435
وداع یار کا لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں
میں خود تو زندہ رہا وقت مر گیا مجھ میں
سکوت شام میں چیخیں سنائی دیتی ہیں
تو جاتے جاتے عجب شور بھر گیا مجھ میں
وہ پہلے صرف مری آنکھ میں سمایا تھا
پھر ایک روز رگوں تک اتر گیا مجھ میں
کچھ ایسے دھیان میں چہرہ ترا طلوع ہوا
غروب شام کا منظر نکھر گیا مجھ میں
میں اس کی ذات سے منکر تھا اور پھر اک دن
وہ اپنے ہونے کا اعلان کر گیا مجھ میں
کھنڈر سمجھ کے مری سیر کرنے آیا تھا
گیا تو موسم غم پھول دھر گیا مجھ میں
گلی میں گونجی خموشی کی چیخ رات کے وقت
تمہاری یاد کا بچہ سا ڈر گیا مجھ میں
بتا میں کیا کروں دل نام کے اس آنگن کا
تری امید پہ جو سج سنور گیا مجھ میں
یہ اپنے اپنے مقدر کی بات ہے فارسؔ
میں اس میں سمٹا رہا وہ بکھر گیا مجھ میں
رحمان فارس
