101
فصیل جاں کے قیدی ہیں مگر یہ دھیان رکھا ہے
ہوا کے واسطے ہم نے در امکان رکھا ہے
سجا سکتے تھے یادوں کے کئی چہرے کئی پیکر
مگر کچھ سوچ کر ہم نے یہ گھر ویران رکھا ہے
ہمیں شوق اذیت ہے وگرنہ اس زمانے میں
تری یادیں بھلانے کو بہت سامان رکھا ہے
تری جھولی میں لا ڈالیں گے قرضے اس محبت کے
کہ ہم شوریدہ سر ہیں کب کوئی احسان رکھا ہے
شب ہجراں میں در آتی ہیں کیسے یہ ملاقاتیں
تماشا ہائے خلوت نے ہمیں حیران رکھا ہے
تمہیں یہ ماننا ہوگا کہ ہم نے اپنے لب سی کر
سکوت شب کی مٹھی میں کوئی طوفان رکھا ہے
جو ہو یارو بہ ہر صورت چراغوں کو جلانا ہے
ہوائیں کتنی برہم ہیں یہ ہم نے جان رکھا ہے
مقصود وفا
