خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابرطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشاہد نسیم چوہدری

برطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنا

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 24, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 24, 2025 0 تبصرے 61 مناظر
62

shahid naseem chaudhry

برطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنا – پاکستانی موقف کی تائید ہے

دنیا کی سیاست میں بعض فیصلے محض وقتی نوعیت کے نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے کو موڑ دیتے ہیں۔
برطانیہ کی جانب سے حالیہ فیصلہ کہ فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک آزاد ریاست تسلیم کیا جائا، ایسا ہی ایک فیصلہ ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، عالمی سفارتکاری اور بالخصوص اسرائیل کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر دیے ہیں۔
پاکستان کی ریاست اور عوام ہمیشہ فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ برطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا دیرینہ مؤقف درست اور اصولی تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ نہ صرف عالمی انصاف کی جیت ہے بلکہ مظلوم فلسطینیوں کے خون کی پکار کا جواب بھی ہے۔ پاکستان عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کا جائز اور بنیادی حق دلایا جائے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔
تاریخی پس منظر۔یہ تاریخ کا کتنا ہی بڑا تضاد ہے کہ فلسطین کے مسئلے کی جڑ بھی برطانیہ ہی کی پالیسیوں میں پیوست ہے۔ 1917ء کا ’’اعلان بالفور‘‘، جس کے ذریعے برطانیہ نے فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کی حمایت کی، آج بھی عرب دنیا کے زخموں کو ہرا کرتا ہے۔ اسی اعلان نے وہ بنیاد رکھی جس پر 1948ء میں اسرائیل وجود میں آیا اور لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔گزشتہ ایک صدی سے فلسطینی عوام جدوجہد، قربانیوں اور مشکلات کے باوجود اپنی سرزمین اور اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔
موجودہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟۔برطانیہ اب اس تاریخ کے بوجھ کو کسی حد تک ہلکا کرنے جا رہا ہے۔ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ نہ صرف اسرائیل کے یکطرفہ مؤقف کو رد کر رہا ہےpalestine flag بلکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ’’دو ریاستی حل‘‘ کو واحد راستہ تسلیم کر رہا ہے۔
یہ فیصلہ محض علامتی نہیں بلکہ عملی سفارتکاری میں ایک بڑا قدم ہے۔ کیونکہ برطانیہ، یورپی یونین کا ایک اہم ملک، سلامتی کونسل کا مستقل رکن، اور عالمی سیاست میں مرکزی کردار رکھتا ہے۔ اس کا فیصلہ باقی مغربی ممالک پر بھی اثر انداز ہوگا۔عالمی برادری پر اثرات۔فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد پہلے ہی 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔ لیکن مغرب میں اس حوالے سے بڑی ہچکچاہٹ رہی ہے۔ اب برطانیہ کا یہ فیصلہ یورپ میں ایک نئی لہر پیدا کرسکتا ہے۔ اسپین، آئرلینڈ اور ناروے جیسے ممالک پہلے ہی فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں۔ توقع ہے کہ فرانس، بیلجیئم اور دیگر یورپی ریاستیں بھی جلد اس صف میں شامل ہو جائیں گی۔
یہ تبدیلی اس وقت سامنے آ رہی ہے جب غزہ میں اسرائیلی بربریت اور نہتے شہریوں کا قتلِ عام عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ عوامی دباؤ، انسانی حقوق کی آوازیں، اور مسلسل بڑھتا ہوا احتجاج مغربی حکومتوں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے یکطرفہ اقدامات کے بجائے انصاف کے ساتھ کھڑے ہوں۔اسرائیل پر دباؤ۔اس فیصلے سے اسرائیل شدید سفارتی دباؤ میں آ جائے گا۔ برسوں سے وہ فلسطین کی ریاستی حیثیت کو تسلیم نہ کرانے کے لیے عالمی سطح پر لابنگ کرتا رہا۔ لیکن اب جب ایک بڑا ملک فلسطین کو تسلیم کر رہا ہے تو اسرائیل کی پوزیشن کمزور ہوگی۔یہ فیصلہ اسرائیل کے ان دعوؤں کی نفی بھی ہے کہ فلسطینی عوام محض ’’آبادی‘‘ ہیں، ریاستی تشخص نہیں رکھتے۔ برطانیہ نے یہ مان لیا ہے کہ فلسطینیوں کا وجود ایک قوم کی حیثیت سے مسلمہ حقیقت ہے، جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔مسلم دنیا کا ردِعمل۔مسلم دنیا اس فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہی ہے۔ سعودی عرب، ترکی، ایران اور دیگر اسلامی ممالک کے بیانات میں اس اقدام کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ ایک حوصلہ افزا خبر ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ سے فلسطینی عوام کی حمایت پر مبنی رہی ہے۔ برطانیہ کے اس اقدام سے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مزید تقویت ملی ہے۔
پاکستان کا مؤقف۔پاکستان کی پارلیمنٹ، حکومت اور عوام ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ برطانیہ کا فیصلہ پاکستان کے اس مؤقف کی تائید ہے جو عشروں سے ہم عالمی فورمز پر دہراتے رہے ہیں کہ ’’فلسطینی عوام کو ان کا حق دیا جائے اور انہیں ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے‘‘۔پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر برطانیہ کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ سفارتی لائحہ عمل بنائے تاکہ اقوامِ متحدہ میں بھی اس فیصلے کے اثرات مرتب ہوں۔یورپ کی بدلتی سوچ ۔یہ فیصلہ محض فلسطین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یورپ کی عمومی پالیسیوں میں بھی تبدیلی لائے گا۔ اسرائیل کو اب یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ طاقت کے زور پر زمین ہتھیانا اور انسانی حقوق کی پامالی اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔برطانیہ میں ہونے والے عوامی مظاہرے، یونیورسٹیوں میں فلسطین کے حق میں تحریکیں، اور میڈیا کا بڑھتا ہوا دباؤ اس بات کی علامت ہیں کہ عوامی رائے حکومتوں کو اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور کر رہی ہے۔امریکہ کا کردار۔اب سب کی نظریں امریکہ پر ہیں۔ اگرچہ امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کی حمایت کی ہے، لیکن داخلی سطح پر وہاں بھی فلسطین کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ نوجوان امریکی، تعلیمی ادارے، حتیٰ کہ کانگریس کے کچھ اراکین بھی اب کھل کر فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے اس فیصلے کے بعد امریکہ پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ فلسطین کے مسئلے پر زیادہ متوازن مؤقف اپنائے۔فلسطینی عوام کے لیے پیغام ۔فلسطینی عوام کے لیے یہ فیصلہ ایک امید کی کرن ہے۔ دہائیوں کی جدوجہد، قربانیاں اور بے شمار شہادتیں آخرکار عالمی سطح پر رنگ لا رہی ہیں۔ یہ فیصلہ ایک اخلاقی فتح ہے جو فلسطینی عوام کے حوصلے کو مزید بلند کرے گا۔
یہ دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ظلم اور جبر کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، بالآخر انصاف کی جیت ہوتی ہے۔
مستقبل کی راہ۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ برطانیہ کے اس فیصلے کو عملی اقدامات میں ڈھالا جائے۔ محض تسلیم کر لینا کافی نہیں، بلکہ فلسطین کو مکمل ریاستی اختیارات دلوانے کے لیے عالمی سطح پر مزید دباؤ بڑھایا جائے۔
سلامتی کونسل میں قراردادیں پیش کی جائیں، اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ مقبوضہ علاقوں سے فوجیں واپس بلائے، اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عملی منصوبہ بنایا جائے۔
برطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنا یقیناً تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ یہ فیصلہ عالمی ضمیر کی جاگتی ہوئی حالت کا ثبوت ہے اور فلسطینی عوام کے دیرینہ خواب کی تعبیر کی طرف ایک قدم ہے۔
اگر عالمی برادری نے متحد ہو کر دو ریاستی حل کو عملی شکل دے دی، تو مشرقِ وسطیٰ میں نہ صرف امن قائم ہوگا بلکہ دنیا ایک بڑے انسانی المیے سے بھی نجات پا سکے گی۔پاکستان اس عزم کو دہراتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام تک اپنی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ برطانیہ کا فیصلہ امید کی نئی کرن ہے، مگر اصل منزل تب ملے گی جب دنیا متحد ہو کر فلسطین کو مکمل ریاستی آزادی دلائے گی۔

شاہد نسیم چوہدری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وہ جو ملتا ہے کچھ فائدہ دیکھ کر
  • میں کون ہوں؟ مسلمان ہوں یا کیا ہوں؟
  • ذرا شیوسار جھیل تک
  • میرے دیکھے سے کوئی بھی ہو سنبھل پڑتا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
صدر ٹرمپ کا بھارت کو ایک اور سرپرائز
پچھلی پوسٹ
ہم پاؤں پاؤں دشت میں

متعلقہ پوسٹس

بن تری دید کے کس طرح گزارہ ہو گا

نومبر 18, 2020

میرا بچہ

مارچ 22, 2020

روتی آنکھوں سے جو گُل باری ہے

فروری 1, 2020

جوانی

دسمبر 9, 2019

درد ہونٹوں میں جو دبا رہے گا

اکتوبر 28, 2020

بےجسم

مئی 23, 2023

آنکھوں پہ میری کیوں

نومبر 11, 2025

سانپ ہوں نا، اس لئے

جون 27, 2025

زرداری صاحب کیخلاف مقدمہ

نومبر 23, 2019

جینے کا کوئی ہم کو

جون 27, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آبِ حیات (محمد حسین آزاد)

مارچ 23, 2026

اب بھی مجھ کو شکوہ چشمِ...

مئی 19, 2020

ہمارے ظرف کے جتنا کوئی وبال...

فروری 1, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں