خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو بابا سپیشلسعادت حسن منٹو
اردو بابا سپیشلاردو تحاریرسوانح حیات

سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2022
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2022 0 تبصرے 76 مناظر
77

سعادت حسن نام تھا۔ منٹو ان کے خاندان کا نام تھا۔اصل میں یہ ایک کشمیری خاندان تھا جو کشمیر سے ہجرت کرکے پنجاب چلا گیا تھا۔سعادت حسن منٹو کا جنم پنجاب میں لدھیانہ کے ضلع سرالہ میں 1912ء میں ہوا۔پہلے امرتسر میں تعلیم حاصل کی اور پھر اعلی تعلیم کی خاطر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن وہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور علیگڑھ سے واپسی پر ملازمت کرلی۔منٹو کو ابتدائی عمر سے ہی افسانہ نگاری کی طرف لگاؤ تھا۔انہوں نے کچھ دیر کے لیے امرتسر کے اخبار "مساوات” میں ملازمت کی۔اسے چھوڑ کر بمبئی سے جاری ہونے والے ہفت روزہ "مصور” میں مدیر کی حیثیت سے کام کیا۔اس کے بعد فلمی دنیا کا رخ کیا، اسی دوران ملک کی تقسیم ہوئی اور منٹو پاکستان چلے گئے جہاں افسانہ نگاری جاری رکھی۔ منٹو کا انتقال 10 جنوری 1955ء کو پاکستان میں ہوا۔

منٹو کی ادبی زندگی کا آغاز لاہور سے ہوا جب انہوں نے اردو میں تحریروں کا سلسلہ شروع کیا۔اس کے بعد وہ فلمی کہانیاں لکھنے کے ارادے سے بمبئی چلے گئے اور فلموں کے لیے لکھنا شروع کیا،بعد میں عام موضوعات پر لکھا۔انہوں نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی، مختلف ڈرامے، خاکے اور افسانے لکھے لیکن وہ صنف جس نے انہیں حیات جاوداں بخش دی وہ ان کی افسانہ نگاری ہے۔

اردو افسانوی ادب میں سعادت حسن منٹو کا شمار پہلی صف کے فنکاروں میں ہوتا ہے۔ان کی ادبی زندگی کی شروعات 1936ء میں ہوئی۔یہ نئی ادبی تحریک کا زمانہ تھا۔یہ تحریکsaadat hassan manto سامراجی نظام اور اس وقت کے معاشرتی نظام کے خلاف حقیقت نگاری کے حق میں تھی۔منٹو اسی تحریک سے وابستہ ایک اہم ادیب تھے۔ان کی نظر صرف اپنے دور کے سماجی تفرقات و تضادات پر ہی نہیں تھی بلکہ تاریخی دور سے پہلے کے تضادات کی بھی وہ اچھی سمجھ رکھتے ہیں۔وہ ایک سچے اور بے باک فنکار تھے۔ان کے افسانوں میں بلا کی جان ہے انہوں نے جو کچھ لکھا وہ خلوص اور ایمانداری سے لکھا۔ان کے فن کی انفرادیت یہ تھی کہ انہوں نے گرے ہوئے کرداروں کے لیے انسان کےدل میں محبت پیدا کی۔ان پر فحش نگاری کے الزامات بھی لگائے گئے حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ ان کی تحریریں ہمارے جنس نگار ادیبوں سے سب سے زیادہ صاف ستھری اور پاکیزہ ہیں۔محمد حسن عسکری کے مطابق منٹو ایک فحش نگار نہیں تھے بلکہ اخلاقی فنکار تھے۔معاشرے کو ان کے افسانوں میں اپنا بدصورت اور کریہہ چہرہ نظر آتا ہے اس لیے منٹو پر فحاش کا الزام لگایا جاتا ہے۔منٹو نے معاشرے کی نقاب الٹ کر رکھ دی ہے۔محمد حسن عسکری ان کو بہت قریب سے جانتے تھے۔

سعادت حسن منٹو نے کارل مارکس کے نظریوں کو بھی پڑھا اور ترقی پسند تحریک سے متاثر بھی ہوئے لیکن اس قدر نہیں کہ وہ اسی کا شکار ہوتے۔انہوں نے اپنے اندر اپنے انفرادی افسانہ نگار کو زندہ رہنے دیا۔منٹو کے پہلے دور کے افسانوں میں بھی عورت طوائف کی حیثیت سے پیش کی گئی ہے۔اس سلسلے میں ان کے افسانے "ہتک” کی کردار ‘سوگندی’ اور "کالی شلوار” کی کردار ‘سلطانہ’ پورے سماج میں ایک خالص طوائف کا کردار پیش کرتی ہیں۔

انہوں نے افسانہ "نیا خون” میں نظامِ حکومت کی لعنتوں کے دور ہونے کی غلط امیدوں اور خوش فہمیوں کا پردہ چاک کیا ہے۔انکا ایک اہم افسانہ "باپو گوپی ناتھ” ہے اس افسانے میں منٹو نے ایک بھرپور اور مکمل کردار پیش کیا ہے۔باپو گوپی ناتھ ایک چھٹا ہوا بدمعاش، ایک عیاش اورmanto شرابی ہے لیکن اس بدی کے خول میں ایک نیک باطن ہے۔اس کی روح پاکیزہ اور اس کا دل بہت پاک ہے، اس کے پاس ہمدردی، فیاضی اور دوستی کا بے پناہ جذبہ ہے۔

منٹو نے اپنے افسانوں میں جنس کو موضوع بنایا ہے۔ان کا خیال تھا کہ غلاظت کو چھپانے کے بجائے اسے کریدنا اور صاف کرنا چاہیے،بے شک اسے بدبو پھیلتی ہے لیکن اس کے بغیر چارہ نہیں۔منٹو کے دماغ پر جنسیات کا غلبہ تھا وہ بہت حد تک فرائڈ کے فلسفے سے متاثر ہوئے اور عام طور پر دنیا کو اور خاص کر ایک طبقہ کو نفسیاتی خواہشات کا شکار پایا۔مگر انہوں نے اصلاح کا کوئی طریقہ نہیں بتایا اور نہ ابتری کو سمجھنے کا موقع دیا بلکہ انہوں نے ذہن کو مستقل اور گمراہ کیا ہے۔حالات سے تنفر کے بجائے ایک لذت انگیز الجھن پیدا کرنا ان کا حصہ رہا ہے۔

منٹو کی شوخی تحریر سے ایک دنیا نقش فریادی ہے ان کے کرداروں کا پیرہن کاغذی نہیں بلکہ گوشت پوست کا ہے۔منٹو کے کردار حقیقی ہیں۔طوائفوں یا اسی طبقہ کے دوسرے کرداروں کو انہوں نے اس انداز سے پیش کیا ہے جیسے ان کی زندگی انہی لوگوں میں گزری ہو۔انہوں نے جنسی کیفیت اور نفسیاتی خواہشات کے مظاہرے بڑی تفصیل اور بے باکی سے بیان کئے ہیں۔کبھی کبھی تو ان تفصیلات میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیش نظر اصلاح نہیں بلکہ لطف اندوزی ہے۔

ترقی پسند تحریک کے سلسلہ میں منٹو کا نام بہت اہم ہے۔انہوں نے اپنے مخصوص فن سے افسانہ نگاری کو ترقی بھی دی ہے اور ان ہی کے قلم سے اس نازک فن کو نقصان بھی پہنچا۔منٹو سیاسی افسانوں کی وجہ سے مشہور نہیں ہوئے بلکہ ان کا خاص میدان جنسی میلانات کا تجزیہ ہے۔اس سلسلہ میں انہوں نے باریک بینی اور مور شگافی سے کام لیا ہے۔منٹو نے اپنے افسانہ "دھواں” میں ابتدائی عمر کے جذبات کی ترجمانی کامیابی کے ساتھ کی ہے۔ان کے تمام افسانوں میں نفسیاتی تجزیہ نہیں ہے بلکہ ان کے بہت سے افسانوں میں گندگی پیدا ہوگئی ہے جس کی مثال "جانکی” میں جانکی کا کردار ہے۔افسانہ "ٹھنڈا گوشت” منٹو کے خاص رنگ کی نمائندگی کرتا ہے۔دراصل منٹو کا آرٹ عریانی میں مضمر ہے انہوں نے جنسی افسانوں کو ترقی دی ہے۔

منٹو کے آخری دور کے افسانے "سڑک کے کنارے” میں انھوں نے یہ دکھایا ہے کہ عورت ایک ماں کی زخمی تڑپتی ہوئی روح ہے۔منٹو نے اس فسانے میں بھی ایسا موقع پیدا کیا ہے کہ اس روح میں ایک طوفان ہے جس کی وجہ سے ہلچل مچی ہوئی ہے۔

"ہتک” کے کردار سوگندھی میں منٹو نے طوائف کے اندر چھپی ہوئی عورت کو ظاہر کیا ہے اور اسکی روح کو چھوا ہے۔

منٹو کی کردار نگاری میں سوگندھی کا کردار اور سلطانہ کا کردار منٹو کے متعدد طوائف کرداروں میں سب سے نمایاں کردار ہیں۔منٹو نے اپنے کرداروں کو ان شکنجوں سے آزاد کیا اور کہانی سے پلاٹ کی اولیت کو ختم کر کے کردار نگاری کے مقابلے میں اسے ثانوی چیز قرار دیا۔منٹو کی کردار نگاری جو اپنے عروج کو پہنچتی ہے تو وہ پلاٹ کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔”موپاساں” اور "چیخوف” کی طرح اگر اردو میں کسی افسانہ نگار کے کردار آر پار نظر آنے والے کردار بن کر سامنے آتے ہیں تو وہ منٹو ہی کے کردار ہیں۔

منٹو کے کارناموں میں ایک ناول "بغیر عنوان کے” 1954ء میں شائع ہوا۔ اس کے علاوہ ان کے افسانوی مجموعوں میں "آتش پارے” (1936) "منٹو کے افسانے”(1940)، دھواں (1941)، افسانے اور ڈرامے (1943)، لذت سنگ (1948)، سیاہ حاشیے (1948)، چغد (1948)، ٹھنڈا گوشت (1950)،خالی بوتلیں خالی ڈبے (1950)، بادشاہت کا خاتمہ (1951)، یزید (1951)، نمرود کی خدائی (1952)، سڑک کے کنارے (1953)، اوپر، نیچے اور درمیان (1954)، سرکنڈوں کے پیچھے (1954)، پھندے (1954) وغیرہ اہم ہیں۔

منٹو کے تقسیم ہند کے موضوع پر لکھے گئے افسانوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، موذیل، ٹھنڈا گوشت، کھول دو، سہائے، رام کھلاون، گورمکھ سنگھ کی وصیت، یزید،لہرنام کور،ڈارلنگ، عزت کے لیے،وہ لڑکی، اور انجام بخیر وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ منٹو نے مختلف شخصیات پر کل 22 خاکے بھی لکھے ہیں جن کے نام یہ ہیں۔میرا صاحب، آغا خشر سے دو ملاقاتیں،اختر شیرانی سے چند ملاقاتیں،تین گولے،بار صاحب،عصمت چغتائی،مرلی کی دھن،پری چہرہ نسیم،اشوک کمار،نرگس،کشت زعفران،بابو رائل پٹیل،دیوان سنگھ مفتون،نور جہاں،نواب کاشمیری،ستارہ،چراغ،حسن حیرت،پراسرار نینا،رفیق غزنوی پارودیوی،انور کمال پاشا۔

منٹو کے پانچ افسانوں:کالی شلوار، دھواں،بو، ٹھنڈاگوشت، کھول دو، اور ایک ڈرامہ اوپر نیچے درمیان پرفحاشی کے الزام کے تحت فوجداری مقدمے چلائے گئے۔ان میں سے ابتدائی تین کہانیوں پر مقدمات برطانوی دور حکومت میں قائم ہوئے اور بقیہ تین تحریروں پر مملکت پاکستان میں درج ہوئے۔منٹو کے مطابق "زمانے کے جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے ناواقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیے۔اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ ناقابل برداشت ہے” منٹو ایک جگہ فرماتے ہیں”چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے اور رات کو اطمینان سے سو جاتی ہے، میرے افسانوں کی ہیروئن نہیں ہوسکتی۔میری ہیروئن چکلی کی ایک رنڈی ہوسکتی ہے جو رات کو جاگتی ہے اور دن کو سونے میں کبھی کبھی یہ ڈراؤنا خواب دیکھ کر اٹھ بیٹھتی ہے کہ بڑھاپا اس کے دروازے پر دستک دینے آیا ہے”

مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ منٹو نے ہمیشہ جنس کو موضوع بنایا لیکن جنسی موضوعات پر لکھ کر انہوں نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ دو جنسیت کا ہی ہے اسی لئے انہوں نے خود کہا ہے کہ اگر میرے افسانے پڑھنے میں آپ کو شرم آتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ ناقابل برداشت ہے۔بہرحال کچھ بھی ہو سعادت حسن منٹو کا نام اردو افسانہ نگاری کی تاریخ میں ایک بلند مقام کا حامل ہے۔

بشکریہ
اردو نوٹس ڈاٹ کام

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بادشاہ کا خواب
  • پیٹرول کا نیا بوجھ – عوام کا مسئلہ
  • حدیث کی اقسام
  •  لالہ جی​
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیا ایسانہیں ہوسکتا
پچھلی پوسٹ
ہماری جمہوریت کو لیڈر کی تلاش

متعلقہ پوسٹس

امن و سکون کا راستہ: سنتِ رسول ﷺ

ستمبر 4, 2025

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

اور بنسری بجتی رہی

جون 14, 2020

کرونا بوسٹر

ستمبر 26, 2021

غزل گائیکی کی 110 سال کی ہوشربا داستان

نومبر 6, 2017

بچوں کا عالمی دن اور پاکستان کا مستقبل

نومبر 20, 2025

روشنی کے اندر زندگی

نومبر 24, 2024

عزت صحت اور محبت

جنوری 25, 2026

ایکسپورٹ امپورٹ

جنوری 3, 2020

بستر ہے ناتواں سا جوتا ہے بے سلائی

جون 3, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایران امریکہ جنگ بندی کے مصالحتی...

اپریل 26, 2026

اداروں کا احترام اور استحکام پاکستان

مئی 14, 2023

رازوں کی شام

دسمبر 15, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں