیل کرتی رہتی ہے۔

شائرم انور شاہی کے ہاں انسان "زمان و مکان” کے قیود میں مقید ہے۔ وہ کائنات کی طلسماتی ساخت—جو عدم سے وجود میں آئی—پر غور کرتا ہے مگر اس کے باوجود اس قید سے رہائی ممکن نہیں۔ یہ اضطراب دراصل جدید انسان کی ذہنی اور روحانی پراگندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یوںشائرم انور شاہی کی نظم نگاری میں تصورِ وقت نہ صرف ایک فکری مسئلہ ہے بلکہ ایک وجودی تجربہ بھی ہے۔ ان کی شاعری میں وقت انسانی بے بسی، سماجی جبر اور کائناتی اسرار کا سنگم بن جاتا ہے۔اُن کی یہ نظم ملاحظہ ہو:

"وقت کے صلیب پر”
میں نے وقت کو
ایک سنگین طلسم کی صورت دیکھا
ایسا طلسم
جو لمحوں کو قید کر دیتا ہے
شعور کے قفس میں۔

میں نے وقت کو
ایک صلیب، بے چہرہ دیو کی مانند پایا
جو ہر لمحے کو
اپنی آبنوں انگلیوں سے چیر کر
اس کے بدن پر صدیوں کی زنجیریں ڈال دیتا ہے
اور پھر اسے صلیب پر گاڑ دیتا ہے۔

میں نے ان لمحوں کی چیخیں سنی ہیں
جو فضا میں گونجتی ہیں
مدہم اذان کی مانند
جسے کوئی سننے والا نہیں۔

میں نے دیکھا
اس طلسم کو توڑنے والا
میرا اپنا دل
جو وقت کے گناہ کا مجرم ہے۔

اس نے لمحوں کو
کسی بے چہرہ سوداگر کے ہاتھوں
ایک خواب کے عوض فروخت کیا تھا۔

اب وقت کی صلیب پر
میری بینائی
میرا شعور
اور میرا نغمہ
سب کچھ لٹکا ہوا ہے۔

مگر میں جانتی ہوں
یہ صلیب بھی
ایک دن ریزہ ریزہ ہو جائے گی
اور وقت کا دیو
اپنی لاش خود اٹھائے گا۔

اس نظم میں وقت کا پس منظر وجودی کرب، داخلی احتساب اور انسانی کمزوریوں سے جڑا ہوا ہے۔ وقت کو ایک جابر قوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو انسان کے شعور اور خوابوں کو آزمائش میں ڈالتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ یقین بھی دیا گیا ہے کہ اس جبر کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس نظم میں وقت محض گھڑی کی سوئیوں کی حرکت یا دن رات کا گزرنا نہیں، بلکہ ایک جابر اور استعاراتی قوت کے طور پر سامنے آتا ہے۔
نظم میں وقت کو "سنگین طلسم” اور "صلیب” سے تشبیہ دی گئی ہے۔ شاعرہ کے نزدیک وقت ایک ایسا نظام ہے جو انسان کے لمحوں، احساسات اور شعور کو قید کر دیتا ہے۔ یہ پس منظر اس احساسِ بے بسی سے جڑا ہے جو انسان کو حالات، سماج یا تقدیر کے سامنے محسوس ہوتا ہے۔

وقت کو ایسا دیو دکھایا گیا ہے جو لمحوں کو "شعور کے قفس” میں بند کر دیتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہو سکتی ہے کہ انسان ماضی کی یادوں اور فیصلوں کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے۔ یہاں وقت کا پس منظر نفسیاتی ہے—یعنی یاد، پشیمانی اور داخلی کشمکش ہیں۔

"صلیب” قربانی، اذیت اور سزا کی علامت ہے۔ وقت کو صلیب کہنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان اپنی خواہشوں، خوابوں اور خطاؤں کی سزا وقت کے ہاتھوں بھگتتا ہے۔ گویا وقت ایک منصف بھی ہے اور جلاد بھی۔
شاعرہ کہتی ہے کہ یہ صلیب بھی ایک دن ٹوٹ جائے گی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وقت دائمی نہیں، بلکہ اس کا جبر عارضی ہے۔ پس منظر میں ایک انقلابی یا روحانی امید بھی موجود ہے۔

مدثر عباس
20 فروری 2026ء

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سینیٹ میں تین اہم بلوں کی منظوری
  • خار چھونے سے بھی ہاتھوں میں اُتر جائے گا
  • زاینو ازم ڈیجیٹل دور میں سکون کی آخری پناہ
  • دریچے درد کے جب وا ہوئے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
مدثر عباس

اگلی پوسٹ
آپریشن غضب للحق
پچھلی پوسٹ
گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے

متعلقہ پوسٹس

ضلع اسلام آباد سے صوبہ اسلام آباد

دسمبر 6, 2025

رکاوٹیں تھیں وہاں جا بجا پہ ناکہ تھا

اپریل 25, 2026

پیر فتح شیر دیوان اور خدمتِ خلق

مارچ 10, 2026

مِرے سُخن میں یہی اِک کلام کافی ہے

دسمبر 12, 2025

دل کی دیوار سے ٹکراٸے ہوئے لگتے ہیں

فروری 17, 2026

شبدوں کے سنہری رتھ پر سوار شاہ زادی

فروری 17, 2020

یار قصہ بڑا ہے پنجرے کا

دسمبر 7, 2025

شبِ برات

فروری 5, 2026

شہزاد نیّرؔ کی غزل کا تجزیہ

اکتوبر 26, 2025

دورِ حاضر میں ادب کی افادیت اور معاشرتی تشکیل

مارچ 7, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تیری آنکھوں کی طرف

فروری 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

یار کیا داستاں کو موڑ دیا

مارچ 22, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں