102
وقت کے تقاضے کی بات کرتے ہیں
ہم سے ہماری ذات کا سوال کرتے ہیں
ہم مسکرا دیتے ہیں سوال سن کر
جب جواب دیتے ہیں تو ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں
ہم بھی اپنی بات کا پکے ہیں
ہم بھی اپنی راضا پر اصرار کرتے ہیں
عزت النفس سے پیاری کوئی شۓ نہی اس جہاں میں
لوگ کیسے کسی کی غلامی کا اقرار کرتے ہیں
جو جاتا اسے جانے دیا جاۓ صنم
رکنے والے کب جانے کی بات کرتے ہیں
محبت کسی کی قید کی پابند تو نہیں ھوتی صنم
پھر بھی کچھ اس قید کے پیار کا انتظار کرتے ہیں
اب ھر کوئی مخلص نہیں ھوتا اس جہاں میں
قدر کریں اپنے ساتھی کی
کیونکہ بہت سے لوگ مخلص انسان کی رب سے فریاد کرتے ہیں
صنم فاروق
رقیب تحریر
