106
اسکو جنون تھا کہ مجھے ساتھ لے چلے
خود کو گرا دیا کہ مجھے ساتھ لے چلے
رفتار یوں ملائی ستاروں نے میرے ساتھ
اک پل کو یوں لگا کہ مجھے ساتھ لے چلے
ویسے وہ زندگی میں اٹھا بھی نہیں کبھی
ایسے نہیں گرا کہ مجھے ساتھ لے چلے
پہلے یہی زمانے مجھے مانتے نہ تھے
اب مان کیا لیا کہ مجھ ساتھ لے چلے
دریا کو بستیوں میں بکھرنے کا شوق تھا
میں چیختا رہا کہ مجھے ساتھ لے چلے
خائف ہیں باغبان سے کچھ سوکھتے گلاب
اس کو یہ بولنا کہ مجھے ساتھ لے چلے
گِنوائے راستے کے سبھی پیچ و خم اسے
سیدھا نہیں کہا کہ مجھے ساتھ لے چلے
حارثؔ ادھورا ہونا کوئی عیب تو نہیں
اس کو ہے مشورہ کہ مجھے ساتھ لے چلے
حارث بلال
