خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےانجام بخیر
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

انجام بخیر

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن نومبر 14, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 14, 2019 0 تبصرے 561 مناظر
562

انجام بخیر

بٹوارے کے بعد جب فرقہ وارانہ فسادات شدت اختیار کر گئے اور جگہ جگہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے خون سے زمین رنگی جانے لگی تو نسیم اختر جو دہلی کی نوخیز طوائف تھی اپنی بوڑھی ماں سے کہا

’’چلو ماں یہاں سے چلیں‘‘

بوڑھی نائکہ نے اپنے پوپلے منہ میں پاندان سے چھالیہ کے باریک باریک ٹکڑے ڈالتے ہوئے اُس سے پوچھا

’’کہاں جائیں گے بیٹا۔ ‘‘

پاکستان۔ یہ کہہ کر وہ اپنے استاد خان صاحب اچھن خان سے مخاطب ہُوئی۔

’’خان صاحب آپ کا کیا خیال ہے یہاں رہنا اب خطرے سے خالی نہیں۔ ‘‘

خان صاحب نے نسیم اختر کی ہاں میں ہاں ملائی۔ تم کہتی ہو مگر بائی جی کو منا لو تو سب چلیں گے۔ نسیم اختر نے اپنی ماں سے بہتر کہا۔ کہ چلو اب یہاں ہندوؤں کا راج ہو گا۔ کوئی مسلمان باقی نہیں چھوڑیں گے۔ بڑھیا نے کہا تو کیا ہوا۔ ہمارا دھندہ تو ہندوؤں کی بدولت ہی چلتا ہے اور تمہارے چاہنے والے بھی سب کے سب ہندو ہی ہیں مسلمانوں میں رکھا ہی کیا ہے‘‘

’’ایسا نہ کہو۔ ان کا مذہب اور ہمارا مذہب ایک ہے۔ قائد اعظم نے اتنی محنت سے مسلمانوں کے لیے پاکستان بنایا ہے ہمیں اب وہیں رہنا چاہیے۔ ‘‘

مانڈو میراثی نے افیم کے نشہ میں اپنا سر ہلایا اور غنودگی بھری آواز میں کہا۔

’’چھوٹی بائی۔ اللہ سلامت رکھے تمھیں کیا بات کہی ہے۔ میں تو ابھی چلنے کے لیے تیار ہوں میری قبر بھی بناؤ تو رُوح خوش رہے گی۔ ‘‘

دوسرے میراثی تھے وہ بھی تیار ہو گئے لیکن بڑی بائی دلی چھوڑنا نہیں چاہتی تھی بالا خانے پر اُسی کا حکم چلتا تھا۔ اس لیے سب خاموش ہو گئے۔ بڑی بائی نے سیٹھ گوبند پرکاش کی کوٹھی پر آدمی بھیجا اور اُس کو بُلا کر کہا:

’’میری بچی آج کل بہت ڈری ہوئی ہے۔ پاکستان جانا چاہتی تھی۔ مگر میں نے سمجھایا۔ وہاں کیا دھرا ہے۔ یہاں آپ ایسے مہربان سیٹھ لوگ موجود ہیں وہاں جا کر ہم اُپلے تھاپیں گے آپ ایک کرم کیجیے۔ ‘‘

سیٹھ بڑی بائی کی باتیں سُن رہا تھا مگر اس کا دماغ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔ ایک دم چونک کر اُس نے بڑی بائی سے پوچھا۔

’’تو کیا چاہتی ہے‘‘

ہمارے کوٹھے کے نیچے دو تین ہندوؤں والے سپاہیوں کا پہرا کھڑا کر دیجیے تاکہ بچی کا سہم دور ہو۔ سیٹھ گوبند پرکاش نے کہا۔ یہ کوئی مشکل نہیں۔ میں ابھی جا کر سپریٹنڈنٹ پولیس سے ملتا ہوں شام سے پہلے پہلے سپاہی موجود ہوں گے۔ نسیم اختر کی ماں نے سیٹھ کو بہت دُعائیں دیں۔ جب وہ جانے لگا تو اس نے کہا ہم آپ اپنی بائی کا مجرا سُننے آئیں گے۔ بڑھیا نے اُٹھ کر تعظیماً کہا‘‘

ہائے جم جم آئیے آپ کا اپنا گھر ہے بچی کو آپ اپنی قمیص سمجھیے کھانا یہیں کھائیے گا۔

’’نہیں میں آجکل پرہیزی کھانا کھارہا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ اپنی توند پر ہاتھ پھیرتا چلا گیا۔ شام کو نسیم کی ماں نے چاننیاں بدلوائیں گاوتکیوں پر نئے غلاف چڑھائے زیادہ روشنی کے بلب لگوائے اعلیٰ قسم کے سگرٹوں کا ڈبہ منگوانے بھیجا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد نوکر حواس باختہ ہانپتا کانپتا واپس آ گیا۔ اُس کے منہ سے ایک بات نہ نکلتی تھی۔ آخر جب وہ کچھ دیر کے بعد سنبھلا تو اُس نے بتایا کہ چوک میں پانچ چھ سکھوں نے ایک مسلمان خوانچہ فروش کو کرپانوں سے اُس کی آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ہے جب اُس نے یہ دیکھا تو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا اور یہاں آن کے دم لیا۔ نسیم اختر یہ خبر سُن کر بے ہوش ہو گئی۔ بڑی مشکلوں سے خان صاحب اچھن خان اُسے ہوش میں لائے مگر وہ بہت دیر تک نڈھال رہی اور خاموش خلا میں دیکھتی رہی۔ آخر اُس کی ماں نے کہا

’’خون خرابے ہوتے ہی رہتے ہیں‘‘

کیا اس سے پہلے قتل نہیں ہوتے تھے۔ دم دلاسہ دینے کے بعد نسیم اختر سنبھل گئی تو اُس کی ماں نے اُس سے بڑے دُلاراور پیار سے کہا۔

’’اٹھو میری بچی جاؤ پشواز پہنو سیٹھ آتے ہی ہوں گے۔ نسیم نے بادل نخواستہ پشواز پہنی سولہ سنگھار کیے اور مسند پر بیٹھ گئی اُس کا جی بھاری بھاری تھا۔ اُس کو ایسا محسوس ہوتا تھا۔ کہ اُس مقتول خوانچہ فروش کا سارا خون اُس کے دل و دماغ میں جم گیا ہے اُس کا دل ابھی تک دھڑک رہا تھا وہ چاہتی تھی کہ زرق برق پشواز کی بجائے سادہ شلوار قمیص پہن لے اور اپنی ماں سے ہاتھ جوڑ کر بلکہ اُس کے پاؤں پڑ کر کہے کہ خدا کے لیے میری بات سُنو اور بھاگ چلو یہاں سے میرا دل گواہی دیتا ہے کہ ہم پر کوئی نہ کوئی آفت آنے والی ہے۔ بُڑھیا نے جھنجھلا کر کہا۔ ہم پر کیوں آفت آنے لگی ہم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے۔ ‘‘

نسیم نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا اس غریب خواچہ فروش نے کسی کا کیا بگاڑا تھا جو ظالموں نے اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ بگاڑنے والے بچ جاتے ہیں۔ مارے جاتے ہیں جنہوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا ہوتا۔ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ ایسے حالات میں کس کا دماغ دُرست رہ سکتا ہے۔ چاروں طرف خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں یہ کہہ کر وہ اُٹھی۔ بالکونی میں کھڑی ہو گئی اور نیچے بازار میں دیکھنے لگی۔ اسے بجلی کے کھمبے کے پاس چار آدمی کھڑے دکھائی دیے۔ جن کے پاس بندوقیں تھیں اُس نے خان اچھن کو بتایا اور وہ آدمی دکھائے ایسا لگتا تھا کہ وہی سپاہی ہیں جن کو سیٹھ نے بھیجا ہو گا۔ خان صاحب نے غور سے دیکھا۔

’’نہیں یہ سپاہی نہیں۔ سپاہیوں کی تو وردی ہوتی ہے مجھے تو یہ گُنڈے معلوم ہوتے ہیں۔ نسیم اختر کا کلیجہ دھک سے رہ گیا

’’گُنڈے‘‘

اللہ بہتر جانتا ہے۔ کچھ کہا نہیں جاسکتا لو یہ تمہارے کوٹھے کی طرف آ رہے ہیں۔ دیکھ نسیم کسی بہانے سے اُوپر کوٹھے پر چلی جاؤ میں تمہارے پیچھے آتا ہوں۔ مجھے دال میں کالا نظر آتا ہے۔ نسیم اختر چپکے سے باہر نکلی اور اپنی ماں سے نظر بچا کر اوپر کی منزل پر چلی گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد خان صاحب اچھن خان اپنی چندھی آنکھیں جھپکاتا اُوپر آیا اور جلدی سے دروازہ بند کر کے کنڈی چڑھا دی۔ نسیم اختر جس کا دل جیسے ڈُوب رہا تھا۔ خانصاحب سے پوچھا۔

’’کیا بات ہے‘‘

وہی جو میں نے سمجھا تھا۔ تمہارے متعلق پوچھ رہے تھے کہتے تھے سیٹھ گوبند پرکاش نے کار بھیجی ہے اور بلوایا ہے۔ تمہاری ماں بڑی خوش ہوئی بڑی مہربانی ہے اُن کی۔ میں دیکھتی ہوں کہاں ہے شاید غسل خانے میں ہو۔ اتنی دیر میں میں تیار ہو جاؤں‘‘

ان گنڈوں میں سے ایک نے کہا

’’تمھیں کیا شہد لگا کر چاٹیں گے بیٹھی رہو جہاں بیٹھی ہو خبردار جو تم وہاں سے ہلیں ہم خود تمہاری بیٹیوں کو ڈھونڈ نکالیں گے‘‘

میں نے جب یہ باتیں سُنیں اور ان گُنڈوں کے بِگڑے ہوئے تیور دیکھے تو کھسکتا کھسکتا یہاں پہنچ گیا ہوں۔ ‘‘

نسیم اختر حوا س باختہ تھی۔ اب کیا کیا جائے۔ ؟ خان نے اپنا سر کھجایا اور جواب دیا۔

’’دیکھو میں کوئی ترکیب سوچتا ہوں بس یہاں سے نکل بھاگنا چاہیے۔ اور ماں۔ ‘‘

اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا اس کو اللہ کے حوالے کر کے خود باہر نکلنا چاہیے اُوپر چار پائی پر دو چادریں پڑی ہوئی تھیں خان صاحب نے ان کو گانٹھ دے کر رسہ سا بنایا اور مضبوطی سے ایک گنڈے کے ساتھ باندھ کر دوسری طرف لٹکایا نیچے لانڈری کی چھت تھی وہاں اگر وہ پہنچ جائیں تو راستہ آگے صاف ہے لانڈری کی چھت کی سیڑھیاں دوسری طرف تھیں اُس کے ذریعے سے وہ طویلے میں پہنچ جاتے اور وہاں سائیں سے جو مسلمان تھا تانگہ لیتے اور اسٹیشن کا رُخ کرتے۔ نسیم اختر نے بڑی بہادری دکھائی۔ آرام آرام سے نیچے اُتر کر لانڈری کی چھت تک پہنچ گئی۔ خانصاحب اچھن خان بھی بحفاظت تمام اُتر گئے۔ اب وہ طویلے میں تھے سائیں اتفاق سے تانگے میں گھوڑا جوت رہا تھا دونوں اُس میں بیٹھے اور اسٹیشن کا رخ کیا مگر راستے میں ان کو ملٹری کا ٹرک مل گیا اُس میں مسلح فوجی مسلمان تھے جو ہندووں کے خطرناک محلوں سے مسلمانوں کو نکال نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچا رہے تھے جو پاکستان جانا چاہتے ان کو اسپیشل ٹرینوں میں جگہ دلوا دیتے۔ تانگہ سے اُتر کر نسیم اختر اور اُس کا اُستاد ٹرک میں بیٹھے اور چند ہی منٹوں میں اسٹیشن پر پہنچ گئے اسپیشل ٹرین اتفاق سے تیار تھی اس میں ان کو اچھی جگہ مل گئی اور وہ بخیریت لاہور پہنچ گئے یہاں وہ قریب قریب ایک مہینے تک والٹن کیمپ میں رہے۔ نہایت کسمپرسی کی حالت میں اس کے بعد وہ شہر چلے آئے نسیم اختر کے پاس کافی زیور تھا جو اُس نے اُس رات پہنا ہوا تھا جب سیٹھ گوبند پرکاش اُس کا مجرا سُننے آرہا تھا یہ اُس نے اُتار کر خان صاحب اچھن خان کے حوالے کر دیا تھا ان زیوروں میں سے کچھ بیچ کر اُنھوں نے ہوسٹل میں رہنا شروع کر دیا لیکن مکان کی تلاش جاری رہی آخر بدقت تمام ہیرا منڈی میں ایک مکان مل گیا جو اچھا خاصہ تھا اب خانصاحب اچھن خان نے نسیم اختر سے کہا

’’گدے اور چاندنیاں وغیرہ خرید لیں اور تم بسم اللہ کر کے مجرا شروع کر دو۔ ‘‘

نسیم نے کہا۔

’’نہیں خان صاحب میرا جی اکتا گیا ہے میں تو اس مکان میں بھی رہنا پسند نہیں کرتی کسی شریف محلے میں کوئی چھوٹا سا مکان تلاش کیجیے۔ کہ میں وہاں اُٹھ جاؤں میں اب خاموش زندگی بسر کرنا چاہتی ہوں۔ خان صاحب کو یہ سُن کر بڑی حیرت ہوئی۔ کیا ہو گیا ہے تمھیں‘‘

بس جی اچاٹ ہو گیا ہے میں اس زندگی سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتی ہوں دعا کیجیے خدا مجھے ثابت قدم رکھے

’’یہ کہتے ہوئے نسیم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ خانصاحب نے اُس کو بہت ترغیب دی پر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی ایک دن اُس نے اپنے اُستاد سے صاف کہہ دیا کہ وہ شادی کر لینا چاہتی ہے اگر کسی نے اسے قبول نہ کیا تو وہ کنواری رہے گی۔ خان صاحب بہت حیران تھا۔ کہ نسیم میں یہ تبدیلی کیسے آئی فسادات تو اس کا باعث نہیں ہوسکتے پھر کیا وجہ تھی کہ وہ پیشہ ترک کر نے پر تُلی ہوئی ہے۔ جب وہ اُسے سمجھا سمجھا کر تھک گیا تو اسے ایک محلے میں جہاں شرفاء رہتے تھے ایک چھوٹا سا مکان لے دیا اور خود ہیرا منڈی کی ایک مالدار طوائف کو تعلیم دینے لگا۔ نسیم نے تھوڑے سے برتن خریدے ایک چارپائی اور بستر وغیرہ بھی ایک چھوٹا لڑکا نوکر رکھ لیا اور سکون کی زندگی بسر کرنے لگی پانچوں نمازیں پڑھتی۔ ‘‘

روزے آئے تو اس نے سارے کے سارے رکھے ایک دن وہ غسل خانے میں نہا رہی تھی کہ سب کچھ بھول کر اپنی سُریلی آواز میں گانے لگی اُس کے ہاں ایک اور عورت کا آنا جانا تھا نسیم اختر کو معلوم نہیں تھا کہ یہ عورت شریفوں کے محلے کی بہت بڑی پھپھا کٹنی ہے شریفوں کے محلے میں کئی گھر تباہ و برباد کر چکی ہے کئی لڑکیوں کی عصمت اونے پونے داموں بِکوا چکی ہے کئی نوجوانوں کو غلط راستے پر لگا کر اپنا الو سیدھا کرتی رہتی ہے جب اُس عورت نے جس کا نام جنتے ہے نسیم کی سُریلی اور منجھی ہوئی آواز سُنی تو اُس کو فوراً خیال آیا کہ اس لڑکی کا آگا ہے نہ پیچھا بڑی معرکے کی طوائف بن سکتی ہے چنانچہ اُس نے اس پر ڈورے ڈالنے شروع کر دئیے اس کو اس نے کئی سبز باغ دکھائے مگر وہ اس کے قابو میں نہ آئی آخر اُس نے ایک روز اس کو گلے لگایا اور چٹ چٹ اس کی بلائیں لینا شروع کر دیں۔ جیتی رہو بیٹا۔ میں تمہارا امتحان لے رہی تھی تم اس میں سولہ آنے پوری اُتری ہو۔ نسیم اختر اس کے فریب میں آگئی ایک دن اُس کو یہاں تک بتا دیا کہ وہ شادی کرنا چاہتی ہے کیونکہ ایک یتیم کنواری لڑکی کا اکیلے رہنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ جنتے کو موقع ہاتھ آیا۔ اُس نے نسیم سے کہا۔ بیٹا یہ کیا مشکل ہے میں نے یہاں شادیاں کرائی ہیں سب کی سب کامیاب رہی ہیں اللہ نے چاہا تو تمہارے حسب منشا میاں مل جائے گا جو تمہارے پاؤں دھو دھو کر پئے گا۔ جنتے کئی فرضی رشتے لائی مگر اُس نے ان کی کوئی زیادہ تعریف نہ کی آخر میں وہ ایک رشتہ لائی جو اس کے کہنے کے مطابق فرشتہ سیرت اور صاحب جائیداد تھا نسیم مان گئی تاریخ مقرر کی گئی اور اُس کی شادی انجام پا گئی۔ نسیم اختر خوش تھی کہ اس کا میاں بہت اچھا ہے اس کی ہر آسائش کا خیال رکھتا ہے لیکن اُس دن اُس کے ہوش و حواس گم ہو گئے جب اُس کو دوسرے کمرے سے عورتوں کی آوازیں سنائی دیں دروازے میں سے جھانک کر اس نے دیکھا کہ اس کا شوہر دو بوڑھی طوائفوں سے اُس کے متعلق باتیں کر رہا ہے جنتے بھی پاس بیٹھی تھی۔ سب مل کر اس کا سودا طے کررہے تھے اس کی سمجھ میں نہ آیا کیا کرے اور کیا نہ کرے بہت دیر روتی سوچتی رہی آخر اُٹھی اور اپنی پشواز نکال کر پہنی اور باہر نکل کر سیدھی اپنے اُستاد اچھن خان کے پاس پہنچی اور مجرے کے ساتھ ساتھ پیشہ بھی شروع کر دیا ایک انتقامی قسم کے جذبے کے تحت وہ کھیلنے لگی۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہوئے مر کے ہم جو رسوا
  • گزر گیا اک برس اور ذندگی کا
  • بچوں پر حقیقی انویسٹمنٹ
  • زبانِ غیر یا غیبت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بند آنکھوں میں کوئی خواب بھی ہو سکتا ہے
پچھلی پوسٹ
آصف نے کہا

متعلقہ پوسٹس

بی زمانی بیگم

جنوری 24, 2020

کفن دفن​

نومبر 22, 2019

مرد کی آمریت

ستمبر 20, 2020

اللہ کو بھولنے سے لے کر اللہ سے جڑنے تک...

نومبر 9, 2020

کشتی کی وہ سنہری شام

دسمبر 22, 2024

آنکھوں کے راز اور خول

مارچ 24, 2026

فیڈ آؤٹ فیڈاِن

جنوری 2, 2022

سرگزرِ عدم کی سرحد پر

دسمبر 25, 2024

مدھر ملن کی شبھ گھڑی

مئی 17, 2024

بھینٹ

جون 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بھارتی فالس فلیگ آپریشن کی سیاست

اپریل 26, 2025

فیلڈ مارشل کا وژن

نومبر 27, 2025

شجاع شاذ – تغیر و تبدل...

اپریل 15, 2016
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں