خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااداروں کا احترام اور استحکام پاکستان
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

اداروں کا احترام اور استحکام پاکستان

از سائیٹ ایڈمن مئی 14, 2023
از سائیٹ ایڈمن مئی 14, 2023 0 تبصرے 50 مناظر
51

ایک مریض جو بیک وقت کئی مختلف امراض میں مبتلاء ہو اوراسکے امراض کی تشخیص بھی ہوجائے توطبیب یقینا ایک ایک کر کے مرض کا علاج شروع کرے گا کیونکہ بیک وقت ایک سے زیادہ امراض کا علاج مریض کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ، دوسری صورت میں ایک قابل طبیب ایک ایسے مرض سے علاج شروع کرتا ہے جس سے بل واسطہ یا بلا واسطہ دوسرے امراض میں بھی آرام آنا شروع ہوجاتاہے ۔ ایک اہم ترین نقطہ یہ ہے کہ مریض طبیب کیساتھ کتنا تعاون کرتا ہے کیونکہ اگر مریض تعاون نہیں کرتا تو طبیب کی محنت کے رائیگاں جانے کا قوی امکان موجود رہتا ہے، ناصرف طبیب بلکہ قرابت داروں کی بھاگ دوڑ بھی ، جس کی وجہ سے مریض کو جان سے ہاتھ دھونے کا امکان بڑ ھ جاتا ہے ۔ یہاں جو غور طلب باتیں ہیں ان کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں سب سے پہلے مریض کو اپنے مرض سے آگاہ ہونا پھر طبیب پر بھروسہ ہونا اگر یہ بھروسہ قائم نہیں ہوپاتا تو کچھ قرابت دار یہ بھروسہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں پھر وسائل کا دستیاب ہونا اس طرح سے ایک طے شدہ عمل سے علاج شروع کیا جاتا ہے اور طبیب اور اسکے عملے کی محنت و لگن کے ساتھ ساتھ مریض کی بھرپور معاونت کی وجہ سے صحتیابی ممکن ہوپاتی ہے ۔ دورانِ علاج مریض کو کمزوری بھی لاحق ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ دواءوں دیگر اشیاء اور سب سے بڑھ کر قدرت کی رضامندی سے مکمل صحتیابی ممکن ہوجاتی ہے ۔ مریض کو پرہیز بتائیں جاتے ہیں ادویات دی جاتی ہیں جن کی مدد سے زندگی کی گاڑی رواں دواں ہونا شروع ہوجاتی ہے

اس بات سے نا تو کسی پاکستانی کو کوئی اختلاف ہوسکتا ہے اور نا ہی کسی ادارے کو کے پاکستان کو بیک وقت کئی خطرات نے گھیرے میں لیا ہوا ہے جس میں زیادہ تر خطرات داخلی ہیں کیوں کہ بیرونی خطرات ہماری دفاعی سرحد عبور کرنے کا سوچتے بھی نہیں ہیں اور اس کی وجہ ہمارے فوجی جوان ہیں جو سرحدوں پر ہر ہر لمحہ چوکنے کھڑے ہیں ۔ اب داخلی خطرات کی طرف توجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں سب سے بڑا مسلۃ انا کا ہے اور انا بھی انفرادی نوعیت کی ہے یعنی کوئی با اختیار اس بات کیلئے تیار ہی نہیں ہوتا کہ وہ کسی کو جواب دہ ہے جو کسی بھی لحاظ سے ممکن ہی نہیں ہے ۔ آپ کسی ادارے سے واقف ہو ں تو آپ ایک بتائے گئے کام کرنے کے طریقہ کار سے کام کرتے ہیں اگر کچھ مختلف کرتے ہیں تو اسکے لئے آپ کو اپنے اوپر والوں کو بتانا پڑے گا کہ میں اس کام کو کرنے کا ایک نیا طریقہ سوچا اور سمجھا ہے ورنہ ادارہ آپ کو بغیر کسی تردد اور وضاحت کے فارغ کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔

ہر ادارہ سرکار کے بنائے ہوئے ضابطہ اخلاق کی کاروائی پر پورا اترنے کے بعد ہی وجود میں آتا ہے اور ہر ادارہ اپنے کام کے لئے باقاعدہ اور واضح حکمت عملی بمع کام کرنے کے محفوظ طریقہ کار کو واضح کرتا ہے اور ان کے لئے بہترین افرادی قوت کو استعمال کرتا ہے ۔ ادارے اپنے دائرہ اختیار میں کسی قسم کی بیرونی دخل اندازی کو ہمیشہ نا پسند کرتے ہیں اور اسی طرح سے کسی اور ادارے کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی شراکت سے باز رہتے ہیں یہاں تک کے کوئی مشترکہ مفاد واضح نا ہوجائے ۔ ادارے افراد کی پشت پناہی کرنے لگیں یا افراد اداروں کے معاملات میں دخل اندازی کرنے لگیں ، سمجھ لیں اداروں نے بربادی کی طرف پیش قدمی شروع کردی ہے ۔ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان ریلویز ، پاکستان اسٹیل مل اور پاکستان بین الاقومی ائیر لائن کو کس طرح سے تباہی کے کنویں میں دھکیلا گیا، ان اداروں سے وابستہ بے تحاشہ چھوٹے چھوٹے ادارے جو ان اداروں سے منسلک تھے جہاں ہزاروں لوگ روزگار سے وابسطہ تھے آج ان میں سے صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں اور بچے ہیں وہ اپنی بقاء کی جنگ میں برسرِ پیکار ہیں ۔ یہ تین وہ بڑے ادارے جو ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے تھے ۔ ملک کی معیشت تو ایک زمانے سے لڑکھڑا رہی ہے اور اسے ٹھیک کرنے لئے اور اسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے کتنے ہی طبیب تبدیل کئے گئے ہیں جن میں سے کوئی کارگر ثابت نہیں ہوا ہے، لیکن تاحال زندگی بچانے والی ادویات کی طرح کبھی کسی سے اور کبھی کسی سے قرض لے کر سنبھالادیا جارہا ہے ۔ جبکہ عوام کا اس بات پر بھی یقین ہے کہ اللہ کے نام پر لیا گیا ملک ہے اللہ توکل ہی چل رہا ۔

کہیں کوئی اداروں کو بچانے کیلئے پریشان ہیں تو کوئی افراد کے پیچھے مرے جا رہاہے اور پاکستان کسی اسٹریچر پر لیٹے ہوئے مریض کی طرح اپنے طبیب کے متوجہ ہونے کے انتظار میں تڑپ ، سسک رہاہے ۔ وقت تقاضا کر رہا ہے کہ فوری طور پر ایک نقاطی منشور یعنی استحکام پاکستان پرایک جگہ بیٹھ جائیں اور پاکستان میں ایک ایسی فضاء قائم کریں جہاں اگلا لاءحہ عمل طے کریں ۔ خاکم بدہن مریض نہیں رہا تو طبیب اور اسکے ورثا سب کی بھاگ دوڑ بیکار ہوجائے گی، سب خاک پڑا رہ جائے گا جب لاکھ چلے گا بنجارا ۔ اداروں کو اور افراد کو جو سیاسی رہنماء ہیں کسی ایک نقطے پر اتفاق کرنا پڑے گا اور وہ ہے استحکام ِ پاکستان جس کے لئے اگر کسی ادارے کو ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے تو ہٹ جائے ایسے ہی ہمارے سیاست دان وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی انا سے باز رہیں اور ملک کی خاطر حالات کو معمول پر لانے میں قلیدی کردار ادا کریں ۔ پاکستان کا مفاد ہم سب کا مشترکہ ہے اس کی بقاء کیلئے سوچیں ، آج جتنے بھی ادارے اس نفسا نفسی کی زد میں ہیں ٹھنڈے اور غیر جانبداری کے روئیے پر آگے بڑھیں ۔ اداروں کا احترام ہی استحکام کی ضمانت ہے اور اداروں پر بھی لازم ہے کہ وہ پاکستان کو ایسی حالات کی طرف نا لے کر جائے جہاں کسی بڑے نقصان کا خدشہ لاحق ہو ۔ اللہ تعالی ہمارے حکمرانوں کو اس وطن ِ عزیز کو چلانے والوں کو ایسے فیصلے کرنے کی توفیق دے کہ جس سے ہمارا ملک واپس امن و سلامتی کی راہ پر گامزن ہوسکے ۔ آمین یا رب العالمین ۔

 

شبخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خَلق کی ابتدا محمدؐﷺ ہیں
  • ہٹلر کی جمہوریت اور ریپستان‎‎
  • امن و سکون کا راستہ: سنتِ رسول ﷺ
  • سوچ میں پختگی نہیں ہوتی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) : نئے امکانات
پچھلی پوسٹ
محبت بدلتی رہتی ہے

متعلقہ پوسٹس

بنت ِحوا تشدد کی زد میں کیوں؟

جولائی 13, 2022

تصویرِ شجاعت ہمہ عالم کے لیے تھے

جون 13, 2020

دنیا اور آخرت کی زندگی میں توازن

ستمبر 6, 2020

اشعار کی صحت کے متعلق چوتھا کالم

اگست 20, 2020

ردِّ عمل

اپریل 5, 2020

تختِ دل اس نے چنا پھر

نومبر 16, 2025

آگہی توشۂ رَہ کردی

مارچ 6, 2025

کیا کہنے

اگست 28, 2025

پس منظر کی اوٹ سے

نومبر 19, 2021

معنویت کا باغ

دسمبر 1, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دو پیروں والی ماں

دسمبر 11, 2020

چراغ حوصلہ رکھیں شباب آئے گا

نومبر 27, 2021

ایک دن میں چوبیس گھنٹے کیوں...

مارچ 30, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں