خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباعجب کرپشن کی غضب کہانی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرواجد علی گوہر

عجب کرپشن کی غضب کہانی

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 18, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 18, 2025 0 تبصرے 48 مناظر
49

نادان ادھاری  مہاجر میرٹھی جب سے  ریلوے کی  سکیل گیارہ کی نوکری سے   مالی بدعنوانی کے جرم میں برخاست ہوکر آئے ہیں ، تب سے اُن کا ضمیر جو خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا تھا وہ اچانک جاگ پڑا ہے ۔ اس آخری عمر میں ضمیر کا جاگنا کیا کم مصیبت تھا کہ اوپر سے  ملک کے سب سے بڑے چور”اہے” پر بیٹھک لگا کر رہبرِاشرافیہ ، ننگ انسانیت، کلاہِ کج فہمی کو سر پر سجانے والے ، محنت کش طبقات پر   بھڑاس نکال کر ضمیر کی آگ بجھانے والےاور اس مردہ قوم کی مردہ غیرت کو صور پھونک کر جگانے کی کوشش کرنے والے جناب بھڑاس چوراپا صاحب کی مجلس میں بھی بیٹھنا شروع کردیا ہے جس کے بعد  اب  جہاں بھی اور جب بھی  کہیں جاتے ہیں اُنہی موصوف کے  تتبع میں  فلسفیانہ انداز کے ساتھ اس   جاہل، نکمی، ہڈ حرام اور تہذیب سے عاری عوام کو تیزاب سے غسل دینے کی بات کرتے نظر آتے ہیں ۔ہم محلے داروں کو جب بھی خبر ملتی ہے یہی پتہ چلتا ہے کہ موصوف نے آج پھر علمِ بغاوت بلند کرتے ہوئے  بازار میں کسی سبزی فروٹ والے، رکشے والے  یا دیہاڑی دار مزدور کو  سو دو سو روپے کی ” بہت بڑی کرپشن "کرتے ہوئے رنگے ہاتھوںپکڑ کر اُنہیں محکمہ اینٹی کرپشن کے حوالے کرنے کا ایک نیا  شاندارکارنامہ سرانجام دیا ہے۔بات یہیں تک نہیں رکتی بلکہ موصوف اُس کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹ سے   قومی نشریاتی رابطے پر  بصری پیغام نشر کرکے قوم کو یہ مژدہ جانفزا ایک عجب شان تفاخرانہ کے ساتھ دیتے ہیں کہ وہ ان قومی مجرموں کو اینٹی کرپشن کے ہاتھوں گرفتار کرواکر پھر اُنہیں  نشان عبرت بنو اکر اس غریب اور دکھیاری قوم کی کتنی بڑی خدمت کر رہے ہیں ۔ آپ کے تازہ ترین بصری پیغام کے مطابق اب تک آپ اپنے شہر بد حال پورہ سے ان ریڑھی بانوں، رکشے چلانے والوں اور چھوٹے موٹے مزدوروں کی کرپشن کو بے نقاب کرکے  ان سے لوٹی ہوئی دولت  جس کا تخمینہ تقریبا چار ہزار آٹھ سو چھیانوے روپے بنتا ہے وہ قومی خزانے میں جمع کرواچکے ہیں۔ یہ وہ قومی دولت تھی جس پر قوم کاحق تھا  جسے یہ غاصب طبقہ اپنے ناجائز ہتھکنڈوں کے ذریعے ہتھیا کر اپنے جیبوں میں بھر رہا تھا۔ ان حرام خوروں ، بے حس مردار خوروں  اور بے ضمیر منافقوں کی وجہ سے آج قوم کا بچہ بچہ قرض کے وبال میں جکڑا ہوا ہے اور ملک کی پچاس فیصد سے زائد عوام خطِ غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پہلے جو ہو گیا سو ہوگیا کیونکہ مجھے علم نہیں تھا کہ کرپشن کے بے تاج بادشاہ تو ہماری عین ناک کے نیچے کام کر رہے ہیں۔ لیکن اب ! اب ایسا نہیں ہوگا۔ اب  انصاف ہوگا اور ضرور ہوگا۔ ہم ان لوٹنے والے ریڑھی بانوں، رکشہ ڈرائیوروں اور دیہاڑی  دار مزدوروں کا احتساب کرنے نکلے ہیں۔ اور اس مرتبہ یہ احتساب یکساں اور مساوی بنیادوں پر ہوگا جو آپ کو ہوتا ہوا نظر آئے گا اور آپ لوگ گواہی دیں گے کہ   یہی ہے وہ احتساب جس کا خواب دیکھتے دیکھتے ہمارے آباء و اجداد قبروں میں جا پڑے۔

مجھے سچ پوچھیے تو ان کے افکار سے والہانہ محبت اور اُن کے جذبہ حب الوطنی سے شدید قلبی لگاؤ ہے جس کی وجہ سے میری نظر میں اُن کا احترام بہت زیادہ ہے۔تاہم ایک دن میں نے ” خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے” کے تحت سہمے سہمے سے انداز میں اتنا عرض کیا کہ حضور ! آپ ان ریڑھی بانوں اور دیگر مگر مچھوں پر تو ہاتھ صاف کر رہے ہیں جو کہ عین وقت کا تقاضا اور قومی ضرورت ہے مگر کبھی تھانے کچہری ، عدالت ، آڑھت منڈی ، زمینوں سے متعلق محکمہ جات اور دیگر سرکاری مقامات کی بھی سیر کیجیے ، کیونکہ سنا ہے وہاں بھی چھوٹی موٹی کرپشن کے کیس کبھی کبھی سننے کو مل جاتے ہیں۔ میری بات سُن کر ایک لمبی سی سرد آہ بھری گویا ” سرہانے میر کے آہستہ بولو” اور پھر غمگیں لہجے اور شکستہ دل کے ساتھ مجھے شعور کی دولت سے سرفراز کرتے ہوئے فرمایا، ” میرے  بدحال پورے کے نادان دوست اور کوچہ ناہندگان کے نا سمجھ  بچے! اس کا مطلب آپ بھی پروپیگنڈے کا شکار ہیں۔ اور وہی سوچ رکھتے ہیں جو اس بے شعور سماج کے دیگر افراد کی ہے”۔ میرے لئے یہ خاصے اچنبھے کی بات کی تھی۔ چنانچہ میری حیرانگی دور کرتے اور میرے علم میں اضافہ کرتے ہوئے فرمایا،” اول تو وہاں کرپشن کے اکا دکا واقعات ہی سامنے آتے ہیں اور وہ بھی سال میں ایک  آدھ مرتبہ ، جن کو بتانے والا خود مشکوک ہوتا ہے اور محض چرب زبانی و مبالغہ آرائی کا سہارا لیکر وہاں بیٹھے سفید پوش حضرات کے سفید کپڑوں پر کرپشن کے بدنما داغ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ حقیقت اس سے کہیں الگ ہے جس کا تمہیں بالکل بھی علم نہیں”۔ اس موقع پر میں نے اپنی لاعلمی کا صاف صاف اقرار کیا جسے سُن کر وہ بہت خوش ہوئے اور مجھے سمجھانے کے انداز میں کہنے لگے،” تم  نے کبھی اُن لوگوں کے دکھ کو سنا ہے؟ کیا تمہیں اُس سوسائٹی کے مسائل کا علم ہے کہ وہ کس مصیبت کی چکی میں پس رہے ہیں؟ اگر تم اُن لوگوں سے بات چیت کرو تو تمہیں اندازہ ہو کہ وہ کس قدر دکھی لوگ ہیں جن کی مدد کرنے کا ہمیں کبھی خیال نہیں آیا”۔

” مگر کیسے۔ اُنہیں کون سے ایسے دکھ ہیں جو نہ بتائے جا سکتے ہیں نہ دکھائے جا سکتے ہیں؟”۔

” کسی کے پاس سال گزر گیا مگر نئے ماڈل کی گاڑی نہ آسکی  اور وہ بد ستور پچھلے ماڈل کی گاڑی میں با امرِ مجبوری سفر کر رہا ہے اُس کا دکھ ہے۔ کسی کا بچہ سرکاری خرچ پر باہر پڑھائی کے بہانے سیٹل ہونے کیلئے ابھی تک نہیں جاسکا یہ دکھ ہے۔ کسی کا گھر پانچ سال پرانا ہے اور وہ اُس کو گرا کر دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ابھی تک نیا گھر نہیں بنا سکا یہ دکھ ہے۔ کوئی اس بات پہ غمگین ہے کہ اُس کی بیگم نے  تین ماہ پرانا موبائیل رکھا ہوا ہے اور نئے ماڈل کا موبائیل ابھی تک کسی نے گفٹ نہیں کیا۔ کوئی اس غم میں گھلا جا رہا ہے کہ پچھلے سال بھی گرمی کی چھٹیاں دبئی میں گزریں تھیں اور اس بار  ابھی تک  کوئی اللہ کا بندہ یورپ کی سیر کروانے والا نہیں پھنسا۔کوئی کچہری میں دنگے فساد کے کم کیس آنے پر غم کی تصویر بنے ماتم کر رہا ہے تو کوئی  کسی عالیشان سوسائٹی میں ابھی تک کمرشل پلاٹ نہ ملنے پر پیچ و تاب کھا رہا ہے۔ الغرض غم ہی غم اور دکھ ہی دکھ ہیں میرے بچے۔ ایسے غمگین لوگوں کو  کرپشن کے کیسز میں الجھا کر ان سے بد دعائیں لینے کی بجائے ان کے رنج و الم کو راحت و آسانی میں بدلنے کیلئے دعاؤں کی ضرورت ہے میرے نادان برخوردار۔ یہ بیچارے اگر کرپشن کر بھی لیں تو کتنی کرلیں گے۔ یقین جانو ان کی کرپشن تو کرپشن ہے ہی نہیں۔ اصل کرپٹ تو وہ ہیں جو تین اچھے سیبوں کے ساتھ ایک گلا سڑا سیب دے دیتے ہیں۔ جہاں پچاس روپے کرایہ بنتا ہے وہاں ستر لیتے ہیں اور دیہاڑی لگاتے ہوئے دو کی بجائے تین بار چائے پیتے ہیں۔ تم اگر دونوں طبقوں کی کرپشن میں تناسب کا حساب لگاؤ تو زمین آسمان کا فرق ہے میرے بچے۔ کہاں یہ معمولی سی  سرکاری کرپشن اور کہاں وہ کرپشن کے پہاڑ۔ تم ان فضول باتوں پہ مطلق دھیان نہ دیا کرو بلکہ ہم جیسے اربابِ علم و دانش کے ہم جلیس بن کر ان لوٹنے والے قومی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچاؤ”۔ پھر میری بھرپور فرمائش پر  بھڑاس چور” اہی ” صاحب کی لکھی نظم سنائی۔ میرے ساتھ آپ بھی اس نظم کو پڑھیے اور سر دھنیے۔

” اب راج کرے گی خلق خدا”، ہر شودر جائے گا پسِ زنداں

پھر  دیکھیں گے ہم وہ روشن سحر، ہوگا ہر مزدور جیل کے اندر

کیا سبزی والا کیا مرغی والا، پڑے گا  سب  کی دکانوں پہ تالا

پھر چمکے گا ہر سیٹھ کا تارا، ہر ہولڈر کمائے گا سال سارا

پھر موج میں طغیانی آئے گی، یہ قوم تیزاب سے دھلوائی جائے گی

پھر یں گے دن اب بینکار کے، اجیارا ہواگا صحن میں ساہوکار کے

، ہم غربت مٹانے نکلے ہیں ، چیخوں کو دبانے نکلے ہیں

بچہ شودر کا بچ نہیں پائے گا، اشرافیہ کو  چھیڑا نہیں جائے گا

غربت پہ لگے گا جرمانہ، اشراف کو ملے گا آب دانہ

"ہمتِ مرداں مدد ِ خدا، اب راج کرے گی خلقِ خدا” (  تخلیق واجد علی )

میں جیسے ہی اٹھنے لگا تو میرا دامن پھر پکڑ کے بٹھا لیا اور بولے،” یاد رکھو بیٹا!ہمیں اپنا دھیان ان چھوٹے طبقوں پر رکھنا ہوگا کیونکہ یہی اصلی اور بڑے مگرمچھ ہیں جن کو کٹہرے میں لاکر ان کا احتساب کرنا اشد ضروری ہے۔ اب اگر کبھی ایسا کوئی بھی رکشے والا دیکھو جس کے پاس تین سال کے بعد نیا رکشہ آگیا ہے تو اُسے پکڑ لو گریبان سے اور پوچھو، کیوں بے! بتا تین سال  کے بعد یہ نیا رکشہ کیسے آگیا۔ میں نے تین سال میں نیا بچہ نہیں پیدا کیا اور تو نیا رکشہ لے آیا۔ چور، کرپٹ، راشی! تیری یہ ہمت کہ تو کرپشن کرے اور اُس کرپشن  کے مال سے تین سال بعد نیا رکشہ خریدے”۔ میں نے اُن کی اس بات سے مکمل اتفاق کیا اور گھر واپس آگیا۔

واجد علی گوہر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مائدہ ۔۔۔ اللہ کا دسترخواں
  • ساسان پنجم
  • ہر جنگ میں احمد کے سدا ساتھ
  • جمغورہ الفریم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ٹوٹتا خاندانی نظام اور ماں
پچھلی پوسٹ
ساحل ملا تو موج بلا ڈھونڈتے رہے

متعلقہ پوسٹس

ایسےایسے لوگ

دسمبر 16, 2019

رسم کے مت اسیر ہو جاؤ

دسمبر 31, 2021

خواہش

اگست 6, 2020

دن رات بنائیں لفظوں سے

اکتوبر 10, 2025

خَیْرُ النَّاسِِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاس

اگست 5, 2025

کھلی ہے آنکھ حقیقت کی انتقال کے بعد

نومبر 18, 2020

تجھ سے یوں دوستی نبھاٶں گی

دسمبر 20, 2022

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

چل چھوڑ محبت کی باتیں

اپریل 22, 2020

شکاری عورتیں

اکتوبر 29, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جوار کی کاشت و دیکھ بھال

مئی 19, 2024

انکے چہروں پہ مسافت

اکتوبر 12, 2025

نہر کنارے

فروری 12, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں