خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرآخری جلسہ
اردو تحاریراردو تراجم

آخری جلسہ

روس کے لکھاری آندرے گروشینکو کا ایک افسانہ

از سائیٹ ایڈمن نومبر 28, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 28, 2019 0 تبصرے 709 مناظر
710

آخری جلسہ

بڈھے باشکوف نے اپنی بہو سے کہا:
"جانتی ہو، آج کیا دن ہے۔ دیکھو، دھوپ نکل آئی، میرے باہر بیٹھنے کا انتظام کر دیا؟”
بہو مسکرائی، وہ اچھے نین نقش کی تھی، لیکن اس کا وزن بڑھتا جارہا تھا اور وہ خاصی بے ڈول ہورہی تھی، بڈھے باشکوف نے اپنے آپ سے کہا:
"مرد بڑا ظالم ہے، عورت کی خوبصورتی چھین لیتا ہے۔”
"ہاں! باہر کرسی بچھا دی ہے، کوئلے دہکا کر انگیٹھی گرم کردی ہے۔۔۔ اور کیا چاہیئے بابا۔۔۔۔۔۔۔۔”
"بس تو پھر مجھےسہارا دے کر باہر لے چلو، آہ، یہ گنٹھیا۔۔۔۔ ششکا! تیرا گھر والا تو چلا گیا ہوگا؟”
"ہاں بابا! بچے بھی اس کے ساتھ ہی گئے ہیں۔”
بہو نے بڈھے کو سہارا دے کر بستر سے اُٹھایا، پھر اسے سہارا دیتی مکان کے باہر لے آئی، جہاں ایک بڑی کرسی بچھی تھی اور اس کے سامنے ایک انگیٹھی میں کوئلے دہک رہے تھے۔
” بابا بہت بوڑھا، لیکن بہت بھاری ہوگیا تھا۔”
بہو نے دل میں کہا اور پھر مسکراتی ہوئی گھر کے اندر چلی گئی۔
باشکوف نے سامنے کھلے میدان کی طرف دیکھا۔ چند سو گز کے فاصلے پر لوگ جمع ہورہے تھے۔ یومِ مئی کا جلسہ ہونے والا تھا۔ اس جلسے میں شریک ہونے والے بہت سے مزدور اس کے جاننے والے تھے۔ چار سال پہلے تک وہ بھی اس جلسے میں شریک ہوا کرتا تھا، حالانکہ اسے فیکٹری سے ریٹائر ہوئے نو برس ہوچکے تھے۔ جوڑوں کے درد نے اسے کسی کام کا نہ چھوڑا تھا۔ وہی ہڈیاں اور جوڑ جو کبھی اس کی بے پناہ طاقت کے ضامن تھے، اب اس کا روگ بن چکے تھے۔ سارا دن وہ بستر پر لیٹا ادھراُدھر کی ہر طرح کی کتابیں پڑھتا رہتا، بیٹا فیکٹری چلا جاتا، پوتے اسکول، گھر میں وہ اور بہو رہ جاتے۔ بہو بہت خدمت گزار تھی۔ اس نے بڈھے باشکوف کو اپنی بیوی کی خدمت بھلا دی تھی۔ باہر نکلنا ختم ہوچکا تھا، ہاں، ہر یومِ مئی کا جلسہ سننے کے لیے وہ باہر آکر بیٹھ جاتا۔ وہ جانتا تھا کہ یوں وہ اپنے ساتھیوں کی خوشیوں اور دکھوں میں شریک ہوجاتا ہے، پھر جلسے کے اختتام پر جلسہ کرنے والوں کو اس کی ضرورت بھی تو پڑ جاتی تھی۔
وہ مسکرانے لگا۔
اس نے ہاتھ کی حرکت دی، اپنے بوسیدہ اوورکوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا، جیب کے اندر یہ ‘کوپک’ گننے لگا۔۔۔۔ گیارہ کوپک ۔۔۔۔۔۔ اس نے گنتی ختم کی۔
"ہاں”
اس نے اپنے آپ سے کہا:
"اس سے زیادہ انہیں کیا ضرورت پڑے گی۔”
وہ مسکرانے لگا، ہر سال ایسا ہی ہوتا تھا، جب جلسہ ختم ہو جاتا تو جلسے کا انتظام کرنے والی کمیٹی کو پتا چلتا کہ فرنیچر اور دریوں کے کرائے کے لیے ان کے پاس کچھ پیسے کم پڑگئے ہیں، پھر وہ ایک دوسرے سے پیسے مانگتے، چندہ کرتے اور یوں ادائیگی کرتے تھے۔ آٹھ نو برس پہلے جب بڈھا باشکوف ریٹائر ہوچکا تھا، یہی بات ہوئی تو اس نے سب کو روک کر کہا تھا:
"میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں، ملازمت سے بھی چھٹی ہوچکی، اپنے ساتھیوں کی جدوجہد میں عملی حصہ نہیں لے سکتا، اس لیے اب میں اس جدوجہد میں اسی طرح حصہ لے سکتا ہوں کہ یومِ مئی کے جلسے کے انتظامات تم کرو، جو رقم کم پڑے اس کی ادائیگی میں کیا کروں گا۔”
تب سے وہ پانچ، ساتھ، آٹھ، دس کوپک دے کر یومِ مئی کے جلسے کے انعقاد میں عملی حصہ لیا کرتا تھا۔
جلسہ شروع ہوچکا تھا۔ سینکڑوں مزدور وہاں بیٹھے تھے۔
طرح طرح کی ٹوپیوں اور گنجے سروں کا ایک انسانی سمندر دکھائی دے رہا تھا۔
بڈھا باشکوف مسکرایا، اس کی مسکراہٹ میں کچھ تلخی بھی تھی۔
"جنہوں نے ٹوپیاں پہن رکھی ہیں، ان میں سے بھی بیش تر کے سر گنجے ہیں، ہم مزدور اتنی جلدی گنجے کیوں ہو جاتے ہیں؟”
مزدور ترانہ گارہے تھے۔ وہ توجہ سے سنتے ہوئے دل ہی دل میں ترانہ گنگنانے لگا۔۔۔۔۔۔ وہ جذباتی سا ہورہاتھا۔ ترانے کے بعد ایک نوجوان مزدور تقریر کرنے لگا۔
"بڑا جوش ہے بھئی اس کی باتوں میں”
بڈھے نے دل میں کہا۔
"کون ہے یہ نیا لیڈر۔۔۔۔۔۔ چلو۔۔۔ یہ فیکٹری بھی تو دنیا کی طرح ہے۔ کوئی آتا ہے، کوئی جاتا ہے، لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی باتوں میں جوش ہی ہے، اس طرح تو مسئلے حل نہیں ہوتے۔ خیر، جوانی کا جوش ہے۔۔۔۔۔ اس بھٹی سے تپ کر نکلے گا تو کندن بن جائے گا۔ معقولیت ۔۔۔۔۔ وہ ہنسا تو اس کی سفید مونچھیں پھڑ پھڑائیں۔ معقولیت۔۔۔۔۔ کہاں ہے دنیا میں؟ جہاں بھوک ہو، غربت ہو۔۔۔۔ وہاں معقولیت کا گزر کیسے ہوسکتا ہے۔”
اسٹیج پر آخری مقرر آگیا، یہ اناطولی تھا، سرخ لمبی ناک، جسے وہ بار بار چھونے اور سہلانے کا عادی تھا۔
اناطولی ہے مزدوروں کا لیڈر، بوڑھے نے اسے داد دی، کیا منجھا ہوا آدمی ہے، کبھی سمجھوتا نہیں کرتا، لچک تو ہے یہ نہیں فولاد ہے فولاد بڈھے باشکوف نے آنکھیں میچ لیں۔
"کیا حسین عورت تھی اناطولی کی بیوی۔۔۔۔۔ مر گئی بے چاری۔۔۔۔۔ کتنی چک پھیریاں میں نے اسے راغب کرنے کے لیے لی تھیں، مگر کیسی باوفا تھی، واہ۔۔۔۔ کیا حسینہ تھی۔۔۔۔۔ کیا وفا شعاری تھی۔”
بڈھا پرانی یادوں کے نشے میں اونگھنے لگا۔
تالیوں اور نعرون کا شور سن کر وہ چونکا۔
جلسہ ختم ہوگیا، لوگ جانے لگے تھے، نعرہ لگاتے، ناچتے، گاتے۔۔۔۔
بہت سے لوگ اس کے پاس آئے، اسے سلام کیا، اس کا بھاری بھدا ہاتھ لے کر اپنے گرم ہاتھوں سے سہلایا۔ کسی نے اس کے گھٹنے چھوئے اور کوئی زمین پر پاس بیٹھ گیا۔ وہ مسکراتا رہا۔ حال احوال پوچھتا رہا اور انتظار کرتا رہا۔۔۔۔۔
وہ جانتا تھا، اب جلسہ کمیٹی والے حساب کتاب کر رہے ہوں گے، پھر ان میں سے کوئی ایک حسبِ روایت اس کے پاس آئے گا۔
"بابا باشکوف صاحب ۔۔۔۔ چھے کوپک کم ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔ سات روبل ۔۔۔۔ آٹھ روبل۔۔۔ دس روبل کم پڑھ گئے ہیں۔”
وہ جیب میں ہاتھ ڈالے گا، کوپک نکال کر اسے گن کر دے دے گا۔ وہ شکریہ ادا کرکے سلام کرکے چلا جائے گا۔
بڈھے باشکوف نے اوورکوٹ کی جیب سے سارے کوپک نکال کر اپنی مٹھی میں لے لیے۔۔۔
جلسے کا میدان خالی ہوچکا تھا۔ اپنی بوڑھی آنکھیں میچ کے وہ ان چند لوگوں کو دیکھنے لگا جو اسٹیج کے نیچے سر جوڑے کھڑے تھے، وہ ان کی آواز سن نہیں سکتا تھا، اگر آواز اس تک پہنچ سکتی تو وہ سنتا کہ ایک کہہ رہا تھا:
"پیسے تو پورے ہیں بلکہ دو کوپک بچ گئے ہیں۔”
"چلو اچھا ہوا۔”
دوسرا مزدور بولا:
"ہرسال ہم بابا باشکوف کو تکلیف دیتے تھے۔”
"مجھے اس سے پیسے لینے میں بہت ندامت محسوس ہوتی تھی، بے کار ہے، بوڑھا ہے، بیمار ہے۔۔۔۔۔ ہم اس کی مدد کرنے کی بجائے الٹا اس سے۔۔۔۔۔۔۔”
"بھئی وہ خود ایسا چاہتا تھا۔”
دوسرا بولا:
"اپنی خوشی سے دیتا تھا۔”
"اچھا بھئی فارغ کرو فرنیچر اور دریوں والے کو۔۔۔۔”
"ہاں ۔۔ہاں میں ابھی ادائیگی کردیتا ہوں۔”
"بابا باشکوف بیٹھا ہے۔۔۔۔ چلو، اس سے مل آئیں۔”
"نہیں وہ سمجھے گا کہ ہم اس سے پیسے لینے آئے ہیں، شام کو مل لیں گے۔”
"ہاں ! ٹھیک ہے، شام کو مل لیں گے۔”
بابا باشکوف دیکھتا رہا، وہ ایک ایک کرکے اس کے پاس آئے بغیر چلے گئے۔ اب اس کی نگاہوں کے سامنے خالی میدان پڑا تھا۔ کرسیاں، میزیں، اسٹیج کے تختے، دریاں، سب لادی جاچکی تھیں اور اس کے سامنے گھوڑا گاڑی وہاں سے سامان اٹھا کر چلی گئی۔
اسے یوں لگا جیسے اس کا سہارا خون اس کے سر کی طرف تیزی سے چڑھنے لگا ہے، جیسے وہ الٹا بیٹھا ہے، ٹھٹھر رہا ہے۔۔۔
انگھیٹی کے کوئلے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔
"تو انہیں میری ضرورت نہیں رہی۔۔۔۔۔۔ میں اپنے ساتھیوں کی جدوجہد میں کسی طرح بھی شریک نہیں ہوسکتا۔۔۔۔”
اس کا بیٹا اور پوتے، جلسے کے بعد جلوس کے ساتھ چلے گئے تھے، جب وہ واپس آئے تو بڈھے کا بھاری سر سینے کی طرف جھکا ہوا تھا، بیٹے نے آواز دی۔
"بابا چلو، اب اندر چلیں۔”
اس کا ایک پوتا چلایا:
"دیکھو! کوپک زمین پر گرے ہیں۔”
کچھ کوپک اس کی مٹھی میں بھی موجود تھے۔
وہ مرچکا تھا۔۔۔۔۔
بہو، بیٹے اور پوتوں نے اسے مل کر اٹھایا۔ ۔۔۔۔۔۔۔بہو آنسو بہارہی تھی اور دل میں کہہ رہی تھی:
"بابا۔۔۔۔۔ بہت بوجھل ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

مترجم: ستار طاہر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مائنوازم کیا ہے ؟
  • غیر آئینی بندوبست اور عوامی احتجاج
  • "چار چاند "اور نیلم احمد بشیر
  • نپولین کی محبوبہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دیکھ آئینہ میں عکسِ
پچھلی پوسٹ
انشاء کا اعظمی کو پہلا خط

متعلقہ پوسٹس

دیہات کے مسائل

جنوری 11, 2026

ذہنی صحت کی بگڑتی ہوئی تصویر

فروری 18, 2026

دو مناظر

جنوری 29, 2020

راج نگرا کا قصاب

نومبر 23, 2019

عالم تمام حلقۂ دامِ فراڈ ہے

جون 3, 2020

پروفیسر رشید حسن خان

ستمبر 16, 2025

سیاسی جماعتوں کی رسہ کشی

اکتوبر 28, 2025

کب کوئی فرق پڑرہا ہے!

جون 7, 2024

یوم کشمیر اور ہمارا کردار

فروری 5, 2020

نئے دور کی چالبازیاں

جنوری 13, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کیا اُستاد ہونا قابلِ شرم ہے؟

اپریل 29, 2026

انٹرنیٹ کی سست رفتار

اگست 31, 2024

خدا پرستی کا نسخہ

دسمبر 29, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں