102
چمنیوں کے دھوئیں سے اٹا کینوس ایسے دھندلا گیا
پانیوں پر فلک سے اترتا ہوا چاند پتھرا گیا
وحشتوں کے پھریرے ابھرنے لگے سانس گھٹنے لگا
خواب کا دیوتا نخوت کامگاری میں سٹھیا گیا
دیکھتے دیکھتے لہلہاتے ہوئے کھیت زہرا گئے
فیکٹری سے نکلتا ہوا اژدہا گاؤں تک آ گیا
سطح تالاب پہ کب نمودار ہو دیکھیے جل پری
چاند جس کی محبت میں ڈوبا ہوا جھیل تک آ گیا
میرا سینہ دفینہ ہے اس نوجواں کا جو چلاتا تھا
گاؤں والو بڑھو گاؤں والو بڑھو آج شیر آ گیا
اپنی ٹھاٹھیں سنبھالو مری تشنگی کو بڑھاوا نہ دو
دل اگر اس طرف اک ذرا بھی پھرا تو یہ دریا گیا
عثمان علوی
