137
ہو کے رنجور بہت دور تلک
میں چلی دور بہت دور تلک
تجھ کو سوچوں تو نظر آتا ہے
نور ہی نور بہت دور۔۔۔۔تلک
ہر قدم پر تمہارے ساتھ گئی
آنکھ مخمور بہت دور تلک
راہِ الفت میں ہمیں چلنا پڑا
درد سے چور بہت دور تلک
لوگ تشکیک میں نہ پڑ جائیں
مجھ کو مت گھور بہت دور تلک
چلتی گاڑی کے پیچھے بھاگا تھا
ایک مجبور بہت دور ۔۔۔۔۔تلک
اس کی آنکھوں کے جام نے عنبر
رکھا مسرور بہت دور تلک
فرحانہ عنبر
