496
بند آنکھوں میں کوئی خواب بھی ہو سکتا ہے
وہ سمندر ہے تو پا یاب بھی ہو سکتا ہے
میری آنکھوں کے سمندر میں اتر کر دیکھو
اک جزیرہ تو تہ ِ آب بھی ہو سکتا ہے
آج پھر دل میں تری یاد نے کروٹ لی ہے
یہ محبت کا نیا باب بھی ہو سکتا ہے
میری آنکھوں میں اداسی کا ہے بنجر صحرا
میرے اشکوں سے یہ سیراب بھی ہو سکتا ہے
عین ممکن ہے وہ تصویر کے جیسا نکلے
عکس ِ مہتاب ہے مہتاب بھی ہو سکتا ہے
آنکھ بے نور بھی ہو سکتی ہے بن دیکھے تجھے
دل ترے ہجر میں بے تاب بھی ہو سکتا ہے
بغض رکھتے ہیں نبی زادی کے گھر سے جو عدید
اس کی پیشانی پہ محراب بھی ہو سکتا ہے
سید عدید
