103
مزاج موسموں کے جھیلنے کی عادت ہے
کہ حبس کی نہیں اسکو کھلے کی عادت ہے
میں مشکلوں میں اسی در کو کھٹکھٹاتی ہوں
مجھے علی سے مدد مانگنے کی عادت ہے
یہ اختصار، خلاصے بیان کیسے کریں
خموشیوں کو بہت بولنے کی عادت ہے
وہ کہہ رہا تھا کہ مصروف ہو گیا ہے مگر
میں جانتی ہوں اسے بھولنے کی عادت ہے
زمیں پہ جابجا اکثر دکھائی دیتا ہے
جسے فلک سے زمیں دیکھنے کی عادت ہے
وہ بھیگی سڑکوں پہ شب بھر ٹہلتا رہتا ہے
مجھے بھی رات گئے جاگنے کی عادت ہے
شہلا خان
