100
زخموں کی طرح شمع دل زار جلی ہے
تب جا کے کہیں عمر شب تار ڈھلی ہے
شاخوں پہ کوئی گل ہے سلامت نہ کلی ہے
گلشن میں صبا صورت تلوار چلی ہے
اُن صبح پرستوں کا ہے کیا حال نہ پوچھو
گھبرا کے جو کہتے ہیں کہ ہاں رات بھلی ہے
آنکھوں میں ہی گُھلتا ہے نہ رکتا ہے سر بام
ڈھلتا ہوا سورج ہے کہ پارے کی ڈلی ہے
اے محتسب شہر ہمیں گھور کے مت دیکھ
اپنا بھی وہیں گھر ہے جہاں تیری گلی ہے
ٹوٹی بھی تو بے جاں نہ بنا پائے گی جاں کو
امید کہ جو یاس کے ہاتھوں میں پلی ہے
ہر تند نظر دیکھ رہی ہے وہ چُھپا ہاتھ
حالات کے چہرے پہ نمی جس نے ملی ہے
منزہ انور گوئیندی
