112
یہ کارواں نمود کا یہ سلسلہ وجود کا
یہ آسماں یہ کہکشاں
جو کچھ بھی نزد و دور ہے
یہ ایک ہی وجود کی نمود ہے
نہ ابتدا نہ انتہا
فقط بقا
تیری کبیدہ خاطری ہے بے محل
یہ بے کسی یہ عاجزی ہے بے محل
یہ زندگی ہے جاوداں
مثال آب جو رواں
تو قید و بند ذات ہے
کہ ذات بے ثبات ہے
ہمارے درد کی دوا
خودی کی کائینات ہے
خودی کی کائینات میں
نجات ہے ثبات ہے
منزہ انور گوئیُندی
