ہم اہلِِ مہر و محبت طلب، رسد کے نہیں
ہمیں قبول کئی فیصلے خرد کے نہیں
کبھی طویل کبھی مختصر مرا سایہ
یہ روشنی کے مسائل ہیں، میرے قد کے نہیں
مقامِِ بدر پہ یہ راز آشکار ہوا
خدا یقین کے ہمراہ ہے، عدد کے نہیں
جہانِ حرف کے جعلی خداؤ دیکھ لو ہم
سخن کے بل پہ کھڑے ہیں کسی سند کے نہیں
انہی میں خوابُِ دریدہ کے ہیں ، یقین کے بھی
تمام ٹکڑے خدایا، دعاۓ رد کے نہیں
وہ لم یلد ہے، احد ہے، وہی ولم یولد
تو کیا یہ رنگ سبھی رب الصمد کے نہیں
بدن گلاب ، نگاہیں شراب، غنچہ دہن
یہ دلبری کے فضائل ہیں خال و خد کے نہیں
مجھے بچا کے دکھائیں وہ ہجر کی حرمت
جو لوگ وصل میں قائل کسی بھی حد کے نہیں
مجھے پتہ ہے بہتر (72) نفوس کربل میں
خدا کے وصل کے طالب ہوئے، مدد کے نہیں
یہاں قبول ہے محبوب سب عیوب سمیت
جہانِ عشق میں جھگڑے یہ نیک و بد کے نہیں
کمال یہ ہے کہ اظہر مرے رقیبوں سے
معاملات محبت کے ہیں ، حسد کے نہیں
اظہر عباس خان
