خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابادنیا کے مہذب معاشرے اور انسانیت کی تذلیل !
آپکا اردو بابااردو تحاریر

دنیا کے مہذب معاشرے اور انسانیت کی تذلیل !

از شیخ خالد زاہد جنوری 13, 2024
از شیخ خالد زاہد جنوری 13, 2024 0 تبصرے 43 مناظر
44

فلسطین سے سماجی ابلاغ پر لمحہ بہ لمحہ نمودار ہونے والی تصاویر ، ویڈیوز اور دل دوز داستانیں عالمی طاقتوں کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ دوسری طرف فلسطینیوں کے مطابق انہیں کسی امداد کی کوئی ضرورت نہیں ۔ انہیں کامل یقین ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے حصول کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ بخوشی اس وقت تک دیتے رہینگے جب تک فلسطینی ختم نہیں ہوجاتے یا اسرائیل کے ناپاک وجود کو ختم نہیں کردیتے ۔ ان کاماننا ہے جوکہ ایسا ہی ہے کہ وہ اللہ کے خاص بندوں یعنی انبیاء کرام کی سرزمین کی حفاظت پر معمور ہیں اور قبلہ اول کے وارث ہیں ۔ وہ معاشرتی اور مذہبی دونو ں صورتوں میں دین اسلام کی سربلندی کیلئے تن تنہا میدان کارزار میں بر سرپیکار ہیں ۔ اب تک جو فلسطینی ، فلسطین کی سرزمین پر زندہ ہیں ، وہ کتنی ہی زبوں حالی کا شکار ہیں چاہے بچے ، عورتیں ، بوڑھے یا جوان لیکن مسکرا رہے ہیں ، ان کی مسکراہٹ ہمارے کلیجوں پر کسی نشتر سے کم نہیں ہے کیونکہ وہ کس بلا کی تکلیف کے باوجود مسکرا رہے ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ انکے لئے کسی قسم کی کوئی عملی آواز تک نہیں اٹھا ئی جاسکتی ۔

یہ بھی طے ہے کہ ہم قطعی اس کرب کو محسوس نہیں کرسکتے ہیں جو فلسطین کے پاشندوں کیلئے معمول بنا ہوا ہے ۔ ہم یہاں فلسطینیوں کو بہن بھائی بھی نہیں لکھ رہے کیونکہ ہم یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ ہمارے بہن بھائی نہیں ہیں البتہ وہ ساری امت کو اپنا بہن بھائی سمجھ کر سب کے دین کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ بے دریغ دے رہے ہیں ( جیسے فلسطین کی سرزمین خوشبوءوں سے معطر ہے اور وہاں ہر طرف خوشبوءوں کا بسیرا ہے ، شہدا کی روحیں پرواز کرتی اپنے زندہ اہل خانہ کی دل جوئی کرتی رہتی ہیں ) من کی آنکھوں سے دیکھیں تو کیا خوبصورت مناظر ہیں ۔ فلسطینیوں کا جذبہ ایمانی دیکھ کر یقین آگیا کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ پھر کسی سے نہیں ڈرتا ۔ بہت ساری ویڈیوز آپکی نظروں سے گزر رہی ہونگی جن میں ملبے کے ڈھیر تلے دبے ہوئے معصوم سے چھوٹے چھوٹے بچوں کے گرد آلود چہرے جو دیکھنے والوں کے دلوں پر چھریاں چلا رہے ہیں ، کچھ ایسی بھی ویڈیوز نظر سے گزریں کے جن میں ملبے تلے دبے بچے بچیاں جہاں تک دیکھائی دے رہے ہیں وہاں تک زندہ ہیں اورجو کچھ ملبے کے نیچے ہے اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکتا آیا کہ وہ کس حد تک سلامت ہیں یا پھر بلکل ختم ہوچکے ہیں ۔ جو ملبے میں دب کر بچ گئے ہونگے وہ بعد میں شھادت کے رتبے پر فائز ہوگئے ہونگے کیونکہ وہاں ملبہ ہٹانے کے کوئی آثار بھی نہیں دیکھائی دے رہے ہیں ۔ ہماری شرمندگی اور افسردگی اور بھی بڑھ جاتی ہے جب سوچتے ہیں کہ یہ شھید ہمارے خلاف کیا شھادت دینگے ۔

اسرائیل اپنی کارگزاری سے انسانیت کی بدترین تاریخ رقم کر رہا ہے ، اگر دنیا کی بے حسی اپنے عروج پر نہیں پہنچ چکی تو انہیں پتہ چلتا کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملہ معمولی بات تھی کیونکہ جو کچھ ہوا وہ ایک دفعہ میں ہو کر ختم ہوگیا لیکن یہاں تو کب کہاں کیسے کیا ہوگا کچھ پتہ نہیں چل رہا بس موت پورے فلسطین پر رقص کر رہی ہے ۔ یہاں یہ لکھنا بھی غیر ضروری ہے کہ بچیوں کی آبروریزی ہورہی ہے کیونکہ جو انسانیت کی آبروریزی کر رہا ہے اسکے لئے یہ سب تو کوئی بڑی یا بری بات نہیں ہے ۔ اس سے بڑھ کر یہ بھی ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ اسرائیلی فوجی کس طرح سے ٹوٹے ملبے کے ڈھیر بنے مکانوں سے سامان لوٹ رہے ہیں اور جشن منا رہے ہیں ۔ ہماری بے حسی کو عروج پر پہنچا کر اسرائیل نے اپنے حریفوں کو ملا کر فلسطین کو تہس نہس کرنے کا عملی مظاہرہ کر کے دکھا دیا ہے ، اس مقولے کو بھی عملی جامہ پہنادیا ہے کہ اینٹ سے اینٹ بجائی جا رہی ہے ۔ فلسطینی اپنی زندگی کی بقاء نہیں چاہتے وہ اپنی متبرک زمین چاہتے ہیں انکا کہنا ہے کہ ہ میں کہیں نہیں جانا اگر ہم ہیں تو اپنی سرزمین پر ہی رہینگے ورنہ اس زمین میں دفن ہوجائینگے ۔ فلسطینی جو کسی خاص قسم کے اسلحے سے لیس نہیں ہیں محدودترین وسائل اور محدود امداد بھی انہیں پیچھے جانے پر امادہ نہیں کرپارہی ہے ۔ فلسطین میں عملی طور پر تاریخ کی سب سے بڑی اور منظم تخریب کاری کا سلسلہ جاری ہے، انسانی زندگیوں کا اتنی بے دردی سے خاتمہ جدید دنیا کے منہ پر کسی بدنما داغ سے کہیں زیادہ ہے ۔ یوں تو افغانستان کی تباہی کا مناظر ابھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوئے اور نا ہی عراق ، لیبیا اور شام کا تباہ شدہ ملبہ سمیٹا گیا ہے لیکن اس سب کو جیسے بھلانے کیلئے فلسطین کی تباہی کی جارہی ہے ۔

معاشرے کتنے مہذب ہی کیوں نا ہوگئے ہوں لیکن دیکھائی ایسا ہی دے رہا ہے کہ عوامی رائے کا احترام شائد دنیا کے کسی معاشرے میں نہیں کیا جارہا اور اگر کہیں کیا بھی جاتا ہے تو صرف اتنا کہ لوگوں کے ہجوم کو مشتعل نہیں کیا جاتا اور انہیں منظم طریقے سے اپنا احتجاج کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے ۔ لیکن سرکاری سطح پر وہی ہوتا ہے جو کسی بھی ملک کی واضح کردہ خارجہ حکمت عملی نے طے کیا ہوا ہوتا ہے ۔ یہاں ایک اور بات بھی سمجھ آتی ہے کہ مہذب کہلانے کیلئے اور ترقی کے حصول کیلئے آپ کو بہت حد تک بے حس ہونا پڑتا ہے یعنی اگر آپ کی راہ میں کوئی رکاوٹ جس کا تعلق جذباتیت سے ہو، آپ کو اسے نظر انداز کرنا پڑے گا اور آگے بڑھنا پڑے گاتب ہی ترقی کا حصول ممکن ہوگا اور اس ترقی کیساتھ آپکو مہذب ہونے کی سند بھی مل جائے گی ۔ ایسا ہی کچھ دنیا کر رہی ہے ۔

آج قانون اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب کے سب ہی طاقتور کے دباءو تلے دبے ہوئے ہیں اور اپنے اپنے حلف کی خلاف ورزی اعلانیہ کرتے دیکھے جارہے ہیں ۔ اب یہ کسی ایک ملک کا مسلۃ نہیں رہا تقریباً دنیا میں ایسا ہی ہورہا ہے ۔ ساری اقدار و قوانین کتابوں میں بند کرکے کتب خانوں کو تالے لگا دئے گئے ہیں ، آج کتابیں بھی وہ لکھی جا رہی ہیں جن میں ایسے حالات میں جینے کے طریقے بیان کئے گئے ہیں ۔ پہلے کشمیر پر بھارت نے قدغن لگائی اور ساری دنیا زبانی جمع خرچ کر کے خاموش ہوکر بیٹھ گئی اور اب جو کہ کشمیر کے مقابلے میں بہت مختلف ہے لیکن تختہ مشق مسلمان ہی ہیں ۔ معلوم نہیں ہم انتظار کر رہے ہیں یا پھر کوئی اور کسی کا انتظار کر رہا ہے کہ جب وہ آجائے تو ہماری جان چھٹ جائے ۔ حضرت موسی علیہ السلام کی پرورش میرے اللہ نے فرعون کے گھر میں کروائی تھی جب کہ لڑکے کی پیدائش پر اسے قتل کردینے کا حکم تھا ۔ اب معجزے کا انتظار ہی کرسکتے ہیں کیونکہ جنہوں نے کچھ کرنا تھا وہ ، وہ کر بیٹھے ہیں جو اب سے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں کیا گےا تھا ۔ ہم نے پاکستان کی عوام کیلئے قلم اٹھانا تقیریباًچھوڑ دیا ہے لیکن فلسطین کی غیور عوام جو کسی سہارے کے بغیر اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن سے ٹکرائی ہوئی ہے مجبور کرتی ہے کہ اپنے احساسات کو لکھا جائے ، اپنی تکلیف سے قارئین کو آگاہ کیا جائے کیونکہ قارئین کے محسوسات بھی کچھ اس سے ملتے جلتے ہوئے ہی ہوتے ہیں ۔ اللہ سے دعا تو کرسکتے ہیں کہ امت کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دیں ۔

 

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مرے صحرا تشنہ دہانیوں سے بھرے ہوئے
  • اللہ کی محبت کے رنگ
  • الفاظ کے چنگل کے نہیں
  • کیا کوٹہ سسٹم پر بات ہونی چاہئے؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
شیخ خالد زاہد

اگلی پوسٹ
وہ لاکھ دوری کے بعد بھی
پچھلی پوسٹ
جنگل میں مور

متعلقہ پوسٹس

رحمتِ خداوندی کے پھول

فروری 3, 2020

ابن انشاء’’اردو کی آخری کتاب‘‘

اپریل 13, 2025

عالمی سطح پر جنونیت کیا گل کھلا رہی ہے

اکتوبر 9, 2017

اسے اک اجنبی کھڑکی سے جھانکا

مئی 23, 2020

لالچ

مارچ 25, 2022

پوس کی رات

جنوری 10, 2019

استعارہ

نومبر 14, 2021

امید کی شمع

جنوری 19, 2025

وقت گزرتا جا رہا ہے

ستمبر 23, 2025

شکرانہ

دسمبر 28, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بجھانے میں ہواؤں کی

فروری 4, 2020

عدوئے جاں کو بھی

اگست 5, 2025

احساس ۔ حصول سکون کا زریعہ

اپریل 20, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں